پاکستانتازہ ترین

ارشد شریف ،دبئی سے لندن اور پھر موت کی شاہراہ مل گئی

صحافت میں نئی جہتیں متعارف کرانیوالے صحافی ارشد شریف کینیا کےعلاقے کجیاڈو میں پولیس کی گولی کا نشانہ بن گئے ۔ ان کی موت کو حادثاتی قرار دیدیا گیا ہے ۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں دو بھارتی شہری ذوالفقار احمد خان اور محمد زید سمیڈوئی جو کینیا کے صدر ولیم روتو کی سیاسی مہم ڈیجیٹل میڈیا پر چلانے کا کام کر رہے تھے، وہ جولائی 2022 میں اچانک لاپتہ ہوگئے تھے اور پھر ان کی موت کا پتہ چلا تھا۔ صرف یہی نہیں سینکڑوں افراد اس راستے پر زندگی سے محروم ہو چکے تھے ۔
کینیا کے صدر نے اس بات سے آگاہی دی تھی ان دونوں بھارتی باشندوں کو کینیا کے ڈائریکٹوریٹ آف کریمینل انویسٹیگیشن کے خصوصی خدمات یونٹ نے مارا ہے ۔کینیا کا ڈی سی آئی پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے یا امریکہ کی ایف بی آئی کے مترادف ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے ۔ کینیا کے صدر روتو نے ا یکشن لیتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ آف کریمینل انویسٹیگیشن کو کالعدم کر چکے ہیں۔

ارشد شریف کی موت نے بہت سے سوالات کو جنم دیدیا ہے ۔ جس میں سے ایک سوال جو سب کی زبانوں پر ہے ۔
وہ یہ ہے کہ ارشد شریف نے کینیا کا سفر کیوں کیا۔ وہ پاکستان، متحدہ عرب امارات یا برطانیہ میں نہایت مخفوظ تھے ۔ انہوں نے خطر ناک راستہ کیوں چنا۔
کجیاڈو نیروبی سے تقریبا 80 کلومیٹر جنوب میں تنزانیہ کے سرحدی شہر اروشا کی طرف جانے والی شاہراہ پر واقع ہے .
یہ علا قہ نہ تو تو کوئی بڑا شہر ہے اور نہ ہی سیاحت کا اہم مرکز ہے ۔
یہ قصبہ اس راستے پر واقع ہے جو زیادہ تر پڑوسی ملک تنزانیہ جانے کے لئے راہداری کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ سفر کیلئے نہایت ہی غیر مخفوظ ہے ۔ اس روڈ پر پولیس غیر معمولی متحرک رہتی ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیا پولیس نے اس راستے پر سفر کرنے والے کچھ مجرموں کو روکنے کے لئے ایک روڈ بلاک قائم کیا تھا
وہاں پر ارشد شریف کی گاڑی گزری جو رکی نہیں اور پولیس نے مشکوک گاڑی سمجھ کر اس پر فائرنگ کر دی اور ارشد شریف زندگی سے محروم ہو گئے ۔ صحافت کی دنیا میں سوگ چھایا ہوا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ارشد شریف کو دھمکیاں مل رہی تھیں۔ انہوں نے ایک ادارے
کو خیرباد کہا اور دبئی چلے گئے وہاں ویزہ ختم ہونے پر انہیں انگلینڈ جانا پڑا۔ اور۔۔۔۔۔ اس کے بعد وہ موت کی شاہراہ پر روانہ ہوگئے اور حالق حقیقی سے جا ملے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: