پاکستانتازہ ترین

مغربی تہذیب اور ہندوستانی حالات، علامہ اقبال کی نگاہ قائد اعظم پر جا ٹکی

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال سیالکوٹ میں 9 نومبر 1877ء کو پیدا ہوئے۔ والد شیخ نور محمّد ایک دیندار انسان تھے۔ علامہ اقبال کی پرورش بھی گھر کے پاکیزہ اور بہترین ماحول میں ہوئی۔
دینی مدرسہ میں عربی میں تعلیم حاصل کی۔ پانچ سال کی عمر میں مشن ہائی اسکول سیالکوٹ میں داخلہ لیا اور یہیں سے میٹرک تک تعلیم حاصل مرے کالج سیالکوٹ سے ایف-اے کیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم-اے کا امتحان پاس کیا۔ یہاں انہیں ایک انگریز پروفیسر آرنلڈ جیسے استاد مل گئے۔ اسی زمانے میں انہوں نے شعر و شاعری بھی شروع کر دی۔
مزید تعلیم کیلے انگلستان چلے گئے۔ جہاں سے وکالت اور جرمنی سے پی-ایچ-ڈی کی ڈگری حاصل کی
یہ سفر ان کے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔ مغربی تہذیب میں بہت سی خامیاں نظر آئیں اور یوں اسلام پر ان کا عقیدہ اور بھی پختہ ہوگیا۔
انہوں نے ہندوستان میں بھی دو قوموں کا واضح فرق دیکھ لیا تھا اور دن بدن ہندو کی مسلمانوں کیلئے نفرت ان کی نگاہوں سےچھپی نہ تھی
ان پر واضح ہو چکا تھا کہ دیکھ لیا کہ مسلمان اور ہندو دو علیحدہ علیحدہ قومیں ہیں اور دونوں مل کر نہیں رہ سکتیں۔ اب انہوں نے ایک علیحدہ مملکت کا خواب دیکھا مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ملک کا خواب
اس خواب کی تعبیر کےلئے ان کی نظر ان کی نگاہ عظیم رہنما قائد اعظم محمد علی جناح پر جا ٹکی
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے،،
لندن میں تین گول میز کانفرنسیں ہوئی تھیں. محمد علی جناح پہلی اور دوسری کانفرنس میں تو شریک تھے لیکن تیسری کانفرنس جو ۱۹۳۲ء میں ہوئی اس میں شریک نہیں ہوئے‘ اس لیے کہ وہ سیاست کو خیرباد کہہ کر قانون کی پریکٹس کر رہے تھے. علامہ اقبال اس میں شریک ہوئے

علامہ اقبال لندن قائد اعظم سے ملے انہوں نے مسلمانوں کےلئے ایک علیحدہ ملک کے حصول کی بات کی ۔علامہ اقبال نے قائد اعظم سے کہا آپ اسلام کے احیاء کی بات کریں‘ یہ چیز مسلمانوں کے جذبات کے اندر گرمی اور حرارت پیدا کر ے گی. علامہ اقبال کی تحریک نے قائداعظم کو سوچنے پر مجبور کر دیا ۔

اور پھر 1934 میںقائداعظم ہندوستان واپس آ گئے اور انہیں مسلم لیگ کا تاحیات صدر بنا دیا گیا. 1936کے انتخابات میں کانگریس فیصلہ کن اکثریت سے جیت گئی اس جیت نے ہندوں کی مسلمانوں سے نفرت عیاں کردی اور مسلمانوں کےلئے علیحدہ ملک کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ علامہ اقبال قائداعظم کے ساتھ ساتھ رہے اور یوں ہر مسلمان کے دل میں علیحدہ ملک کی شمع روش ہو گئی ۔
شاعرمشرق علامہ اقبال نے اپنی شاعری سے نوجوانوں کے دل کو گرمایا ۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نہیں ترا نشیمن قصرِ سلطانی کی گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
علامہ اقبال اپنی شاعری سے وہ کر دکھا یا جو کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔توحید پر پختہ یقین اور جناب رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ان کی محبت ایک روشن مثال کی طرح سے سب پر آج بھی عیاں ہے ۔
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کر دے
علامہ اقبال نے 21 اپریل 1938 کو وفات پائی ان کا مزار بادشاہی مسجد کے سائے میں واقع ہے جہاں لوگ فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔بیرون ملک سے آنیوالے رہنما بھی علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دینا اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں۔
14 اگست 1947کو جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو قائداعظم نے علامہ اقبال کو بہت یاد کیا۔ان کے خواب کے تعبیر مل گئی ایک نیا وطن دنیا میں اپنا وجود پاگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: