کالم

اظہار خیال….. خافظ عتیق الرحمان

امن مکالمہ اور مذاہب عالم

جون ایلیا نے کہا تھا ’’ایک ہی سانحہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک …بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی‘‘۔ تہذیبوں کے تصادم کو روکنے اور بین المذاہب رواداری کے فروغ کے لئے جون ایلیا کا یہ ایک شعر نسخہ کیمیا ہے۔ جون ایلیا نے انسانی مزاج کا ایک ایسا پہلو اپنے اس شعر کے ذریعے اجاگر کیا ہے جس کا تعلق مکالمہ نہ کرنے سے ہے۔ ایک معروف محاورہ ہے کہ جنگوں کے فیصلے بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر ہوتے ہیں یعنی مسائل کا حل مکالمہ میں ہے۔ مکالمہ کی اہمیت ایک گھر سے لیکر اقوام متحدہ تک مسلمہ ہے۔ مقابلے کی فضا گھروں کو جہنم زار بنا دیتی ہے اور پھر مکالمہ سے امن بحال ہوتا اور افرادِ خانہ گفتگو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔
منہاج یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام 29اور 30اکتوبر کو دو روزہ ’’ورلڈ ریلجنز انٹرنیشنل کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے روح رواں منہاج یونیورسٹی لاہور کے بورڈ آف گورنرز کے ڈپٹی چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری تھے۔ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نوجوان معاشی ماہر ہیں۔ وہ منہاج یونیورسٹی کے ڈپٹی چیئرمین کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ میلبورن یونیورسٹی آسٹریلیا کے ریسرچ فیلو بھی ہیں۔ اس کے علاوہ منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر بھی ہیں۔ وہ بیک وقت ماہر تعلیم بھی ہیں، ماہر معیشت بھی ہیں اور منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے تعلیمی ، تربیتی، فلاحی، سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری میلبورن یونیورسٹی آسٹریلیا سے معیشت پر پی ایچ ڈی ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے منہاج یونیورسٹی لاہور کو بین المذاہب رواداری کے فروغ، تہذیبوں کے درمیان مکالمہ کا مرکز بنا دیا ہے اور منہاج یونیورسٹی لاہور پاکستان کا وہ ممتاز اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے جہاں تقابلِ ادیان کو ایک ڈگری پروگرام کے طور پر پڑھایا جارہا ہے۔
سکول آف پیس منہاج یونیورسٹی لاہور کو دیگر سے ممتاز کرتا ہے۔ یہاں سکھ، ہندو، عیسائی مذاہب کے طلباء بھی زیور علم سے آراستہ ہورہے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ منہاج یونیورسٹی لاہور میں ہندو طلباء کو ہندوازم ہندو اساتذہ پڑھاتے ہیں، سکھ ازم سکھ اساتذہ اور مسیحی طلباء کو مسیحی مذہب مسیحی اساتذہ پڑھاتے ہیں اور تمام مذاہب کے طلباء ایک چھت تلے علم حاصل کررہے ہیں۔ منہاج یونیورسٹی کے اس ڈگری پروگرام کا نیوکلیس اور مرکز و محور فروغِ امن، تہذیب و شائستگی کا پرچار اور علمی مکالمہ کے ذریعے ایک باشعور، ذمہ دار نسل پروان چڑھانا ہے۔ یہاں تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا ذکر بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے اندر بین المذاہب مکالمہ کے آغاز اور تہذیبوں کے مابین تصادم کو روکنے کے لئے انہوں نے قومی و بین الاقوامی سطح پر بہت کام کیا اور انہوں نے دنیا بھر کا سفر کیا اور اسلام کی پُرامن تعلیمات کو قابل قبول طرز تکلم اور عقلی دلائل کے ساتھ دیگر مذاہب کے سامنے پیش کیا اور مکالمہ کی بنیاد رکھی۔ منہاج القرآن کی علم و امن پر مبنی یہی فکر منہاج یونیورسٹی لاہور کے تعلیمی ماحول میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ ورلڈ ریلجنز کانفرنس اپنی نوعیت کی 5ویں بین الاقوامی کانفرنس تھی جو منہاج یونیورسٹی لاہور میں انعقاد پذیر ہوئی۔
ہر سال کی طرح امسال بھی آسٹریلیا، سکاٹ لینڈ، سری لنکا، انڈیا، برطانیہ، امریکہ، یورپ سے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تدریسی و تحقیقی فرائض انجام دینے والے سکالرز پاکستان آئے اور انہوں نے بین المذاہب رواداری، اس کی ضرورت و اہمیت پر ریسرچ پیپر پیش کئے۔ اس کانفرنس کی سب سے زیادہ خوبصورت بات اس کانفرنس میں شریک منہاج یونیورسٹی لاہور سمیت دیگر یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات کی طرف سے امن کے موضوع پر اور بین المذاہب رواداری کے بارے میں بین الاقوامی سکالرز کے ساتھ کھل کر سوال و جواب کرنا ہے۔ طلباء و طالبات نے انتہائی شائستگی کے ساتھ اپنا نکتہ نظر بین الاقوامی سکالرز کے سامنے رکھا اور پھر ان کے علمی جوابات سے مستفید ہوئے۔ شعور کی آبیاری کا بہترین طریقہ اہل علم کی صحبت میں بیٹھنا اور ادب و شائستگی کے ساتھ انہیں سننا ہے۔ تمہید میں جون ایلیا کے شعر کو اسی لئے بطور حوالہ پیش کیا کہ سب سے بڑا انسانی المیہ ایک دوسرے سے بات نہ کرنا اور ایک دوسرے کو نہ سننا ہے یہیں سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جو انتہا پسندی اور متشدد رویوں کے راستے سے ہوتی ہوئیں دہشت گردی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرتِ مدینہ کے بعد جو سب سے پہلا کام کیا وہ بین المذاہب مکالمہ کی بنیاد رکھنا تھا ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میثاق مدینہ کی صورت میں مکالمہ کی برکات سے دنیا کو بہرہ مند کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے قبائل کوسنا۔ ان کی مذہبی ثقافتی روایات کو تحریری شکل میں تحفظ دیا اور پھر مدینہ کی سرزمین پر سیاسی اعتبار سے ایک اُمت واحدہ کی داغ بیل ڈالی۔ کرہ ارض کی اس اُمت واحدہ کی داغ بیل مکالمہ سے پڑی۔ 5ویں ورلڈ ریلجنز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں بین المذاہب مکالمہ کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا گیا اوراعلیٰ تعلیمی اداروں کو اس نوع کی کانفرنسز کو تسلسل کے ساتھ منعقد کرنے کی تحریک دی۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا مقالہ بین الاقوامی سکالرز کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ انہوں نے اپنے مقالہ میں کہا کہ اسلام انصاف، اعتدال، انسانی جان کی حرمت و وقار کا محافظ اور بین المذاہب رواداری کی تعلیمات کا محرک ہے۔ انہوں نے بجا کہا کہ اسلام کو سمجھنے کے لئے قرآنِ مجید کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ انتہا پسند اسلام کی جو تصویر پیش کرتے ہیں اُن کا پیغمبر اسلام کی سیرت اور تعلیمات سے تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے ایک اور خوبصورت بات کی کہ پاکستان کے عوام امن سے محبت کرنے والے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی جو تصویر پیش کی جاتی ہے پاکستان ویسا نہیں ہے۔ ان کے اس دعوے کی تصدیق اور توثیق مہمان سکالرز نے بھی کی۔ مہمانوں کا یہ اعتراف تھا کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے اور اس کے عوام علم اور امن سے محبت کرنے والے ہیں۔ 5ویں ورلڈ ریلجنز کانفرنس سے اٹلی کے سکالرز امام یحییٰ سرجیو یاہی، سری لنکا سے پروفیسر میر سوات ویملگانا تھیرو، انڈیا سے ڈاکٹر سردار گیانی ہرپریت سنگھ، آسٹریلیا سے پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ سعیداور ڈاکٹر جان، آسٹریلیا ہی سے مسز ایلزبتھ، برطانیہ سے ریونڈ فلپ ڈنکن پیٹرز، ریونڈ روبن قمر، آرچ بشپ سبسٹین فرانسس، سردار درشن سنگھ نے بھی ریسرچ پیپر پیش کئے اور علمی مکالمہ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: