کالم

بھکاری کون؟

بھکاری کون؟
سیّدمبشر الماسؔ
جبر مسلسل
گلاب کے پھول پر پڑی ہوئی کسی تتلی کی سرد لاش اس بات کا ثبوت بن جاتی ہے کہ موسم کا زہر فضائوں میں گُھل چکا ہے ۔ جب موسموں کی شدت سے فضائوں میں زہر گُھلنے لگے تو سر سبز پتوں سے بھری لہلہاتی ہوئی شاخیں یوں اجڑ جاتی ہیں جیسے کسی سہاگن کے کانوں سے سونے کی بالیاں ، ماتھے سے بندھیا ، گلے سے لاکٹ ، ہاتھ سے کنگن اور پیروں سے پازیبیں اتار لی گئی ہوں ۔ ایسے میں آنکھ کی پتلی کسی لاچار اور بے بس حو ّا کی بیٹی کے سر سے دوپٹے کو اڑتا ہوا دیکھتی ہے ، بھوک کے منہ پر لگے ہوئے ہونٹوں سے چھنتے ہوئے نوالوں کو دیکھ کر آنکھ کی یہ پتلی پتھرا جانے کو چاہتی ہے ۔ موسم شناس لوگ ایسے مناظر کو خزاں کے نام سے موسوم کر دیا کرتے ہیں ۔ عجیب قانون ِ قدرت ہے کہ بہارایک خزاں سے اس طرح جُڑی ہوئی ہوتی ہے جیسے تار آنچل سے ، پُھول ڈالی سے اور پتہ اپنی شاخ سے جُڑاہوا ہوتاہے ۔
یہ حقیقت تو اظہر من الشمس ہے کہ وقت ، موسم اور مسافر کبھی ٹھہرا نہیں کرتے ۔ مگر یہ بھی کیا کہ 70سال بیت گئے میرے وطن کی سڑکوں پر ، میرے شہر کی گلیوں میں ، میرے گائوں کے کوچوں میں خیرات کا موسم ابدی خزاں کی طرح اس طرح آکے ٹھہراکہ شاہراہ ِ اُمرأپر ننھے ننھے ہاتھوں میںکشکول دیکھتے دیکھتے مئورخ کی آنکھ70سال کی ہو گئی ۔ اس آنکھ میں سموئے ہوئے مناظر کو دیکھ لیا جائے تودل بھی خون کے آنسو رونے لگے ۔ اس آنکھ کا معائنہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس آنکھ نے بہار کے موسم میں کس کس طرح خزاں کو کروٹیں بدلتے ہوئے‘ شمع کے پہلو میں روشنی کو پگھلتے ہوئے ، گھنے درختوں میں شاخوں کو جلتے ہوئے ، بارشوں میں دھوپ کو نکلتے ہوئے اور خواہشوں کے جھرمٹ میں خلقِ خدا کو کتنی بار فیصلے بدلتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اس آنکھ کے منظر اور پس منظر میں ’’خیرات ‘‘ مرکزی کردار بن کر رہ گئی ہے ۔
اس آنکھ کا ایک ہی منظر اس کے کرب کے سمجھنے کے لیے کافی ہے اور وہ منظر ہے مال روڈ پر مختصر لباس میں ملبوس ایک محشر خرام حسینہ کا دایاں پائوں جب سرخ بتی جلنے پر اپنی مہنگی ترین گاڑی کی بریک پر آتا ہے ۔ ایک تنو مند ، خوش شکل نوجوان ہاتھوں میں کشکول لئے گاڑی کے پاس آکر صدائے فقیر انہ بلند کرتے ہوئے گاڑی کے شیشے پر خیرات کی دستک دیتا ہے ۔ آٹو میٹک گاڑی کا خود کار شیشہ آہستہ آہستہ یوں نیچے اترتا ہے جیسے رِندکے حلق میں شب ِ تنہائی میں شراب کی بوتل رفتہ رفتہ نیچے اترر ہی ہو ۔ ’’میں بھوکا ہوں ، بے روزگار ہوں ، ایک بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا ہوں ، آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں ، میرے گھر میں نہ بتی جلتی ہے نہ چولہا ، اللہ کے نام پر دے جا بی بی ! اللہ کے نام پر …‘‘ گاڑی میں مقید حُسن …لب کشا ہوتا ہے ۔ ’’جوان جہان ہو، ہٹے کٹے ہو ، شکل سے پڑھے لکھے بھی لگتے ہو۔ جائو ! جا کر کمائو ، محنت مزدوری کرو ، کشکول توڑ دو ، رزق حلال حاصل کرو، بھکاری مت بنو ، خیرات مانگنا چھوڑ دو ۔ ‘‘
نوجوان بھکاری زیر لب بڑ بڑایا اور پھر بلند آواز سے بولا ، ’’سنیے ! بی بی ! میں بھکاری نہیں ہوں ۔ میں اس باپ کا بیٹا ہوں جس نے میرے حلق میں کبھی رزق حرام نہیں اترنے دیا ۔ میں اس ماں کا لخت ِ جگر ہوں جس نے اپنے سر سے کبھی دوپٹے کو نہیں سرکنے دیا مگر !!!میرا باپ ایک دن گھر سے کبھی واپس نہ لوٹنے کے لیے اس طرح نکلا کہ میرے ہاتھوں میں کشکول آگیا ۔ وہ لاشوں کے اس ڈھیر میں دب گیا جن لاشوں کی ایف آئی آر ایک خود کش اور نامعلوم حملہ آور کے نام پردرج کی گئی ہے ، میری ماں کینسر کی مریضہ ہے ۔ اس کینسر کی مریضہ جس کی دوا کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری ہسپتال سے مفت میسر نہیں ہوتی ۔ میں بھکاری نہیں ہوں میرے باپ نے ایم اے تک مجھے تعلیم دلوائی مگر ! اے ناصحہ ! یہ کاسئہ مجبوری تو میرے ہاتھوں میں میری غیرت نے پکڑایا ہے ۔ ورنہ ان حالات میں وہ بہنیں نیلام ہونے کو تھیں ، وہ آنچل فروخت ہونے کو تھے ۔ چار دیواری کے اندر بسنے والی عصمتیں لب ِ بام آنے کو تھیں کہ میں نے اپنی غیرت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ۔لوگوں کے اموال گن پوائنٹ پر لوٹ کر ، قتل ِ عام کرکے رزق ِ حرام کمانے کی بجائے ، جوان بہنوں کو نیلام کرنے کی بجائے‘ خود اپنے ہاتھ پھیلادئیے ۔ بھکاری میں نہیں ہوں ، بھکاری تو وہ ہیں جو ہماری ویڈیو فلمیں بنا کر ، ہماری تصاویر اتار کر ، ہمارے ہاتھوں میں کشکول پر مبنی پراجیکٹ رپورٹس بنا کر کروڑوں روپے کے فنڈز اکٹھے کرتے ہیں ۔ بھکاری تو وہ ہیں جو ہمارے پھیلے ہوئے ہاتھوں کو دکھا دکھا کر حکومتی اداروں سے انسانیت کی فلاح ، خیرات کی بیخ کنی اور کشکول کے خاتمے کے لیے لاکھوں روپے وصول کرلیتے ہیں ۔ وہ نام نہاد این جی اوز ، سوسایٹیز اور انسانیت کا دم بھرنے والی فلاحی تنظیمیں ہمارے نام پر غیر ملکی فنڈنگ ایجنسیوں سے کروڑوں ڈالرز حاصل کرکے خود نگل جاتی ہیں ۔ بھکاری تو وہ ہیں جو بھکاریوںکے نام پر حاصل کردہ فنڈز سے اپنے بچوں کو مہنگے ترین سکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں۔ بھکاری تو وہ ہیں جو دیار غیر سے ملنی والی رقوم سے لگژری گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں ۔ بھکاری تو وہ ہیں جو انسانیت کے نام پر حاصل کی جانے والی ’’خیرات ‘‘کو ذاتی بینک بیلنس میں ڈھال لینے کا فن بخوبی جانتے ہیں اور اسی خیرات سے وہ بنگلوں ، کوٹھیوں اور محلات میں رہتے ہیں ۔ ان کے زرق برق لباس ، برق برق بن کر ہمہ وقت نیلام عام کے لیے سرِبازار‘ لبِ بام صدائیں بلند کر رہے ہوتے ہیں ۔ ایک پراجیکٹ رپورٹ کی منظوری کے لیے وہ آنچلوں کو ہوا میں اڑا دینے میں کوئی عیب نہیں سمجھتے ۔ ‘‘
اے ناصحہ ! کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ بھکاری وہ ہیں یا میں ؟’’مجبور کا نام بھکاری رکھا جانا چاہئے یا ان کا جو بھکاریوں کے نام پر سب کچھ سمیٹ لیتے ہیں ؟‘‘ نوجوان بھکاری اپنی بے ربط تمنائوں کے مبہم خاکے ، ماضی و حال کے اندھیرے اور بے نام اذیتوں کے ابلاغ کو ابھی مکمل نہ کر پایا تھا کہ اشارے کی بتی سرخ سے زرد ہو گئی ۔ حسینہ نے پانچ روپے کا سکہ ہو ا میں لہرا دیا ۔ گاڑی کا شیشہ خود کاربٹن سے اوپر چڑھ گیا ۔ بتی سبز ہوئی اور گاڑی چل دی ، نوجوان بھکاری نے سکہ اٹھایا اور آسمان کی طرف دست ِ دعا بلند کرتے ہوئے یوں گویا ہوا کہ ’’اے امیروں اور فقیروں کے پروردگار ، اے شاہوں اور گدائوں کے رب ، اے سائلوں اور سلطانوں کے رحمان خدا ! اس وطن پر چھائے ہوئے زرد موسموں کو ایسا شاداب کردے کہ کسی مجبور کے ہاتھوں میں کشکول نہ آسکے ۔ اس وطن کی مٹی کو ایسی زرخیزی عطا کر کہ ہر سُو امن ، انصاف ، محبت اتفاق اور اتحاد و یگانگت کی فصلیں لہلہاتی ہوئی دکھائی دیں ۔ گداگری کا خاتمہ تو ہو مگر گداگروں کے نام پر بھکاری بننے والے ناسور بھی ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ جائیں ۔‘‘
٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: