کالم

یوم تکریم شہداء اور 9/5 کے کرداروں کا محاسبہ

پیر زاہد حسین شاہ

عمران خان اپنے طالب علمی کے دورسے کرکٹ اور سیاست میں آنے تک مختلف سکینڈلز کی زد میں رہے، یہ انکی خوش قسمتی تھی، کہ سیتا وائیٹ سے معاشقہ، جمائمہ سے شادی اور طلاق، ریحام خان سے شادی اور طلاق بشری ٰبی بی سے دوران عدت شادی ، اور اس شادی کی وجہ سے وزیر اعظم بننے کی خبروں تک ،عوام میں بیحد مقبول رہے، کسی مخالف سیاسی پارٹی نے انکے سکینڈلز کو اچھالنے کی کبھی بھرپور کوشش نہیں کی، ورنہ ان کے لئے سیاسی سفر میں مشکلات پیدا ہو سکتی تھیں۔
عمران خان نے جب تحریک انصاف کی بنیاد رکھی، تو پارٹی طویل عرصہ تک ایک تانگے کی سواریوں تک محدودرہی، ورلڈ کپ جیتنے، شوکت خانم ہسپتال و نمل یونیورسٹی جیسے بڑے پراجیکٹس کی تکمیل نے بھی انہیں سیاسی سفر میں کوئی فائدہ نہ دیا،اسی دوران اسٹیبلشمنٹ کے کچھ بااثر عہدیداروں نے 2013 کے الیکشن سے قبل ان کے سر پر دست شفقت رکھا اور مینار پاکستان کے جلسہ عام سے انہیں عوامی پذیرائی کی جھلک دکھائی، اس الیکشن نے انہیں چند سیٹیں دلوا کر مسقبل کے لئے انکی راہ ہموار کرنی شروع کی، دو تہائی اکثریت سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو نا اہل کرا دیا گیا، 2018 کے جنرل الیکشن سے قبل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سے قد کاٹھ والے سیاسی لوگوں کو تحریک انصاف میں شامل کرایا گیا اور عمران خان کو ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں سے زیادہ نشستیں جتوائی گئیں، سادہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود ایم کیو ایم ، مسلم لیگ ق اور دوسری چھوٹی پارٹیوں کو ملا کر عمران خان کو مخلوط حکومت کا دبنگ وزیر اعظم بنا دیا گیا۔
عمران خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے ، جنہیں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی بھر پور حمایت کے ساتھ نیب جیسے پاور فل ادارے کی بھی سرپرستی حاصل تھی، عمران خان نیا پاکستان بنانے اور نئے پاکستان میں ریاست مدینہ جیسی حکومت بنانے کا نعرہ لگا کر وزارت عظمی کی کرسی پر بیٹھے۔ اپنے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں انہوں نے اپوزیشن کو چور ڈاکو کہتے کہتے گزار دئیے ، اس سے اسٹیبلشمنٹ بھی ان سے نالاں ہوئی اور ان کے سر سے دست شفقت اٹھا لیا۔پی ایم ایل این نے اپنے پانچ سالہ دور میں معیشت کو مضبوطی سے سنبھالا ہوا تھا، ہر سو ترقی ہو رہی تھی، لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ، دہشت گردی کا خاتمہ، کرنسی کا استحکام ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور ہر سو ترقیاتی منصوبوں پر دن رات کام ہو رہا تھا، عمران خان کے برسر اقتدار آتے ہی سی پیک پر کام رک گیا اور آہستہ آہستہ ناقص منصوبہ بندی اور ناتجربہ کار ٹیم کی ناقص منصوبہ بندی سے معاشی حالات بگڑنا شروع ہو گئے۔ مہنگائی اور بیروز گاری میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا، عمران خان اپنی اصلاح کی بجائے ہر چیز کا ذمہ دار سابق حکومت کو ٹھہراتے رہے اور ساری توجہ مخالفیں کو دبانے اور انہیں پابند سلاسل کرنے پر رکھی۔ میرے جیسے طالب علم اور دوسرے کئی سینئر صحافی اپنے کالموں اور ٹاک شوز میں عمران حکومت پر لکھتے رہے ہیں، لیکن میڈیا میں بھی چند لوگ انکی برائیوں کو اچھائیوں میں شمار کرتے رہے اور عمران خان کو سب اچھا ہے کی نوید سناتے رہے۔عمران خان نے اپنے حلف سے کہاں تک انصاف کیا ؟تحریک انصاف کے نام سے بننے والی پارٹی نے انصاف کی فراہمی کے لئے کیا کیا؟ نائن فائیو کے بعد اس کا جواب انکے دیرینہ ساتھی جو کبھی انکے ترجمان ہوتے تھے، انہیں نجات دہندہ سمجھتے تھے، آج پارٹی چھوڑتے وقت میڈیا کے سامنے خود ہی بیان کر رہے ہیں۔
عمران خان کے خلاف جب اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد داخل کی تو انہیں تکبر اور انا نے شکست سے ہمکنار کیا، انہوں نے ایک سیاسی رہنما کی طرح اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے میں سستی دکھائی، اور جذباتی انداز میں قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر کے موجودہ اتحادی حکومت کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا، امریکی مداخلت کا بیانیہ ،اسلام آباد پر چڑھائی، فوری الیکشن ، اسٹیبلشمنٹ مخالف تقاریر، پنجاب اور کے پی کے ، کی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے جذباتی فیصلے ان کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے۔ جب حسب خواہش رزلٹ سامنے نہ آئے تو انہوں نے ان معاملات کو سیاسی انداز میں حل کرنے کی بجائے اپنی عوامی مقبولیت کے گھمنڈ میں جارحانہ انداز میں اپنے محسنوں ( اسٹیبلشمنٹ)پر بیجا تنقید کو وطیرہ بنا لیا۔جس سے نائن فائیو والا افسوس ناک سانحہ رونما ہوا۔ قبل ازیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے قائدین جھوٹے سچے مقدمات میں گرفتاریاں دیتے رہے ہیں، لیکن عمران خان ایک بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ ہو کر گرفتاری سے بچنے کے لئے کارکنوں کو ڈھال بناتے رہے، انکی گرفتاری کے بعد انکے پارٹی لیڈروں اور کارکنوں نے جناح ہاؤس سمیت فوجی ، قومی تنصیبات و شہداء کی یادگاروں اور ایم ایم عالم کے یاد گاری طیارے کو جس بیدردی سے جلایا اور بے حرمتی کی ناپاک حرکتیں کیں ، اس سے پوری قوم رنجیدہ ہے اور ان ناپاک کرداروں کو قرار واقعی سزا دلوانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔اس وقت ملک سیاسی ، معاشی اور آئینی بحران میں گھرا ہوا ہے، حکومت وقت عوام دوست بجٹ بنائے، عوام کو ریلیف دے اور بجٹ کے بعد جنرل الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرے ، تاکہ فریش منڈیٹ سے بننے والی حکومت ملک کا نظم و ضبط سنبھال کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرے۔حکومت نے9/5 کو یوم سیا ہ اورآج (25 مئی )یوم تکریم شہداء منانے کا اچھا فیصلہ کیا ہے ، غیور قوم شہداء کو سلام عقیدت ،افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی اور عہد تجدید دفاع وطن کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex