کالم

سجاد ظہیر اور فیضَِِِِ  ۔۔  نہ اب ہم ساتھ سیر گل کریں گے

زاہدہ حنا

سجاد ظہیر کا تعلق اودھ کے بہت تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ ان کے والد سر وزیر حسن اودھ کے چیف جسٹس اور بھائی انڈونیشیا میں ہندوستان کے پہلے سفیر تھے۔سجاد ظہیر کے خاندان کا پنڈت جواہر لعل نہرو کے خاندان سے کافی قریبی تعلق تھا۔ سجاد ظہیر نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی۔ پنڈت نہرو کی خواہش تھی کہ وہ کانگریس میں شمولیت اختیار کریں لیکن نوجوان سجاد ظہیر مارکسی نظریے سے متاثر ہوکر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں شامل ہوگئے، اس وقت پارٹی ممنوع تھی۔آگے چل کر کمیونسٹ پارٹی نے پاکستان کے تصور کو قبول کرتے ہوئے مسلم لیگ کی حمایت شروع کردی۔ تقسیم کے بعد انھیں پاکستان جاکر پارٹی منظم کرنے کی ذمے داری سونپی گئی کیونکہ پنجاب اور سندھ میں پارٹی ارکان کی بڑی تعداد سکھوں اور ہندوئوں پر مشتمل تھی جو تقسیم کے بعد پاکستان سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔سجاد ظہیر نے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل کے طور پر کام کا آغاز کیا۔ ان کو 1951ء میں بہت سے دیگر ساتھیوں سمیت راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کرلیا گیا۔ پاکستان میں انھوں نے تمام عرصہ زیرزمین یا جیل میں رہ کر گزارا۔ وہ 1948 میں پاکستان آئے اور پنڈی سازش کیس سے رہائی کے بعد 1955 میں ہندوستان واپس چلے گئے۔سجاد ظہیر کا تعلق اشرافیہ خاندان سے تھا لیکن انھوں نے پوری زندگی محنت کش طبقے کے لیے وقف کردی تھی۔ اس زمانے میں اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آزادی اور انقلاب کی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھیں۔ سجاد ظہیر کی شخصیت کئی حوالوں سے دیگر نوجوان انقلابیوں سے مختلف تھی۔ وہ صرف نظریہ دان اور باعمل اشتراکی ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ تھے۔سجاد ظہیر ایک بڑے ادیب تھے۔ ان کا ناول ’’لندن کی ایک رات‘‘ بہت مشہور ہوا تھا۔ اردو ادب میں ’’شعور کی رو‘‘ کی تکنیک کا پہلی بار استعمال اس ناول میں کیا گیا تھا جسے قرۃ العین حیدر نے ’’آگ کا دریا‘‘ لکھ کر بام عروج پر پہنچادیا۔ کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ سجاد ظہیر بہت اعلیٰ مترجم بھی تھے۔ انھوں نے شیکسپیئر، والٹیئراور خلیل جبران کی تصانیف کے ترجمے کیے۔تنقید کے میدان میں بھی انھوں نے اپنا لوہا منوایا۔ اس حوالے سے ان کی کتاب ’’ذکر حافظ‘‘ بڑی اہم ہے جسے پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ تنقید کے میدان میں ان کا مقابلہ محض چند نقاد ہی کرسکتے تھے۔ یہ کتاب انھوں نے اسیری کے دوران لکھی تھی۔حافظؔ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’حافظؔ‘ پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے علم و فلسفے کی راہ کو ترک کردینے کی ترغیب دی ہے اور کہا ہے کہ ان کی مدد سے حقیقت ہم پر آشکار نہیںہوسکتی۔ بادیٔ النظر میں یہ بات غلط اور ناقابل قبول معلوم ہوتی ہے، لیکن ایسا کرنے سے پہلے ہمیں حافظ کا مفہوم سمجھ لینا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ وہ کس قسم کے علم اور کس طرح کی حکمت کو ناقص تصور کرتا ہے۔حافظؔ کو علم و خرد، ہنر و حکمت پر عام اعتراض نہیں ہے۔ وہ خود ایک عالم، ہنرمند، اور جفا کش انسان تھا اور اس کے کلام کو پڑھنے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے عہد کے ایک خاص قسم کے علماء اور ان کی عقل اور ان کی حکمت کو ناکارہ اور گمراہ کن سمجھتا تھا۔ علماء نے علم سے علم دین مراد لے کر اس کی وسعت کو کافی محدود کردیا تھا۔ صوفیاء حضرات خود اس قسم کے علم کے مخالف تھے۔ چنانچہ سید علی ہجویری داتا گنج نے ’’کشف المحجوب‘‘ میں ایک جگہ لکھا ہے:’’پس جو شخص کسی چیز کے معنی اور اس کی حقیقت سے واقف ہو اس کو عارف کہتے ہیں اور جو کوئی صرف عبارت ہی کے یاد کرنے میں مشغول رہے اور اس کے معنی کو نہ یاد کرے اس کو عالم کہتے ہیں اور اسی وجہ سے لوگ اس گروہ کو خفت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کو دانشمند کہتے ہیں اور عوام اس کو برا مانتے ہیں۔‘‘حافظؔ تصوف کے اس عام عقیدے کو قبول کرتا ہے کہ ذات باری تعالیٰ ہی حقیقت مطلق اور حسن مطلق ہے جو تمام کائنات میں جاری و ساری ہے۔ کائنات کے تخلیق کے پہلے دن (روز اوّل) اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات میں سے انسان کو ہی اپنے بار امانت سے سرفراز کیا۔ انسان تمام کائنات میں افضل ترین ہے اس لیے کہ روز اوّل اس کے علاوہ سب نے محبت کے اس عظیم پیمان کو اٹھانے سے اپنی معذوری ظاہر کی تھی۔حافظؔ بعض دوسرے صوفیاء کی طرح اس عقیدے سے ایک ہمہ گیر محبت کا نظریہ اخذ کرتا ہے۔ اس کے نزدیک چونکہ تمام دوسرے مظاہر فطرت اور انسان یعنی تصوف کی اصطلاح میں تمام مجازی مظاہرات، فی الحقیقت اللہ یا حسن ازلی اور حقیقت ابدی کا ہی پرتو ہیں (جو ان تمام میں اس طرح موجود ہے جس طرح جسم میں جان) اس لیے تمام مخلوق خدا سے محبت، اللہ سے محبت کرنے کا دوسرا نام ہے۔ خلق خدا کی خدمت ہی بہترین عبادت ہے۔
در عشق و خانقاہ و خرابات شرط نیست
ہرجا کہ ہست، پر توے روئے حبیب ہست
انھوں نے آٹھ کتابیں لکھی تھیں۔ ترقی پسند حلقوں میں ان کی کتاب ’’روشنائی‘‘ کو ایک حوالے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ کتاب 1959میں شایع ہوئی تھی۔ وہ کتنے اچھے افسانہ نگار تھے اس کا ثبوت ’’انگارے‘‘ میں شایع ہونے والے ان کے پانچ افسانے ہیں۔ ہمارے نوجوان ادیبوں اور دانشوروں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ سجاد ظہیر ایک خوبصورت شاعر بھی تھے۔ ان کی نثری نظمیں بڑی مقبول ہوئی تھیں۔انھوں نے اپنا شعری مجموعہ ’’پگھلا نیلم‘‘ کے نام سے شایع کرایا تھا۔ اس کتاب کے آغاز میں انھوں نے نثری نظم کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کافی تفصیل سے کیا تھا۔ ان کی نثری نظموں پر ان کے ترقی پسند دوستوں کی طرف سے بھی کافی تنقید کی گئی۔ اس صورتحال کے پس منظر میں وہ اپنا نقطہ نظر کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔میرے بعض دوستوں نے میری چند نظموں کو سن کر جب یہ کہا کہ ’’سجاد ظہیر نئی قسم کی شاعری کا تجربہ کر رہے ہیں‘‘ تو میرے دل کو اس جملے سے بڑی چوٹ لگی۔ تجربہ! یہ تو ویسی ہی بات ہوئی اگر کسی عاشق سے یہ کہا جائے کہ وہ جذبہ محبت کا تجربہ کر رہا ہے! شاعری انسانیت کا لطیف ترین جوہر ہے، اس کے اظہار کو تجربہ کہنا بڑا ظلم ہے۔یہ اظہار، ناکافی، ناقص یا نامکمل ہوسکتا ہے، لیکن اگر وہ نقالی، سطحی تفریح یا چٹکلے بازی نہیں ہے اور اس میں خلوص، صداقت اور حسن ہے تو وہ یقینی اس زندگی کا سب سے بیش بہا اور جانفزا عطر ہے۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں اگر کوئی شاعری کے متعلق اپنے روایتی تصورات سے مجبور ہوکر ان نظموں کو ’’نثری شعر‘‘ کہتا ہے۔میرا اپنا خیال یہ ہے کہ اصلی اور اچھی شاعری بحر، وزن یا قافیہ کی پابندی کے ساتھ بھی کی جاسکتی ہے اور کی گئی ہے اور ان کے بغیر بھی۔ بدقسمتی سے اس وقت شاعری کی وہ پابندیاں جو ایک بڑے فنکار کے ہاتھوں میں شعری تخلیق اور شعری آہنگ کے کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھیں، اب روایتی طور پر اور رسم و رواج کی طرح برتی جاتی ہیں۔شعری تخلیق کا اصلی مقصود بیشتر بھلادیا گیا ہے۔ دوسری طرف اس کا بھی امکان ہے کہ ان پابندیوں سے بری ہوکر جو شاعری کی جائے اس میں بھی شاعری کی اصلی روح مفقود ہو اور اگر ایسا ہوا تو وہ اس روایتی شاعری سے بھی زیادہ بری ہوگی، اس لیے کہ اس میں وہ مصنوعی آرائشیں اور گل بوٹے بھی نہ ہوں گے، جو پرانی قسم کی شاعری میں، اس کے افلاس کے باوجود لامحالہ موجود رہتے ہیں۔سجاد ظہیر بہترین صحافی اور مدیر بھی تھے۔ ان کی نگرانی میں پارٹی کا اخبار ’’قومی جنگ‘‘ شایع ہوتا تھا۔ سبط حسن اس اخبار کے نائب مدیر تھے۔ سجاد ظہیر نے ’’نیا زمانہ‘‘ نامی اخبار بھی نکالا تھا۔ ان کا انتقال 13؍ ستمبر 1973کو سوویت یونین میں ہوا جہاں وہ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ ان کے عزیز دوست فیض احمد فیضؔ ان کی میت لے کر ماسکو سے دہلی پہنچے۔ اس موقع پر فیضؔ نے ایک نظم کہی تھی جس کے دو مصرعے یہ ہیں۔
نہ اب ہم ساتھ سیر گل کریں گے
نہ اب مل کر سرمقتل چلیں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: