کالم

اثر اس کو نہیں ہوتا،انعام تیرا کچھ نہیں ہوتا

کچھ عرصہ قبل میں نے ریڈیو پاکستان کے فنانشل کرائسس پر لکھا جس کے بعد مجھے ایک افسرکی جانب سے بتایا گیا کہ ریڈیو پاکستان کا کوئی مالی بحران نہیں ہے،میں نے ان سے سوال کیا کہ مالی بحران نہیں تھا تو پھر مجھ سمیت میرے 25کے قریب ساتھیوں کو مہینے کے پہلے دنوں میں تنخواہ کیوں نہیں دی جاتی کیوں ہم لوگ اپنے مالی حالات پر نوحہ کناں ہو کر کسی مسیحا کے انتظار میں رہتے ہیں حالانکہ فنانس ڈائریکٹر جس کو حکومت پاکستان اس لیے تنخواہ دیتی ہے کہ وہ میرے جیسے چھوٹے کنٹریکٹ ملازمین کے حقوق کا خیا ل رکھے مگر حیران کن بات یہ ہے کہ ساری اسٹیبلشمنٹ کو صرف فنانس ڈائریکٹر اور دیگر بڑے عہدوں پر براجمان آفیسران کے ہی حقوق کا خیال ہے ان کے نظریہ کے مطابق باقی سب کیڑے مکوڑوں کی طرح ہیں اور ان کے کوئی حقوق نہیں جب دل چاہے کچل ڈالو کیونکہ ان کی بات کسی نے نہ تو سننی ہے اور نہ ہی ان کو بچوں کی کفالت کے لیے مقررہ وقت پر تنخواہ دینی ہے۔سابق ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان سہیل علی خان بڑے دبنگ آدمی تھے مگر ہمارے ہاں دبنگ آدمیوں کو سرونگ کے لیے کم وقت دیا جاتا ہے اور یہی سہیل علی خا ن کے ساتھ ہوا اور انھیں دوسری جگہ ٹرانسفر کردیا گیا انھوں نے کنٹرکٹ ملازمین کے واجبات کے مسئلہ پر ایک آرڈر جاری کیا کہ ہر ماہ کی پانچ تاریخ تک ان ملازمین کے کنٹریکٹ ریڈیو پاکستان کے ہیڈ کوارٹر پہنچ جانے چاہیے تاکہ ان کو پہلی تاریخوں ہی میں تنخواہ ادا کردی جائے اور ہوا بھی اسی طرح کہ اس آرڈر کے بعد پہلی مرتبہ کئی سالوں بعد تنخواہ ہمارے اکاؤنٹس میں 15 تاریخ کو ٹرانسفر ہوئی مگر جیسے ہی سہیل علی خان کی ریڈیو سے تبدیلی ہوئی ویسے ہی ہماری تنخواہوں کی ادائیگی کی تاریخ تبدیل ہوگئی اور آپ مانیں گے نہیں کہ ستمبر 2022ء کی تنخواہ اکتوبر کی 27 تاریخ کو ہمارے اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی۔ طاہر حسین اب ڈائریکٹر جنرل تعینات ہوئے ہیں اور انھوں نے اپنے دورہ لاہور میں کنٹریکٹ ملازمین کی بات بھی سنی یہ پہلے ڈائریکٹر جنرل ہیں جن تک کنڑیکٹ ملازمین کی براہ راست رسائی ہوئی اور ہماری ساتھی ریحانہ کوثر نے ان تک ہمارا موقف پہنچایا اس سلسلے میں،میں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں اگر ڈائریکٹر جنرل طاہر حسین ہمارے معاملے کو سمجھیں،گزارش ہے کہ ہمیں تنخواہیں آرٹسٹوں کے واجبات کے ساتھ ملتی ہیں یعنی ریڈیو کے فنانس اور ایڈمن ونگ نے ہمیں ابھی تک اپنا ملازم تسلیم نہیں کیا کیونکہ اگر ملازم تسلیم کیا جائے تو ہماری تنخواہ مہینے کی 5تاریخ سے قبل ہی ادا کردینا فنانس ونگ کی ذمہ داری ہے۔یہاں ایک بات میں کہنا چاہوں گا کہ ریڈیو پاکستان نے ہمیشہ صداکاروں اور لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کیونکہ اس ادارے کے قیام کا مقصد فن سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی آبیاری کرنا ہے تاکہ ان لوگوں کے معاشی حالات درست رہ سکیں مگر آج حالات یہ ہیں کہ آرٹسٹوں کو معاوضے وقت پر نہیں مل رہے۔انھیں آج نشر ہوئے پروگرام کی فیس دو ماہ بعد ملتی ہے اور اس صورتحال کا شکار اس وقت عہد حاضر کے سب سے بڑے فن کار اور میرے بزرگ خالد عباس ڈار بھی ہیں جن کا ستمبر کا معاوضہ اکتوبر کی 27تاریخ کو اکاؤنٹ میں منتقل ہوا اس جیسی صورتحال کا شکار فن کے بڑے نام راشد محمود،پرویز رضا،خالد معین بٹ،شوکیہ ظہیر،سلیم زبیری اور دیگر بھی ہیں جن کو معاوضہ جات کی ادائیگی وقت پر نہیں ہورہی اور بعض اوقات تو یہ صورتحال تین ماہ تک بھی بڑھ جاتی ہے اور وقت حاضر کے ان عظیم فن کاروں کے ساتھ ہمیں بھی معاوضہ جات تاخیر سے ملتے ہیں۔جناب طاہر حسین اگر ہمیں فنانس ونگ اور ایڈمن ونگ کنٹریکٹ ملازم تسلیم کریںتو اب بائیو میٹرک حاضری کی وجہ سے ہمیں تنخواہ ہر ماہ کی 2 تاریخ تک مل جانی چاہیے کیونکہ جب میری حاضری ہی 30 تاریخ کو مکمل ہوجاتی ہے تو مجھے کیوں تنگ کرکے تنخواہ دوسرے مہینے کی آخری تاریخ کو دی جاتی ہے اس کی وجہ ہے کہ ریڈیو پاکستا ن کے فنانس ونگ کے اعلیٰ عہدیدار نااہل ہیں اور اپنا کام نہیں کررہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ کئی سالوں سے بڑھتا ہی جارہا ہے جس کے ساتھ میرے ساتھیوں کی پریشانیاں بھی بڑھ رہی ہیں سب کو معلوم ہے کہ بچوں کے اسکول کی فیسیں مہینے کے ابتدائی دنوں میں وصول کی جاتی ہیں،یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی بھی ابتدائی دنوں میں ہوتی ہے مگر ریڈیو پاکستان کا فنانس ڈیپارٹمنٹ سب جانتے ہوئے بھی ہماری تنخواہ دو ماہ بعد اکاؤنٹس میں منتقل کرتا ہے جو سرا سر طبقاتی کشمکش کا شاخسانہ ہے۔ایک آخری بات میں مزید آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ آپ سمیت دیگر ملازمین کی تنخواہوں میں حکومت پاکستان نے 8سالوں میں کئی بار اضافہ کیا،فنانس ڈائریکٹر بھی اس ضافے سے مستفید ہوئے مگر میں اور میرے ساتھی اسی جگہ پر کھڑے ہیں جہاں سے انھوں نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا کیا کبھی آپ سمیت کسی نے اس طرف دھیان دیا ہے کہ ایک ایم اے پاس محکمہ میں بھرتی ہوکر تین سال میں ایک لاکھ روپیہ تک تنخواہ وصول کرے اور دیگر مراعات بھی لے اور دوسری جانب ایک ایم اے پاس 8سال ہی سے صرف 30 ہزار ہی معاوضہ وصول کرے اور وہ بھی تین ماہ کے وقفے کے دوران صرف ایک ماہ ہی کی تنخواہ دی جائے،کیا یہ امر ریڈیو پاکستان کے فنانس ڈائریکٹر کے لیے باعث ندامت نہیں۔اب حالات یہ ہیں کہ مستقل ملازمین کی تنخواہ بھی آج کی تاریخ تک انھیں ادا نہیں کی جاسکی جبکہ ان کے میڈیکل کے معاملات بھی 2019ء سے معطل چلے آرہے ہیں اور ان کو اس ضمن میں کسی بھی قسم کی کوئی معاونت نہیں دی جارہی لاہور کی ایک پرائیویٹ لیب نے ریڈیو کے مستقل ملازمین پر طبی ٹیسٹ کرانے کی پابندی عائد کررکھی ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: