پاکستانتازہ ترین

پھر سڑکوں پر نکلوں گا اوراسلام آباد کی کال دوں گا. عمران خان

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے ٹھیک ہوتے ہی کال دوں گا پھر سڑکوں پر نکلوں گا اور 3 افراد کے مستعفی ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے۔
انہوں نے ویڈیو پیغام میں کہا

ایک حملہ آور نے سائیڈ اور دوسرے نے سامنے سے گولیاں چلائیں، انہوں نے مجھے مارنے کا پورا پلان بنایا ہوا تھا مگر اللہ کا کرم ہے کہ میں بچ گیا، گولی لگنے سے جب میں گر رہا تھا تو اوپر سے گولیاں گزریں، میرے خیال میں جو سامنے حملہ آور تھا جب میں گر گیا تو وہ سمجھا کہ میں مر گیا ہوں۔ یہ جنونی شخص انتہا پسند نہیں پورا ایک پلان تھا، اس شخص کے ساتھ اور لوگ بھی ملوث ہیں، شہید معظم کو سلام پیش کرتا ہوں، ابتسام نے بھی اس کوپکڑا اگرنہ پکڑتا تو مزید لوگوں کو گولیاں لگنا تھیں، یہ پورا پلان پہلے کا بنا ہوا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ واقعے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے ایف آئی آر کرانے کی کوشش کی گئی مگر نہیں ہوئی کیونکہ سب ڈرتے ہیں، ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ کو انصاف نہیں مل رہا، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کے پر الزام ہے تو جب تک یہ مستعفی نہیں ہوں گے، تفتیش کیسے ہو گی۔

انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کو مذکورہ افراد کے مستعفی ہونے تک احتجاج کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کا آئینی حق ہے، ان لوگوں کے استعفیٰ دینے سے اپنا احتجاج جاری رکھیں کیونکہ جن پر الزام ہے ان کے نیچے ہی تفتیش ہونی ہے اور ایسے میں انصاف کیسے ملے گا؟

مجھے مارنے کا پلان شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ نے بنایا کیونکہ رانا ثناءاللہ ایک قاتل ہے جس نے ماڈل ٹاﺅن میں نہتے لوگوں پر گولیاں چلائی تھیں۔ طاہر القادری نے ایک سال پہلے پیپلز پارٹی کی گورنمنٹ میں لانگ مارچ کیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ میں پھر لانگ مارچ کروں گا اس لئے یہ ڈرے ہوئے تھے۔

انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں ظلم کیا کیونکہ شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ ایک پیغام دینا چاہتے تھے اور خوف طاری کرنا چاہتے تھے کہ کہیں یہ اسلام آباد نہ آ جائیں، رانا ثناءاللہ نے لانگ مارچ سے بچنے کیلئے ماڈل ٹاؤن میں لوگ قتل کروائے تھے، رانا ثناءاللہ کے بارے میں عابد شیر علی کے باپ نے کہا تھا کہ اس نے 18 قتل کئے ہیں، ان کیلئے انسانی جان کی اہمیت نہیں بلکہ ان کیلئے اپنا مقصد، پیسہ اور چوری اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پر ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ ہے کہ اس نے پولیس مقابلے میں 900 قتل کروائے تھے، یہی شہباز شریف جس کے خلاف ایف آئی اے میں 16 ارب اور نیب میں 8 ارب کا کیس تھا، جب وزیراعظم بنا اور ان کی حکومت آئی تو آتے ہی ان کے پانچ ملازمین ہارٹ اٹیک سے مرے۔

عمران خان نے کہا کہ چھٹا ڈاکٹر رضوان ہے جو ایف آئی اے میں ان کے خلاف 16 ارب روپے کرپشن کے کیس کی تحقیقات کر رہا تھا، وہ بھی ہارٹ اٹیک سے مرا لیکن کبھی کسی نے تفتیش نہیں کی کہ ان کے آتے ساتھ ہی چھ لوگ ہارٹ اٹیک سے کیسے مر گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: