کالم

پوزیشن ہولڈر طلباء تیاری کیسے کریں

نقطہ نظر

عبدالغفا رانجم

ایک انسان کی زندگی کا ہر لمحہ ہی اہم اور قیمتی ہوتا ہے مگر موجودہ دور کی تیز رفتار ترقی نے ہر خاندان اور قوم کو یہ بات سمجھا دی ہے کہ وقت کے صحیح استعمال اور اچھی تعلیم و تربیت کے بغیر ترقی کے مواقع کم ہیں۔ یوں تو ہر بچے کی تعلیم ماں کی گود سے گور تک جاری رہتی ہے۔ بچہ ہر روز کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے۔ اور پرائمری و ایلیمنٹری کلاسز تک
اپنی زبان کو پڑھنا اور لکھنا سیکھ جاتا ہے ۔ ان کلاسز میں ریاضی اور سائنس کے چند بنیادی اصولوں سے روشناس ہوتا ہے۔ ان ابتدائی سالوں کی مضبوظ تعلیمی بنیاد ہی کامیاب مستقبل کی ضامن ہوتی ہے۔ لیکن ماہرین ِ تعلیم کے نزدیک کسی بھی طالب علم کی زندگی کے چار سال بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ جس میں دو سال میڑک اور دو سال انٹر میڈیٹ( (F.A, F.Sc, ICS, I.Com کے لیے مختص ہوتے ہیں۔ ان چار سالوں میں طالب علم کی زندگی کی سمت کا تعین ہوتا ہے۔ اور یہ طے ہوتا ہے کہ کس پیشے سے وابستہ ہونا ہے اور اس میں ترقی کی منازل کیسے طے کرنی ہیں؟ ان چار سالوں میں والدین کو بچوں کی سخت نگرانی اور مدد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر والدین اور طلباء اپنے اساتذہ سے یہ سوالات کرتے ہیں کہ پڑھا کیسے جائے اور نمایاںنمبر کیسے لیے جائیں؟ پوزیشن ہولڈرز درج ذیل طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے بورڈ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتے ہیں۔ایک کامیاب طالب علم اپنے دن کا آغاز صبح جلدی اٹھنے اور کلاس میں وقت پر پہنچنے سے ہی کر دیتا ہے۔ کلاس میں پوری توجہ لیکچر پر مرکوز کرتا ہے اور جو چیز سمجھ نہ آئے اس سوال کو نوٹ کر لیتا ہے اور آخر پر محترم استاد سے پوچھ لیتا ہے ۔ یوں وہ کلاس میں ہی تقریبا80 فی صد تک یاد کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ پوزیشن ہولڈر ز کی تیاری کے طریقہ کار کو پانچ مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
پہلے مرحلے میں طلباء روز کا کام روز کرتے ہیں۔ اپنی پڑھائی پر سمجھوتہ نہیں کرتے اور محترم والدین اس سلسلہ میں طے شدہ شیڈول پر سختی سے عمل در آمد کراتے ہیں۔ ٹائم ٹیبل میں مشکل مضامین کو پہلے اور قدرے آسان کو بعد میں رکھتے ہیں۔ تمام مضامین کے لیے ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ کم از کم وقت مقرر کرتے ہیں ۔ اور جسمانی ورزش کے لیے بھی وقت رکھتے ہیں۔یہ طلباء پہلے یاد کرتے ہیں اور رٹا نہیں لگاتے بلکہ سمجھ کر یاد کرتے ہیں۔ اور جب یاد ہو جاتا ہے تو اسے لکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک صرف یاد کرنا کافی نہیں بلکہ لکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ لکھنے سے املاء گرائمر وغیرہ کی غلطیوںسے بچا جا سکے اور اپنی تحریر کو بہتر اور متاثرکن بنایا جا سکتاہے ۔لکھنے کے بعد وہ خود چیک کرتے ہیںاور غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ان غلطیوں کو سامنے رکھتے ہوئے سبق دہراتے ہیں گھر میں وہ مار کر ، پین اور سکیل وغیرہ کا خوبصورتی سے استعمال کرتے ہیں۔ key-words کو highlight کرتے ہیں۔ تاکہ گھر میں کی ہوئی پریکٹس کا امتحانات میں بھر پور فائدہ اٹھا یا جائے۔والدین اپنی مصروفیات اور وقت کی قلت کے باوجود موثر نگرانی کرتے ہیں۔ وہ بچوں کو رجسٹر لے کر دیتے ہیں اور اس رجسٹر پر روزانہ اپنے دستخظ اور تاریخ لکھ دیتے ہیں اور صرف اتنا دیکھ لیتے ہیںکہ ہر مضمون کو مندرجہ بالا بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق ہر مضمون کو یاد کر کے لکھا گیا ہے کہ نہیں۔ پھر ہر صورت بچے کے سکول و کالج کے اساتذہ و پرنسپل سے ہر مہینے ملاقات ضرور کرتے ہیں تاکہ طلباء کی اصلاح کرنے اور درست سمت میں رکھنے میں آسانی رہے۔
دوسرے مرحلے میں وہ ہفتہ وار چھٹی کے دن کا پلان بناتے ہیں۔ اس دن وہ اپنے ان مضامین کو تیار کرتے ہیں جو کسی وجہ سے روز نہ کر سکے۔ اس کے لیے وہ چھٹی کے دن کے وقت کو عموماتین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ جس میںدو حصوں میں پڑھائی اور ایک حصہ تروتازہ ہونے کے لیے سیروتفریح یا فیملی کے ساتھ مثبت انداز میں گزارتے ہیں۔ وہ اپنے مسائل کو پڑھائی میں آڑے نہیں آنے دیتے اور وسائل کو ضائع نہیں کرتے بلکہ محدود وسائل کا بہت احسن طریقہ سے استعمال کرتے ہیں۔ تیسرے مرحلے میں وہ سکول و کالج کی طرف سے ہونے والے ماہانہ ٹیسٹوںکی تیاری کرتے ہیں۔ عموما ماہانہ ٹیسٹوں میں ہر مضمون کا سلیبس مختصر ہوتا ہے۔ اس لئے وہ پہلے تفصیلی سوالات پھر مختصر سوالات اور آخر میں کثیر الانتخابی سوالات (MCQs) تیار کرتے ہیں۔ بہت سے مختصر سوالات اور MCQs کے جوابات انہیں وہاں ہی مل چکے ہوتے ہیں۔ ماہانہ ٹیسٹوں کی وجہ سے اپنی روز کا کام روز والی پریکٹس ترک نہیں کرتے ۔ لہٰذا وہ بڑی آسانی سے ٹیسٹ تیار کر کے باقی مضامین کو بھی وقت دیتے ہیں۔
چوتھے مرحلے کاآغاز بورڈ کے امتحانات سے پندرہ بیس دن پہلے پڑھائی کا اہم ترین وقت ہوتا ہے جس میں طلباء تمام تر سرگرمیاں ترک کر دیتے ہیں۔اور کمرہ بند ہو کر تمام توانائی اور توجہ پڑھائی پر مرکوز کرتے ہیں۔بورڈ کی ڈیٹ شیٹ کو سامنے رکھتے ہوئے پلان بناتے ہیں۔امتحانات سے پہلے ان دنوں کو اس طرح سے تقسیم کرتے ہیں کہ جن مضامین کے پیپرز آخر میں ہوں ان کی تیاری پہلے کر لیتے ہیںاور وہ اس سلسلہ میں دو دن کے اندر ایک مضمون کو تیار کر لیتے ہیں اور یوں دس دن میں کم از کم چارسے پانچ مضامین کی تیاری مکمل کر چکے ہوتے ہیں۔ ان دنوں میں اہم سوالات اور بورڈ کے پانچ سالہ پیپرز کے سوالات کو یاد کر کے ، چیک کرتے دہراتے اور دوبارہ لکھتے ہیں تاکہ کسی قسم کی کسی بھی غلطی کی گنجائش باقی نہ رہے۔پانچواں مرحلہ دورانِ امتحانات تیاری کا ہے اس میں وہ طلباء صرف مضامین کو دہراتے ہیں کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہو تو اسے تیار کرتے ہیں اہم سوالات کو دوبارہ اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیتے ہیں۔ ان دنوں منفی پراپیگنڈہ یا امتحانات سے متعلق افواہوں پر یقین نہیں کرتے بلکہ صرف اپنی تیاری یکسوئی کے ساتھ کرتے رہتے ہیں اور پھر رات کو سونے سے پہلے اپنی تمام چیزیں مارکرز، پین، جیومیڑی بکس، سکیل،کیلکولیڑ وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں۔ پیپردے کر آرام کرتے ہیںاور پھر اگلے پیپرز کی تیاری میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ تمام امتحانات سے فارغ ہوکر کچھ دن آرام، سیروتفریح، دوستوں اور فیملی کے ساتھ وقت گزار کر پھر دوبارہ سے اسی روٹین میں واپس آجاتے ہیں کیونکہ والدین اور اساتذہ ان کو آگاہ کر چکے ہوتے ہیںکہ یہ چار سال بہت اہم ہیں۔ ان میں ہی زندگی بننی یا بگڑنی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: