پاکستانتازہ ترین

شاہ زیب قتل کیس کا ملزم شاہ رخ جتوئی ساتھیوں سمیت بری. سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا

سپریم کورٹ نےشاہ زیب قتل کیس کے ملزم شاہ رخ جتوئی کو بری کردیا۔شاہ رخ جتوئی کو 10 سال بعد رہائی ملی ہے . اس کیس نے بہت سے رنگ بدلے جس کی وجہ سے یہ کیس دنیا بھر میں مشہور ہوا. اس کیس کے فیصلے کو بین الاقوامی میڈیا نے بھی کوریج دی.

جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نے شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزمان کی بریت کی درخواست پر سماعت کی۔ ملزمان کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیے ملزموں کا دہشت پھیلانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، قتل کے واقعے کو دہشت گردی کا رنگ دیا گیا۔‘، فریقین کا پہلے ہی راضی نامہ ہوچکا ہے، اس لئے ملزمان کو بری کیا جائے۔

شاہ زیب خان کو تلخ کلامی کے نتیجے میں تقریبا دس سال قبل 25 دسمبر 2012 میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔سال 2013 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج کو سزائے موت جبکہ دیگر دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ان کے وکلا نے اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
شاہ زیب خان کے اہل خانہ نے سال 2017 میں دیت کے قانون کے تحت ملزم شاہ رخ جتوئی کو معاف کیا جس کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔
معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے سال 2018 میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمان کی دوبارہ گرفتاری کا حکم دیا۔
2019 میں سندھ ہائی کورٹ نے شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھی سراج تالپور کی سزائے موت کوعمر قید میں تبدیل کرنے جب کہ دو ملزمان کی عمر قید کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا

ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے عمر قید کی سزا ختم کرنے کی درخواست کی، جس پر سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی رہائی کا فیصلہ آگیا.

لطیف کھوسہ نے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئےے کہا کہ اسلام میں عفو و درگزر کا ذکر ہے، مقتول کےخاندان کی شاہ رخ جتوئی سے صلح ہوگئی ہے، شاہ رخ کی عمر تب 18 سال تھی اب اصلاح کا موقع ملناچاہیے۔

لطیف کھوسہ نے کہا ، انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شق 7 اس وقت عائد کی جاتی ہے جب ملزمان کا مقصد دہشت گردی پھیلانا ہوتا ہے، آج سپریم کورٹ نےدہشت گردی کی دفعات ختم کی ہیں، جس کے تحت ملزمان رہا ہوگئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: