کالم

ہم شرمندہ ہیں

ایم زیڈ مغل

خیر سے رمضان کا پہلا عشرہ اپنے اختتام کے قریب قریب ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس سال موسم کافی مہربان رہا ہے اور کم و بیش پہلے عشرہ کے دوران روزے ٹھنڈے ہی گزررہے ہیں۔ اپنے ملک میں پرسکون حالات پرخدا کا جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے کیونکہ اس آرام و سکون کی قدر اِس وقت مصیبت زدہ فلسطینی بھائیوں سے زیادہ کوئی نہیں جانتا ہوگا کوئی اُن سے پوچھے اپنی فوج کی کیا اہمیت و وقعت ہے تو میرے خیال میں ان سے زیادہ کوئی بھی اس کی اہمیت اچھے انداز میں نہیں بتاسکتا ہوگا۔
خطبہ جمعہ میں اپنی مسجد کے امام صاحب کے دل میں فلسطینی بھائیوں کیلئے کَرب و دَرد کوان کے الفاظ میں محسوس کیا جو دعا کی صورت میں نکل رہے تھے اور نمازیوں کی اکثریت آمین آمین کی صدائیں بلند کرکے اپنی زمہ داری پوری کرتے ہوئے اپنے من کو تسلی دے رہی تھی۔ دُعا میں امام صاحب اللہ کے حضور کسی صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم کی آمد جیسے معجذات کے طلب گار تھے لیکن اپنا نادان دل کہیں اور ہی مشغول تھا ان دعائوں پر آمین کہتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔ دل میں آواز اٹھتی تھی کہ دو ارب مسلمانوں کی موجودگی میں صلاح الدین ایوبی دوم کیلئے دعا کرنا نا انصافی ہے۔ محمد بن قاسم کے مدد کو آنے تک فلسطینی بھائیوں کو ظالم و بے رحم ناخدائوں کے سامنے بے بس چھوڑے رکھنا کہاں کا انصاف ہے۔ کیا یہ رونے کا مقام نہیں کہ 57 مسلم اکثریتی ممالک اور دو ارب کی مسلم کمیونٹی میں کوئی ایک بھی صلاح الدین ایوبی نہیں؟ کیوں ابھی تک مسلمان ابابیلوں کی مدد کے منتظر ہیں کیا اپنے زورِ بازو پر کسی کو یقین نہیں۔ حماس کی کارروائیوں کے ہم خلاف نہیں ہے لیکن ایسی کارروائیوں کا کیا فائدہ جس میں اسرائیلی 20 بچے مارے گئے (بچے کسی کے بھی ہوں ان کی موت پر خوش ہونا حماقت ہی ہے) تو جواب میں ابتک 13 ہزار فلسطینی بچے اسرائیلی بے رحم بمباری کی نظر ہوچکے ہیں اور اس سے بڑی تعداد غزہ میں قحط سالی کے باعث دارِ فانی سے کوچ کرجائے گی۔ کہاں گئے اسلام کے ٹھیکیدار طالبان جنہوں نے خلافت کا دعویٰ کرتے ہوئے ہزاروں معصوموں کی اسلام کےنام پر قربانی دے ڈالی۔ مقامِ حیرت ہے کہ امارتِ اسلامیہ کے نام پر قائم ریاست افغانستان میں حکومت قائم کئے ہوئے طالبان نے کوئی ایک بھی ایسا سخت بیان یا ردعمل نہیں دیا جو فلسطینی بھائیوں کے زخموں پر مرحم رکھنے کے مترادف ہو۔
بتاتا چلوں کہ خلافت عثمانیہ کا مرکز موجودہ ترکیہ میں دنیا کا سب سے بڑا اسرائیلی سفارت خانہ قائم ہے۔ ہم طیب اردوان کو بطور سربراہ اسلامی مملکت انتہائی ادب و تعظیم کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیا ہم ان سے یہ توقع کریں کہ وہ فلسطین میں جاری بربریت پر اسرائیلی سفارت خانہ کو بطور احتجاج بند کرنے اور عملہ کو ملک بدری کے احکامات جاری کریں گے؟
دنیا کے سات براعظموں میں ایشیا دوسرا بڑا براعظم ہے جس میں کم وبیش ایک ارب 25 کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ بڑی فوجی طاقتیں بھی موجود ہیں جن میں پاکستان کا شمار امتِ مسلمہ میں اہم ترین ایٹمی قوت کے طور پر تصور کیا جاتا ہے جبکہ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان 26 کروڑ آبادی کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا مسلم ملک بن چکا ہے اور حالیہ اعداد و شمار پاکستان کی آبادی 28 کروڑ ظاہر کرتے ہیں لیکن بظاہر پاکستان کی خارجہ پالیسی فرعونیت کے دعویدار اسرائیل کے مظالم اور امریکہ بہادر کی اسرائیل کو آشیرباد کے خلاف بھرپور انداز میں آواز اٹھانے کی جسارت نہ کر سکی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ حکومتِ پاکستان مذمتی بیانات کےعلاوہ جنگ بندی کی درخواست تک ہی محدود رہنے پر اکتفا کرتی رہی ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔
اُمتِ مسلمہ کی حکمرانی کے دائمی دعوے دار سعودی عرب سمیت ارب پتی ممالک قطر، کوئیت، متحدہ عرب امارات اور اومان بھی زبانی کوششوں سے صرف چند دن کی جنگ بندی کے علاوہ اور کچھ نہ کر سکے۔ دیکھتے ہی دیکھتے 30 ہزار فلسطینی لقمہ اجل بنائے جا چکے ہیں الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی 4.6 فیصد آبادی شہید کر دی گئی ہے جبکہ اس خطہ میں ممکنہ قحط سالی کے باعث یہ تعداد 40فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ کیا مسلم امہ بلخصوص عرب حکمرانوں سے ربِ کائنات معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگوں کی بے رحم مُوت کا سوال نہ کرے گا جنہیں بے رحمی سے جلتی وادی میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔
ہم یہ بھی دیکھتے آئے ہیں کہ گذشتہ تین چار ماہ سے پوری دنیا میں عوامی سطح پر متعدد احتجاج ہوتے آئے ہیں لیکن ظلم کی علامت اسرائیل اور امریکہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ عام مشاہدہ ہے کہ اگر ایک جانور بھی آگ میں گرنے لگے تو انسانیت کا تقاضہ ہے کہ آگے بڑھ کر اسے بچا لیا جائے۔ لیکن فلسطین کیلئے پوری دنیا ایک بُت کی مانند خاموش بیٹھی ہے۔ لہذا یہ تو ثابت ہوتا ہے مغربی حکمرانوں کا انسانی حقوق کا نعرہ لگانا صرف ایک ڈھونگ ہے۔ کتوں بلیوں کو پیار کرنے والوں نے ہزاروں انسانی بچوں، عورتوں کو ملبے تلے زندہ درگور کردیا وہ اس پر افسردہ ہیں نہ ہی نادم۔ امریکی رکن کانگریس اینڈی اوگلز فلسطینیوں سے کھلم کھلا اظہار نفرت کرتے ہوئے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ "اب جواب دینے کا وقت آگیا ہے، غزہ میں تمام فلسطینیوں کو قتل کر دینا چاہیئے”۔ یہ فرعونیت اور شیطانیت کا دعویٰ ہے، انسانیت مظلوم فلسطینیوں کے سامنے شرمندہ ہے۔ کہتا چلوں ظالم کے ظلم پر خاموش رہنا مظلوم پر ظلم ہے اور ہماری عوامی و حکومتی سطح پر خاموشی اس ظلم کا حصہ تصور ہوگی جو فلسطینی نہتے شہریوں پر ڈھایا جا رہا ہے۔ فلسطینی بھائیو ہم شرمندہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex