کالم

پنگھٹ یا پتن

وقت کے دھارے کی مانند لیہ کی غربی جانب دریائے سندھ کے (لڑ)لالہ کی روانی یوں تو اب بھی جاری و ساری ہے۔ مگر امتدادِ زمانہ کے ساتھ اس کی وہ شفافیت جاتی رہی،ماضی قریب میں اس کاپانی اس قدر صاف و شفاف تھا کہکشتیوں کے پل سے گزرنے والے مسافر اس کے پانی کو آبِ حیات جان کر پیتے تھے۔
پنگھٹ
ہندی زبان کا ’’پنگھٹ‘‘ پتن کے ہم معنی لفظ ہے، جس کا مطلب پانی بھرنے کا مقام، کنواں یا بہتے پانی کا کنارا ہے، جسے گھاٹ بھی کہتے ہیں۔ یعنی وہ جگہ جہاں لوگ نہاتے دھوتے یا کشتی میں چڑھتے اُترتے ہیں۔پتن” سرائیکی زبان کا بھی یہی لفظ ہے، جس کے معنے دریا کا کنارہ کے ہیں۔( جہاں سے کشتی ایک کنارے سے دو سرے کنارے پر لوگوں کو پہنچاتی ہے اور یہ سلسلہ ہزاروں سال سے چلتا آ رہا ہے) یہ کشتیاں لوگ نسل در نسل چلاتے آ رہے ہیں اور ان ملاحوں کا تعلق زیادہ تر ایک قوم ”موہانہ” سے ہوتا ہے۔ اس بڑے لکڑی کے بیڑے میں لوگ، جانور، بیل گاڑی، ٹریکٹر، فصلیں اور ضروریات زندگی کا تمام سامان روزانہ ایک علاقہ سے دوسرے علاقے پہنچایا جاتا ہے۔ ماضی میں پتن سے دریا کا یہ خوبصورت علاقہ کبھی ویران نہیں رہتاتھا۔جنوبی پنجاب میں غازی خان میرانی جس نے ڈیرہ غازیخان کا شہر آباد کیا کے نام پر غازی گھاٹ کشتیوں کی قیام گاہ تھی ۔ اب وہاں غازی گھاٹ کے نام سے ایک پل بن گیا جو پہلے کشتیوں کا پل تھا ۔نشیبی علاقہ میں جسے مقامی زبان میں کچے کا علاقہ کہا جاتا ہے آج بھی کشتیاں مشرقی کنارے کے مسافروں کو لیکر دریائے سندھ کے غربی کنارے اتارتی ہیںپتن پر کھڑی سواریاں کشتیوں کے انتظار میں ہوتی ہیں۔کچے کا علاقہ ماجھے کا علاقہ بھی کہلاتا ہے جہاں یہاں کے باسی بھینسیں چرایا کرتے ہیں اور پتن پر بھینسوں کو پانی پلاتے ہیں لیہ شہر کے مغرب سے گزرنے والے دریائے سندھ کی ایک شاخ جسے ’’لالہ ‘‘ کہا جاتا ہے پر دھوبی والی پتنی ہوا کرتی تھی اب دریائوں میں پانی کی وہ روانی نہیں رہی اس بنا پر اس پتنی پر ایک پل بن گیا ہے۔ خوشاب کے گائوں چوآ میں دور پہاڑی کی اوٹ میں ایک چشمے جس کا نام ’’سُلہے والا‘‘تھا کا پانی پہاڑی ڈھلوان سے بہہ کر جمع ہو جاتا تھا اور اس شفاف پانی جو پنگھٹ کی شکل میں جمع ہوتا تھا گائوں کی عورتیں کپڑے دھونے جایا کرتی تھیں مگر استبداد زمانہ نے اب اس کے آثار مٹا دیئے ہیںسروں پر پانی کے گھڑے رکھے کسی دور میں میلوں کا سفر طے کرکے عورتیں پنگھٹ سے پانی بھرنی جایا کرتی تھیں .پشتون سماج نے اسے ثقافت کا حصہ بنایا ۔ اور پشتو زبان میں اسے گودرکہا جاتا ہے۔ اس کی شہرت کی وجہ رومانیت بھی ہے۔ پشتو شاعری خاص کر رومانی گیت اس کے بغیر بے معنی ہیں۔پشتو کے گیتوں میں بھی خاص طور پر اس کا ذکر ملتا ہے ۔منگے (مٹکا) اور گودر (پنگھٹ) لازم و ملزوم تھے۔ اس کے ساتھ کسی دوشیزہ کا ذکر آتا، تو عاشقانہ مزاج گویا دھمال پر مجبور ہوجاتا۔ اس لیے تو جوان گاتے گنگناتے دور سے گودر کا نظارہ کرتے۔ علی الصبح، عصر اور عشا کے اوقات میں گودر کا میلہ سجتاتھا۔عام طور پر عصر کا وقت زیادہ مشہور ہے۔ عورتوں کے اس میلے میں کوئی اپنے ساجن کا انتظار کرتا تھا، تو کوئی اپنے گھر کی کہانی سناتا پایا جاتا۔ ایک دوسرے پر پانی پھینکا جاتا اور ایک دوسرے کو چھیڑا جاتا، جس سے کبھی کبھار جنگ بھی چھڑ جاتی۔ مثلاً یہ پشتو ٹپہ ملاحظہ ہو
پہ گودر جنگ د جینکو دے
منگی ئی مات کڑل پہ غڑو ویشتل کوینہ
یہ تماشا ممکن تھا۔ کیوں کہ پشتون معاشرے نے گودر(پنگھٹ ) میں خواتین کے لیے اوقات مقرر کیے تھے۔ ان اوقات میں کسی کی مجال نہ تھی کہ گودر جانے یا گودر جانے والے راستے کے آس پاس بھٹکنے کی کوشش بھی کرتا۔شہباز محمد، میجر راورٹی کی 1858ء کی ایک رپورٹ کا ترجمہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’گاؤں پیتئی (فتح پور) میں دریا کے کنارے پتھر اور گارے کے غسل خانے (چار چوبئی) بنائے گئے ہیں، جس میں صبح سویرے عورتیں نہاتی ہیں۔ اس وقت مرد وہاں نہیں آسکتے۔‘‘قارئین، پنگھٹ اور درخت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جہاں جہاں چشمہ ہوا کرتا تھا، وہاں وہاں درخت بھی موجود ہوتا تھا۔ بغیر درخت کے پنگھٹ بہت کم تھے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب گھر بار کے اکثر کام خواتین کیا کرتی تھیں۔ ساون کے موسم میں ان درختوں پر جھولے پڑتے تھے اور معاشرہ بالکل زرعی تھا۔ جوں ہی معاشرہ بدلنے لگا، ساتھ چیزیں بھی بدلنے لگیں، جس سے میدانی گاؤں اور قصبوں میں ’’پنگھٹ ‘‘کا رواج ختم ہوگیا۔ لیکن اب بھی پانی کی قلت والے علاقوں میں عورتیں پانی بھرنے ’’پنگھٹ ‘‘پرجاتی ہیں۔ یعنی’’پنگھٹ‘‘اب بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔
رحیم یار خان سے قریبا ًچھ میل جنوب مشرق میں صحرائے چولستان کے خشک شدہ دریائے ہاکڑ ہ کے کنارہ ایک عظیم الشان قدیم شہراوراہم دریائی بندرگاہ کے کھنڈرات موجود ہیں.یہاں کسی دور میں پتن ہوا کرتا تھا جسے آج بھی پتن منارہ کہا جاتا ہے ۔ پتن منارہ دریائے ہاکڑہ کی وادی کااپنے تمدنی امتیازات کی وجہ سے پاکستان کے قدیم ماضی کا ایک شاندار تاریخی ورثہ ہے پتن منارہ کے کھنڈرات سے بدھ مت کی ایک پختہ خانقاہ کے آثار بھی ملے ہیں لہٰذا اخلاقی اور روحانی طور پربھی اس کا ایک اونچا مقام ہے کیوں کہ یہاں پر نیکی، سچائی،پاکیزگی اور پر ہیزگاری کا دور بھی گزرا ہے۔یہاں پر تعلیمی اور تبلیغی مراکز بھی قائم تھے اور ثقافتی،مذہبی تہوار منائے جاتے تھے۔پتن منارہ کا قدیم شہر وادی سندھ کے عین وسط میں ہونے کی وجہ سے موئن جودڑو اور ہڑپہ کا ہم عصر رہا ہے۔ دنیا کے تما م بڑے بڑے شہر عہد قدیم میں دریائوں کے کنارے آباد ہوئے اور مختلف علاقوں کی تہذیبیں دراصل دریائوں کی ہی تہذیبیں کہلاتی ہیں۔گردش ایام کو آگے کی طرف دوڑا کر چشم تصور سے دیکھتے ہیں ۔یہ نوے کی دہائی کا منظر ہے۔ گاؤں کی وہ پگڈنڈی جس پر ہروقت انسانوں کی چہل پہل رہتی تھی اب وہاں قدموں کے نشان مٹتے جارہے ہیں۔جس چوپال میں حقے کی نال ایک دوسرے کی طرف بڑھاتے بزرگ آپس میں گپ شپ کیا کرتے تھے وہاں وقت کی مکڑی نے جالا تان رکھا ہے۔گھنے چھاؤں کے حصار میں گھرے تقریباً ایک صدی سے چلنے والے رہٹ پر بیلوں کے گلے میں بجنے والی گھنٹیوں کی مترنم آواز کو خاموشی نے نگل لیا ہے۔جس گاؤں میں دیہاتیوں کے قہقہے گونجتے تھے وہاں اب ویران ہمکتی تنہائی سناٹے کے شور میں کروٹ لیتی اداسی سرگوشی کی صورت میں ایک خوفناک تبدیلی کا پیغام دے رہی ہے۔گاؤں کی رونقیں بوجھل قدموں کی چاپ لیے شہروں میں پناہ لینے چل پڑی ہیں۔گاؤں کے گھروں میں جن منڈیروں پر کائیں کائیں کرتے کوے کسی متوقع مہمان کی آمد کی خبر دیا کرتے تھے وہ خود اب کسی مناسب مقام کی طرف ہجرت کرگئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: