اداریہ

یواے ای ،پاکستان کے مابین اہم پیش رفت

عرب امارات کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا سلسلہ 1970ء کی دہائی میں شروع ہوا تھا اور ان برادر مسلم ممالک کے درمیان دوستی کی بنیاد شیخ زید بن سلطان النہیان نے رکھی تھی۔ اب ان کے صاحبزادے شیخ زید محمد بن النہیان اس دوستی کو نئی بلندیوں کی جانب لے کر جارہے ہیں۔ اسی حوالے سے انوارالحق کاکڑ نے اپنے خصوصی پیغام میں کہاہے کہ پاکستان اور امارات کے مابین جو نئے معاہدے طے پائے ہیں ان کے نتیجے میں شروع ہونے والے منصوبوں کے بہت جلد پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات نظر آئیں گے۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کیونکہ پاکستان اس وقت جن معاشی مسائل میں الجھا ہوا ہے ان سے نکلنے کے لیے اسے دوست ممالک کے تعاون کی ضرورت ہے۔ امارات پہلے بھی اسی حوالے سے پاکستان کی بھرپور مدد کرچکا ہے اور اس کی مدد کے باعث ہی پاکستان اس قابل ہوسکا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے معاہدے میں ہونے والی تاخیر کے باوجود اپنی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچاسکے۔واضح رہے کہ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اور پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی اوراس موقع پر نگران وزیراعظم اور اماراتی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی اور گہرے برادرانہ تعلقات ہیں جو وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں۔ دونوں رہنماوں نے پاکستان اور امارات کے درمیان دوطرفہ تزویراتی تعاون اور بات چیت کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انوارالحق کاکڑ نے اقتصادی اور مالیاتی شعبے میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے لیے بھرپور تعاون پر گہرے شکر کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں رہنماوں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان توانائی، پورٹ آپریشنز پروجیکٹس، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، فوڈ سکیورٹی، لاجسٹکس، معدنیات اور بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخطوں کا مشاہدہ کیا۔ ان مفاہمتی یادداشتوں کی بدولت متحدہ عرب امارات کی پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گی اور سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے تحت مختلف اقدامات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ نگران وزیراعظم نے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا جس سے پاک متحدہ عرب امارات اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی مفاہمتی یادداشتوں پر جو دستخط کیے ہیںاس سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون، علاقائی استحکام اور تزویراتی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت متحدہ عرب امارات میں تقریباً اٹھارہ لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جن کے لیے امارات دوسرے گھر کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ وہاں دونوں برادر ممالک کی ترقی، خوشحالی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان افراد کی امارات میں موجودگی سے دونوں ممالک کے تعلقات بھی مزید مضبوط ہورہے ہیں۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے یہ لوگ پاکستان کے سفیروں کی حیثیت بھی رکھتے ہیں جو امارات میں صرف روزگار ہی نہیں کما رہے بلکہ دونوں ملکوں کے ایک دوسرے پر اعتماد کو بھی بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان اور امارات کے مابین جو اربوں ڈالر کے نئے سمجھوتے ہوئے ہیں ان سے بھی جو نئے مواقع پیدا ہوں گے وہ دونوں ملکوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اہم ثابت ہوں گے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ ان سمجھوتوں کے ذریعے جن شعبوں میں دونوں ملک مل کر کام کریں گے ان میں ہماری حکومت کی جانب سے کس قسم کا تعاون کیا جاتا ہے۔دونوں ملک کے مابین ہونیو الے نئے معاہدوں کے تحت پاکستان میں متحدہ عرب امارات کی طرف سے 20 سے 25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس تاریخی سرمایہ کاری سے پاکستان میں معاشی استحکام کی راہ ہموار ہو گی۔ اس حوالے سے ایک حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ ایس آئی ایف سی کے تحت ان منصوبوں سے متعلق مختلف اقدامات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ امارات میں تعینات پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک اپنے بہتر مستقبل کے لیے تزویراتی تعاون اور اقتصادی، تجارتی اور ترقیاتی انضمام کو بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور مشترکہ سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے وسیع اقتصادی صلاحیتوں اور امتیازی مواقع کو بھی اجاگر کر رہے ہیں۔ فیصل ترمذی نے دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے لیے امید افزا شعبوں کو اجاگر کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ پاکستان مختلف مسائل کے حل کے لیے جن برادر ممالک پر اعتماد کرسکتا ہے متحدہ عرب امارات کا شمار بھی انہی میں ہوتا ہے۔ اس اعتماد کو ایک تازہ پیشرفت کے ذریعے مزید استحکام حاصل ہوا ہے جوکہ خوش آئندہے۔
گل بہادرکی حوالگی کامطالبہ
اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے نمائندے کو وزارت خارجہ طلب کیا گیااور ذرائع کے مطابق پاکستان نے 26نومبر کو ضلع بنوں میں ایک افغان شہری کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملے کی شدید مذمت کی۔ ذرائع کے مطابق افغان نمائندے سے بنوں حملے کے مرتکب افراد/ مہم سازوں کے خلاف مکمل تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا گیاہے اور پاکستان نے دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے اور حافظ گل بہادر کو پکڑ کر پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
واضح رہے کہ بنوں کے علاقہ بکا خیل میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملہ کرنے والا افغان شہری تھااوراس خود کش حملے میں دو افراد شہید اور تین اہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے تھے جبکہ خودکش حملہ آور کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی جس کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی کے حافظ گل بہادر گروپ سے ہے۔ٹی ٹی پی جس کی سفاکیت کے باعث آپریشن ضربِ عضب اور دیگر بہت سے آپریشنز شروع کیے گئے تھے ان کے بعداس تنظیم کے اکثر دہشت گرد مارے گئے یا پھر افغانستان فرار ہوگئے تھے ،ان کی کچھ باقیات پاکستان میں دبک گئیں اور موقع ملتے ہی چھوٹی موٹی واردات کردیتی تھیں لیکن اب چندماہ سے دہشت گردی کے واقعات میں تسلسل نظر آرہا ہے۔ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے سیف ہاوسز بن چکے ہیں۔ پاکستان اس پر باقاعدہ احتجاج بھی کرچکا ہے مگر مثبت رسپانس نہیں ملا۔آج کل دہشت گردی کی زد میں آئے علاقوں میں آپریشن جاری ہیں جو امید ہے کہ جلد پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کمانڈر گل بہادرکی حوالگی کامطالبہ سوفیصددرست ہے کیونکہ یہ دہشت گردایک طویل عرصہ سے پاکستان کونقصان پہنچارہاہے۔اگرافغان حکومت پاکستان کے ساتھ بہترتعلقات کی خواہاں ہے تواسے گل بہادراوردیگردہشت گردوں کوپاکستان کے حوالے کرناہوگا۔
غزہ :عالمی ادارہ صحت کاانتباہ
عالمی ادارہ صحت نے خبردارکیا ہے کہ غزہ میں حالات بہتر نہ ہوئے تو امراض پھیلنے سے بمباری سے بھی زیادہ اموات ہوسکتی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ترجمان نے جنیوا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اگر ہم طبی نظام کو پھر سے کھڑا نہیں کرتے تو بمباری کے مقابلے میں مختلف امراض پھیلنے سے زیادہ اموات ہوسکتی ہیں۔ غزہ میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں جن میں ہیضہ سرفہرست ہے۔ شمالی غزہ کے بے گھر رہائشیوں کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ان افراد کو ادویات، ویکسینز، صاف پانی اور خوراک جیسی بنیادی سہولیات دستیاب نہیں۔ ہم نے بچوں میں ہیضے کے بہت زیادہ کیسز کو دیکھا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے شمالی غزہ کے الشفا ہسپتال کی تباہی کو سانحہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے طبی عملے کی گرفتاریوں پر خدشات کا اظہار کیا۔ غزہ میں بچوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ غزہ کے ہسپتال زخمی بچوں سے بھرے ہوئے ہیں جبکہ پینے کا صاف پانی نہ ہونے سے بھی معدے کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
مختلف عالمی اداروں کی رپورٹس آئے روزچیخ چیخ کرپوری دنیاکواپنی جانب متوجہ کررہی ہیں کہ غزہ میں صیہونی افواج کے ہاتھوں کس قدرتباہی اوربربادی ہوئی ہے۔بتایاجارہاہے کہ غزہ کی برآمدات کا 55 فیصد حصہ زرعی پیداوار پر مشتمل رہا ہے اوراسرائیلی جارحیت سے سب کچھ تباہ ہوگیاہے جبکہ دوسری جانب حالت یہ ہے کہ صیہونی فوج یہ ساری تباہی کرنے کے باوجودبھی اپنے اہداف مکمل کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی اورحماس مجاہدین کوشکست نہیں دی جاسکی۔ضرورت اس بات کی ہے عالمی قوتیں اورمسلم ممالک اب سخت رویہ اختیارکریں اوریہودی فوج کی جارحیت کوروکیں اوراس چندروزہ سیزفائرکومکمل طورپرجنگ بندی میں تبدیل کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے