بین الاقوامیتازہ ترین

اپنی آزادی کو ہم ہرگز مٹا سکتے نہیں
سر کٹا سکتے ہیں لیکن سر جھکا سکتے نہیں!
کشمیر کی اآزادی کےلئے وقف ایک اور سپوت نے بھارتی حراست میں دم توڑ دیا.
پہلے سسر نے آزادی کی کوششوں کو دوام بخشا اب داماد نے بھی بس آزادی ، صرف آزادی کے نعرے کو نئی زندگی دیدی اور بارگاہ الہی میں حاضر ہو گئے ۔
ہم بات کر رہے ہیں عظیم کشمیری رہنما کشمیری رہنماعلی گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ کی ۔ انہوں نے ثابت کر دیا راہ ایک ہی ہے موت چاہے کسی بھی روپ میں آئے ہمیں ہمارے مقصد سے ہٹا نہیں سکے گی اور ایک دن کشمیر آزاد ہوگا۔ کیونکہ شہید کشمیریوں کے لہو سے آزادی کی شمع روش ہوئی ہے جو بجھ نہ سکے گی ۔
الطاف احمد شاہ 2017 سے دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید تھے۔جہاں ان کی طبعیت خراب ہوئی تو انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا ۔الطاف احمد شاہ کو قید کے دوران کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اس کے باوجود بھارتی حکومت نے انہیں رہا نہیں کیا۔ الطاف احمد بھارت کی حراست میں حالق حقیقی سے جا ملے ۔
بھارتی حکومت دنیا پر واضح کر چکی ہے کہ بھارت کی جانب سے نظربند یا جیلوں میں اسیر رکھے گئے کشمیری رہنماؤں سمیت دیگرمسلمان قیدیوں کو علاج معالجے سمیت کسی قسم کی کوئی بنیادی انسانی ضرورت فراہم نہیں کی جاتیں وہ مریں یا جئیں ۔ ہمیں اس سے کیا۔اور لوگ زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ لیکن عالمی بے حسی کبھی بھی ختم نہیں ہوئی تمام تر علم کے باوجود کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے سے قاصر ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: