پاکستانتازہ ترین

انسانوں کا سمندراسلام آباد کی طرف آرہا ہے، ملک میں حقیقی آزادی چاہتے ہیں۔عمران خان

تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارا حقیقی آزادی مارچ گوجرانوالہ سے گزر رہا ہے اور ہم ایک انقلاب کی جانب گامزن ہیں.مشرقی پاکستان بھی اس لیے الگ ہوا کیونکہ وہ لوگ بنیادی حقوق سے محروم تھے، اُس وقت کے سیاستدان نے پاکستان کی فوج کو مشرقی پاکستان کے خلاف کھڑا کردیا تھا اور نتیجتاً پاکستان ٹوٹ گیا تھا۔ آج پھر لندن میں بیٹھا ہوا شخص نواز شریف اور آصف زرداری دونوں مل کر کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کریں، یہ ملک کے خلاف سازش ہے۔ چیف الیکشن کمشنر میرے خلاف کیس کررہے ہیں، میں ان خلاف عدالت جاؤں گا اور 10 ارب کا ہرجانہ کروں گا۔ ان سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ ملک میں چوروں کو مسلط کیا جائے۔

گوجرانوالہ میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے قانون وآئینی جنگ لڑنی ہے، ہمارا مقابلہ مجرموں سے ہے، چیف جسٹس صاحب اگرآپ اورعدلیہ لوگوں کے لیے کھڑے نہیں ہونگے توکون کھڑا ہوگا؟ کس بنیاد پرہمارے لانگ مارچ کی کوریج بند کی گئی ہے، ہم پاکستانی ہے کس چیزکا خوف ہے؟ یہ قوم جاگ چکی ہے، کوئی بھی اس شعورکوبوتل میں بند کرنے کی کوشش کرے گا وہ اس سمندرمیں بہہ جائے گا، انسانوں کا سمندراسلام آباد کی طرف آرہا ہے، ہم ملک میں حقیقی آزادی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ رانا ثنا جیسے قاتلوں سے ہے، شریف،زرداری مافیازکے سامنے قوم نہیں جھکے گی، جوبھی ان کے ساتھ کھڑا ہوا گا وہ ذلیل اورتباہ ہوگا، ہم دنیا کے سب سے عظیم لیڈرکی امت ہے کوئی بھیڑ،بکریاں نہیں، وہ دن چلے گئے، عوام ملک میں قانون اورانصاف کی بالادستی چاہتے ہیں، ڈنڈے مار کر اِدھر اور اُدھر کرنے والے دن چلے گئے۔ جس ملک میں ظلم کا نظام ہو وہاں خوشحالی نہیں آ سکتی، امپورٹڈ حکومت نے مہنگائی کے 50 سالہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، چھوٹا چور جیل، اربوں ڈالر ملک کے لوٹنے والے بیرون ملک لے گئے، نوازشریف نے لندن کے مہنگے علاقے میں چار فلیٹس تسلیم کیے، ہمارا انصاف کا نظام بڑے چوروں کو نہیں پکڑ سکتا، انہوں نے قانون ایسا بنادیا ہے بڑے چوروں کو نہیں پکڑسکتا۔

گوجرنوالہ میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہوئے کہا کہ غلام قوم کیڑے مکوڑوں کی طرح ہوتی ہے ان کے حقوق نہیں ہوتے ، لوگوں کی عزت نہیں ہوتی، ظلم اور تشدد ہوتا ہے، غلام قوم کو بیرون ملک سے جھڑکی ملتی ہے کہ روس سے تیل نہیں لینا۔ایسی قوم کے حکمران فیصلہ کرنے سے پہلے امریکا سے این او سی لیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ روس سے تیل لے سکتے ہیں یا نہیں؟۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: