کالم

نظام ڈی ریل ہونے کو ہے؟

عمران خان پر قاتلانہ حملہ کے بعد پی ٹی آئی ایک نئے جذبے اور نئے بیانیے کے ساتھ ملک میں دنگا فساد مچانے میں مصروف ہو گئی ہے قاتلانہ حملے کے موقع پر مسلح گولی چلانے والا گرفتار بھی ہو چکا ہے جس نے عمران خان کو قتل کرنے کا اظہار بھی کر دیا اور انہیں قتل کرنے کی وجوہات بھی بیان کر دیں،اعترافی بیان ریکارڈ ہو اور پھر قومی الیکٹرانک میڈیا پر نشر بھی کرا دیا گیا، حیران کن بات یہ ہے کہ اعترافی بیان مکرر نشر کرایا گیا حالانکہ قتل یا اقدام قتل کے ملزم کا اعترافی بیان عدالت پیشی تک پولیس حفاظتی تحویل میں رکھتی ہے لیکن اس ہائی پروفائل کیس میں ایسا نہیں کیا گیا؟ قاتل کو رنگے ہاتھوں پی ٹی آئی کے ایک ٹائیگر نے قابو کیا اور پھر پنجاب پولیس کے حوالے کیا۔وزیر آباد ہمارے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا حلقہ اثر ہے وہی یہاں عمران خان کے لانگ مارچ کے میزبان بھی تھے۔پنجاب کی پولیس، تمام صوبائی انٹیلی جنس ایجنسیاں صوبائی حکومت کے ماتحت ہیں چودھری صاحب عمران خان کے پُرجوش حلیف اور ان کے بیٹے مونس الٰہی عمران خان کے ذاتی طور پر بھی چاہنے والے دیوانے ہیں،اور وہ لانگ مارچ کا تاریخی استقبال کرنے کا اعلان بھی کر چکے تھے ایسے میں عمران خان پر حملے نے قومی سطح پر ہلچل مچا دی، شور و غوغا مچاپھر جب عمران خان صاحب کو قریبی ہسپتال لے جانے کی بجائے میلوں دور لاہور میں واقع شوکت خانم لے جایا گیا تو دیکھنے و سننے والوں کے ماتھوں پر بل پڑنے شروع ہو گئے پھر جب قاتل کا اعترافی بیان نیشنل میڈیا پر نشر ہوا تو ”اقدام قتل“ پر شکوک و شبہات کے بادل چھانے لگے۔
مکرر اشاعت نے شکوک و شبہات کو اور بھی تقویت دی پھر جب عمران خان نے شہباز شریف،رانا ثناء اللہ اور حاضر سروس فوجی افسر کو نامزد کر کے ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان کیا تو ”سازش کی بلی“ تھیلے سے باہر نکل آئی اِس وقت سے ہنوز عمران خان اپنا بیانیہ تشکیل دے کر ملک کو فتنہ و فساد میں دھکیلنے میں مصروف ہیں، قتل کے واقعات کے بارے میں ماہرین سازش پر متفق ہوتے نظر آ رہے ہیں اور سازشی کوئی اور نہیں بلکہ خود عمران خان نظر آنے لگے ہیں۔25مئی کے لانگ مارچ/دھرنے کی ناکامی کے بعد عمران خان ایک نئے جذبے اور جرائیت کے ساتھ تاریخی لانگ مارچ کی تیاری میں لگ گئیانہوں نے لگاتار جلسے کیے اور لاجواب تقریریں کیں ویسے تو ان کی تقاریر میں کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن انہوں نے اپنی تقاریر کے ذریعے حکومتی اکابرین اور فوج کے سالار اور دیگر عمائدین کے خلف خوب زہر اگلا۔نفرت اور دشمنی کی مسموم فضا تیار کرنے کی کوشش کی پھر جب ان کی طویل تیاری کی عملی شکل لانگ مارچ کا وقت آیا تو ہم نے دیکھا کہ عوام کا سمندر یا دریا تو دور کی بات ہے نہریں اور ندیاں بھی شکل سے ہی نظر آئیں۔ لبرٹی چوک اور پھر داتا دربار چوک میں لانگ مارچ کی ابتداء بڑی مایوس کن تھی۔ وزیر آباد تک یہ مایوسی بڑھتی چلی گئی۔مخالفین و ماہرین کا کہنا ہے کہ مایوس کن صورت حال سے نکلنے کے لئے عمران خان نے قاتلانہ حملے کی منصوبہ سازی کی تاکہ نفرت اور دشمنی کے جذبات کو ہوا دے کر انتقام کی آگ بھڑکائی جا سکے لیکن قاتلانہ حملے کے بعد ایسی فضا دیکھنے میں نہیں آئی۔ عمران خان کے منصوبے کے مطابق پنجاب حکومت نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا گزرے چند دِنوں کے دوران عمران خان کا سازشی منصوبہ سامنے آنے لگا ہے اور لوگوں کو خاصی حد تک یقین ہو چکا ہے کہ قاتلانہ حملہ اصلی نہیں تھا کیونکہ اگر اصلی ہوتا تو عمران خان رخصت ہو چکے ہوتے، اب مزید مایوسی کے تحت پی ٹی آئی کے کارکنان کو دنگا فساد اور نقص امن پیدا کرنے پر لگا دیا گیا ہے کیونکہ اس کام کے لیے زیادہ افرادی قوت درکار نہیں ہوتی اور تشدد کے ذریعے مطلوبہ نتائج جلد حاصل کئے جانے کی امید ہے۔

عمران خان سیاسی جنگ مکمل طور پر ہار چکے ہیں 10اپریل کو اسمبلی میں انہیں ووٹ کی طاقت کے ذریعے شکست فاش ہو چکی ہے،26 مئی کو ان کی سٹریٹ پاور اور دھمکی و دھونس کا بیانیہ بھی پٹ چکا ہے۔فوری انتخابات کا مطالبہ اپنی موت آپ مر چکا ہے ان کی لانگ مارچ کی تیاریاں،عملی میدان میں رنگ لانے اور جمانے میں قطعاً ناکام ہو چکی ہیں۔قاتلانہ حملے کا ڈرامہ بھی فلاپ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ عمران خان کسی طور بھی حکومت کو ڈرانے اور جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اس لیے اب وہ راست ایکشن یعنی توڑ پھوڑ اور دنگے فساد کے ذریعے حکومت کو ناکام بنانے اور تیسری قوت کو میدان میں لانے کی آخری کوشش کر رہے ہیں۔دیکھتے ہیں کہ ان کی اس نئی سازش کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔

دوسری طرف اتحادی حکومت کی مصالحانہ پالیسی، بزدلی اور ناکامی کا تاثر دینے لگی ہے حکومت ابھی تک عمران خان کی احتجاجی سیاست کے آگے بے بس ہی نہیں بلکہ بڑی حد تک ناکام نظر آ رہی ہے حد یہ ہے کہ مسلح افواج کے خلاف عمران خان کے نفرت انگیز بیانیے کا رد کرنے کے لیے ڈی جی آئی ایس آئی کو خود میدان میں آنا پڑا۔یہ حکومت کی نااہلی اور ناتوانی کا نتیجہ ہے کہ فوج اپنا دفاع کرنے کے لیے اس حد تک آ جائے یہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ آئین کے مطابق ادارے کا تحفظ کیا جائے اور آئین و قانون شکنی کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر اس حوالے سے حکومت سے کارروائی کرنے کا کہہ بھی چکے ہیں لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس اقدام دیکھنے میں نہیں آیا ہے جبکہ عمران خان کی جولانیاں اور پی ٹی آئی کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں، عمران خان بغاوت کو ہوا دے رہے ہیں وہ ایک سیاست دان کے طور پر نہیں بلکہ ایک جارح اور ریاست کے باغی کے طور پر ہر آئینی اور قانونی ریڈ لائن کو کراس کرتے چلے جا رہے ہیں۔ان کی زبان، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ہر آئینی اور قانونی سرخ لائن کو تہس نہس کرتے جا رہے ہیں جبکہ حکومت اپنے آئینی و قانونی فرائض ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان اپنے شیطانی اور فسادی ایجنڈے پر بڑی حکمت و تدبر کے ساتھ کامیابی کی منازل طے کرتے چلے جا رہے ہیں حتیٰ کہ اگر وہ نہیں تو کوئی بھی نہیں اور ابھی نہیں تو کبھی نہیں کے مصداق نظام ڈیل ریل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو موجودہ حکمران بھی اس گناہ کبیرہ میں عمران خان کے ساتھ برابر کے شریک تصور کیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: