تازہ ترینکھیل

نامور شہ زور، فن پہلوانی کے تاج انوکی پہلوان انتقال کر گئے . انوکی کچھ عرصے طبیعت خراب ہونے کے باعث اسپتال میں داخل تھے۔ جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے. ان کی عمر 79 برس تھی ۔ انوکی نے 1990 میں اسلام قبول کیا تھا اور ان کا اسلامی نام محمد حسین انوکی رکھا گیا تھا۔وہ 12 بار پروفیشنل ریسلنگ ورلڈ چیمپین رہے۔آخری بار وہ سال 2012 میں پاکستان آئے تھے۔ ان کے انتقال پر ریسلنگ کی دنیا سوگ میں ڈوب گئی۔

ان کے انتقال پر دنیا بھر میں تعزیتی پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔اینوکی اپنی وفات تک جاپانی رکن پارلیمنٹ تھے اور چار دفعہ رکن پارلیمنٹ رہے۔

انتونیو انوکی سن 60 کی دہائی میں جاپان کی پروفیشنل ریسلنگ کے سب سے بڑے ناموں میں سے ایک بن کر ابھرے تھے
June 26, 1976 میں اُنھوں نے باکسنگ لیجنڈ محمد علی کے ساتھ مکسڈ مارشل آرٹس مقابلے میں حصہ لیا تو اسے ‘صدی کا سب سے بڑا مقابلہ’ قرار دیا گیا۔15 راؤنڈز تک جاری رہنے والا یہ مقابلہ برابر رہا تھا تاہم اسے جدید مکسڈ مارشل آرٹس کی بنیاد ڈالنے والا مقابلہ قرار دیا جاتا ہے۔

انوکی سے لوگ بہت محبت کرتے ت تھے ان کے کئی مداح اکثر ان سے طمانچے کھانے کی فرمائش کیا کرتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ انوکی کا طمانچہ کھانے سے مقابلے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔


انوکی19 دسمبر 1974 کو پاکستان آئے اور کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں اکرم پہلوان کو شکست دی

سال 1979 میں جھارا پہلوان اور انوکی کے درمیان لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں مقابلہ ہوا جس میں جھارا پہلوان نے انوکی کو شکست دی تھی۔

انوکی 1979 میں پاکستان کے پہلوان جھارا سے کشتی میں شکست کے بعد پاکستان میں مقبول ہوئے تھے.انوکی جھارا پہلوان کے بھتیجے اور اسلم پہلوان کے پوتے ہارون عابد کو اپنے ساتھ جاپان لے گئے تاکہ وہ وہاں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ پہلوانی کی تربیت بھی حاصل کر سکیں۔

دسمبر 2012 میں اُنھوں نے پاکستان کا دورہ کیا جس میں وہ اپنے ساتھ کئی جاپانی پہلوانوں کو لے کر آئے جنھوں نے لاہور اور پشاور میں ریسلنگ مقابلوں میں حصہ لیا۔
اسی دورے میں اُنھوں نے لاہور میں اکرم پہلوان اور جھارا پہلوان کی قبروں پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی بھی کی تھی۔

انوکی نے جاپانی پارلیمان کے ایوانِ بالا میں سنہ 1989 میں نشست بھی جیتی اور اگلے برس وہ خلیجی جنگ کے دوران عراق گئے اور صدام حسین سے جاپانی یرغمالیوں کی رہائی کی استدعا کی جنھیں رہا کر دیا گیا۔

انوکی کی وفات پر دنیا بھر میں ان کے مداح افسردہ ہیں اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کی فنی خدمات کو یاد کر رہے ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: