تازہ تریندلچسپ و حیرت انگیز

اہم واقعات سے بھرپور،اکتوبر کامہینہ

ماہ اکتوبر سیاسی اعتبار سے نہایت اہم مہینہ ہے اس مینے میں اہم واقعات تواتر کے ساتھ موجود ہیں.
ماہ اکتوبر 1947ء میں بھارتی فوج کشمیر پر قابض ہو گئی تھی اور آج 72برس گزر جانے ا کے بعد بھی ابھی تک کشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے۔
قیام پاکستان کے صرف چار برس بعد ہی ملک کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کا قتل بھی سولہ اکتوبر میں ہواا۔ماہ اکتوبر میں پاکستانی سائنسدان عبدالسلام کو نوبل انعام سے نوازا گیا ۔24اکتوبر1954ء کو اس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد نے پاکستان میں جمہوریت کی بساط لپیٹے ہوئے دستور ساز اسمبلی توڑ دی تھی۔
سال 2001ء میں ماہ اکتوبر کے دوران امریکہ وبرطانیہ نے اپنی فوجیں افغانستان میں اتاریں اور وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں لاکھوں معصوم افراد موت کی گھاٹیوں میں اتار دیے گئے پاکستان کو اس دوران بدترین معاشی بدحالی،خود کش حملوں،ڈرون حملوںاور سیاسی انتشار کا سامنا کرنا پڑا پاک فوج کے بہترین اقدامات سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔
سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خان کا انتقال بھی ماہ اکتوبر میں ہواتھا
ملکی تاریخ میں چیف جسٹس آف پاکستان کو ان کے منصب سے معطل کر دیا گیاجبکہ ملک میں مقامی حکومتوں کے قیام جیسے تجربات کیے جاتے رہے جس کے کرپشن کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔18اکتوبر 2007ء کو کراچی میں سانحہ کارساز ہوا جس میں بے نظیر بھٹو کے قافلے پر بموں سے حملہ ہواجس میں پیپلز پارٹی کے 124سے زائد کارکن جاں بحق و زخمی ہوئے تھے جبکہ ماہ اکتوبر میں ہی محترمہ بے نظیر بھٹو ملک کی و زیر اعظم منتخب ہوئیں ۔
27اکتوبر2009ء کو پشاور کے قصہ خوانی بازار میں بم دھماکہ ہوا جس میں 113افراد جاں بحق ہوئے۔ماہ اکتوبر 1979ء میں جہانگیر خان اسکوائش کے عالمی چیمپیئن بنے۔ ماہ اکتوبر میں پطرس بخاری، قوال نصرت فتح علی خان،فلم سٹار وحید مراد،جاوید شیخ پیدا ہوئے۔ماہ اکتوبر میںآغا شورش کاشمیری، شاعر مشرق علامہ اقبال کے فرزند جسٹس(ر) جاوید اقبال، معروف معروف افسانہ نگار ممتاز مفتی ،ڈاکٹر شیر افگن نیازی ،بیگم نصرت بھٹو،عظیم مزاح نگار کرنل محمد خا ن،معروف اداکار سید کمال نے وفات پائی،سابق گورنر سندھ حکیم سعید اور مولانا اعظم طارق حملہ میں جاں بحق ہو گئے تھے۔
ماہ اکتوبر میں پاک فوج کے لانس نائیک محمد محفوظ کو بعد از شہادت نشان حیدر سے نوازا گیا۔ماہ اکتوبر میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں معمر افراد،سبزی خوروں،اساتذہ کرام ،دماغی صحت ،ہاتھ دھونے ،خوراک،اقوام متحدہ کے عالمی ایام منائے جاتے ہیں۔
اکتوبر کا مہینہ نہ صرف پاکستان کیلئے تاریخی اورسیاسی اہمیت رکھتا ہے بلکہ وزیراعظم عمران خاں، نواز شریف، میر ظفراللہ جمالی، جنرل پرویز مشرف اور مولانا فضل الرحمٰن کی زندگی کے کئی ناقابل فراموش واقعات بھی اسی مہینے میں پیش آئے. عمران خاں کی زندگی میں اکتوبر یوں اہم ہے کہ ان کی پارٹی کا مینار پاکستان میدان لاہور میں وہ یادگار جلسہ 30 اکتوبر 2011کو ہی ہوا جس سے ملنے والی قوت نے بالآخر انہیں ایوان وزیراعظم میں پہنچایا.

عمران خاں پیدا بھی 5 اکتوبر 1952 کو ہوئے تھے۔ یکم اکتوبر 2012کوطالبان نے حکیم اللہ محسود کی صدارت میں کمانڈرز کے اجلاس کے بعد عمران خاں کی 6 اکتوبر کو ہونے والی ریلی کیلئے سیکورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی کیونکہ یہ ریلی ڈرون حملوں کیخلاف تھی.

اس ریلی کے نتیجے میں عمران خاں کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے کافی حمایت حاصل ہوئی جس کے ثمرات بعد میں ملتے رہے. پرویز مشرف کے وردی اتارے بغیر 6 اکتوبر2007کو ہونے والے صدارتی الیکشن لڑنے پر احتجاج کیلئے 2 اکتوبر 2007کو عمران خاں نے بھی 85 ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ استعفیٰ دے دیا. 11 اکتوبر 2019کو عمران خاں نے ترک صدر اردوان سے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے ترکی کی تشویش کو پوری طرح سمجھتا ہے.اس بیان کو ترکی اور مشرق وسطیٰ میں بہت اہمیت دی گئی.جنوری 2015میں اعلان کیا گیا کہ عمران خاں نے پاکستانی نژاد برطانوی صحافی ریحام خاں سے اپنی رہائش گاہ پر نکاح کرلیا ہے لیکن ریحام خاں نے بعد میں اپنی کتاب میں لکھا کہ ان کی شادی دراصل اکتوبر 2014میں ہوگئی تھی لیکن اعلان جنوری 2015میں کیا گیا.

دونوں نے علیحدگی کا فیصلہ بھی اکتوبر ہی کی 22 تاریخ کو کیا. اب اکتوبر ہی میں ہی عمران خاں کو اپوزیشن کا حقیقی چیلنج درپیش ہے. اسی ماہ کے آغاز ہی میں گیارہ جماعتی اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم نے مولانا فضل الرحمن کو اپنا سربراہ چنا. گزشتہ سال 30 اکتوبر کو مولانا فضل الرحمان کا عمران حکومت کیخلاف لانگ مارچ لاہور پہنچا تھا. یہ مولانا کا سب سے بڑا سیاسی جلوس تھا. انہوں نے مینار پاکستان میدان میں بڑے جلسے سے خطاب کیا تھا.

یہ مارچ 13 نومبر کو ختم کرکے پلان بی کے طور پر بڑی سڑکوں کو بند کیا گیا. نواز شریف کے 19 اکتوبر کو ایر ایمبولینس پر لندن روانہ ہونے کے ساتھ ہی احتجاج ختم کردیاگیا. 10 اکتوبر 2002 کو ہونے والے انتخابات میں مولانا فضل الرحمن نے متحدہ مجلس عمل(ایم ایم اے) کی قیادت کی تھی۔
ان انتخابات کے بعد پرویز مشرف کی حمایت سے مسلم لیگ ق کو اکثریت مل گئی اور میر ظفراللہ جمالی وزیراعظم بنے لیکن ایم ایم اے نے 63 نشستیں جیت کر سب کو حیران کردیا تھا. پیپلز پارٹی نے81 نشستیں لیں اور مسلم لیگ ن کا صفایا ہوگیا۔اس سے تین سال پہلے 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر کی 12 تاریخ کو ہی نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تھا. 2010 میں اکتوبر کے مہینے میں ہی پرویز مشرف نے لندن کے ایک کلب میں اپنی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ بنانے کا اعلان کیاتھا۔

16 اکتوبر 1951کو پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں قتل ہوئے اور 17اکتوبر کو ملک غلام محمد نے گورنر جنرل اور خواجہ ناظم الدین نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا.
غلام محمد کے استعفے کے بعد سکندر مرزا نے یکم اکتوبر 1955 کو ہی عہدہ سنبھالا. 7 اکتوبر 1958 کو انہوں نے مارشل لا لگا دیا. 27 اکتوبر کو جنرل ایوب خاں نے انہیں چلتا کیا. 26؍ اکتوبر1959 کو ایوب خاں نے بنیادی جمہوریت کا تصور دیا اور اگلے دن فیلڈ مارشل بن گئے۔
نواز شریف 24 اکتوبر 1990 کے الیکشن کے نتیجے میں وزیراعظم بنے.6 اکتوبر1993کے الیکشن کے نتیجے میں بینظیر دوبارہ وزیراعظم بنیں. 8اکتوبر 2006 کو ملک میں بدترین زلزلہ آیا.18 اکتوبر 2007 کو بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر سانحہ کارساز پیش آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: