کالم

ہم تہذیب کی لکیر سے بھی نیچے جارہے ہیں

محمود شام

لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا
(حیدر علی آتش)
غربت کی لکیر سے نیچے تو ہر روز ہی لاکھوں جارہے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات ہیں کہ پاکستان کی کُل آبادی کا 40فی صدحصہ غربت کی لکیر سے نیچے ہے جو مشکل سے زندگی گزار رہا ہے۔ ہم بحیثیت ریاست۔ بحیثیت قوم ان کی زندگی میں آسانیاں نہیں پیدا کرسکے ۔ بلکہ جوں جوں ڈالر کی قدر اوپر جاتی ہے۔ روپیہ نیچے جاتا ہے تو کچھ لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے ہیں۔یہ تشویش اپنی جگہ ہے۔ لیکن ایک پہلو اس سے بھی زیادہ کرب انگیز ہے کہ غریب غربت کی لکیر سے نیچے جارہا ہے تو امراء تہذیب کی لکیر سے نیچے جارہے ہیں۔ اس کیلئے کسی عالمی ادارے نے کوئی آلۂ پیمائش ایجاد نہیں کیا ہے۔ پاکستان کی موجودہ سر زمین، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں کشمیر، گلگت بلتستان سب کئی کئی صدیوں کی تاریخ رکھتے ہیں۔ جب یورپ اندھیروں میں بھٹک رہا تھا۔ جب امریکہ دریافت ہی نہیں ہوا تھا۔ اس وقت پاکستان کی یہ وحدتیں تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھیں۔ادب، روایات، اقدار سے وادیٔ سندھ مالا مال تھی۔ آثار قدیمہ کے ماہرین جب یہاں کھدائی کرتے ہیں تو کیا کیا تہذیبیں اپنا حسن بے نقاب کرتی ہیں۔ ان وادیوں سے تہذیب باہر سے آنے والے حملہ آوروں نے چھینی ہے۔ سینکڑوں سال پہلے رہنے والوں کی زبان بگاڑی۔ رہنے سہنے میں آلودگی شامل کی۔ انگریز کی غلامی نے مروّت، حمیت، شائستگی سب ملیا میٹ کردیں۔ 1947میں ہم نے انگریز سے آزادی تو حاصل کرلی۔ مگر وہ ، بقول فیض،داغ داغ اجالا تھی۔ احمد ندیم قاسمی نے کہا۔
پھر بھیانک تیرگی میں آگئے
ہم گجر بجنے سے دھوکا کھاگئے
مسلم لیگ کے جاگیرداروں، زمینداروں، سرمایہ داروں اور ٹھیکیداروں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے صدیوں سے رائج سلیقے اور قرینے اقتدار کی چوکھٹ پر وار دیے۔ 1971ءتک آپ کو پھر بھی کچھ خیال ہم نفساں نظر آتا ہے۔ ایک دوسرے کی عزت احترام۔ لیکن اس کے بعد سیاسی لغت میں جس طرح سے بد زبانی داخل ہوئی ہے۔ الاماں الحذر۔ 1985ء کے غیر سیاسی،غیر جماعتی انتخابات سے جو زعماء اور قائدین سیاسی اکھاڑے میں اتارے گئے۔ ان کا ذخیرۂ الفاظ عمومیت، دشنام اور ہزلیات سے معمور تھا۔ کتاب سے اکثر کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان اسمبلیوں کی تقریریں اٹھاکر پڑھ لیں ورنہ طاہر حنفی سے رجوع کرلیں۔ اس سے پہلے آپ ایوب خان کے دَور کی اسمبلی میں مشرقی پاکستان کے ارکان کی تقریریں سنیں۔ خاص طور پر مولوی فرید احمد کی۔ پھر 1971ء کے بعد 1973ءکا آئین بنانے والی اسمبلی میں شہید ذوالفقار علی بھٹو ،پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانی، شیر باز مزاری، محمود علی قصوری، خان عبدالولی خان اور مولانا کوثر نیازی کی تقریریں سن لیں۔1985ءکی مجلس شوریٰ۔ پھر 1988ءسے تاحال، فرق صاف واضح ہوجائے گا۔ عام طور پر زبان اور کردار کو والدین کی تربیت، اساتذہ کی تدریس سے جوڑا جاتا ہے۔ 1985ءسے ہمارے قائدین جن سہولت کاروں کی آغوش میں پل کر آرہے ہیں۔ اب ان کی ذمہ داری کہیں یا ان درسگاہوں کی جہاں سیاسی جماعتوں لسانی تحریکوں کی ذیلی طلبہ تنظیمیں ماحول سازی کررہی ہیں۔ کسی کو بھی ذمہ دار سمجھ لیں۔ زبان بگڑ گئی ہے۔ کتابیں پڑھنا تو اپنی جگہ۔ اخبار رسالے پڑھنے بھی چھوڑ دیے ہیں۔ اب سوشل میڈیا نے تو بد زبانی کی حد کردی ہے۔ مطالعہ آپ کو وحشت،بیزاری سے بچاتا ہے۔ قرآن پاک، احادیث اس کے بعد فضائل صحابہ۔ پھر علماء، مشائخ کی زندگی کی داستانیں آپ کی شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں۔ رجحانات، پالیسیوں پر تنقید کرنے اور ان کے متبادل طریقے بتانے کی بجائے جب کسی کی ذات، خاندان، مسلک ،کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا اور جواب میں بھی یہی طریق اظہار ہو گا تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہماری فضا کیسی کیسی آوازوں سے مسموم ہوگی۔ ٹیلی وژن چینلوں نے بھی اس میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ایسے الفاظ جو پرنٹ میں ذریعۂ اظہار نہیں ہوتے تھے۔ وہ کم علمی اور نا سمجھی میں شروع کئےگئے۔ اب وہ بے دریغ استعمال کئے جاتے ہیں۔ بلکہ ایسی انتہا پسندانہ تراکیب، اصطلاحات، مبالغہ آمیز متروکات تکیۂ کلام بنتی جارہی ہیں۔ میرپور آزاد کشمیر میں بیٹھے پروفیسر غازی علم الدین اس پر تشویش کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ کئی کتابیں اس سلسلے میں تحقیق کے بعد منظر عام پر لاچکے ہیں کہ کس طرح یادہ گوئی، بے مغزی، سطحیت غالب آچکی ہے۔
میں اپنے ان قارئین کا شکر گزار ہوں ۔ جنہوں نے ’’سندھ کیا پڑھ رہا ہے‘‘ میں میری معروضات کو صدائے وقت قرار دیا۔ اور آج کی افراتفری میں امید کی ایک کرن۔ اب مجھے سندھ پر ایک دو کالم اور نذر قارئین کرنا ہیں۔ پھر بلوچستان۔ خیبر پختونخوا۔ پنجاب۔ جنوبی پنجاب کیا پڑھ رہے ہیں۔ احباب پُر جوش ہیں تعاون کررہے ہیں۔ مطالعہ جس طرح ایک با مقصد، مہذب معاشرے کی تعمیر کرتا ہے۔ 1985سے جاری بد زبانی ، بے مغزی، سطحیت۔ کتاب سے دوری ایک معاشرے کو غیر مہذب بناتی ہے۔ شہر کو جنگل۔ ایسے سطحی انداز رکھنے والے معاشروں میں رواداری اور عدم برداشت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ کسی بھی واقعے یا اقدام کے اسباب اور نتائج پر سوچنے کی زحمت نہیں کرتے۔ سرکاری حکام بھی معاملات سے نمٹنے میں شعور کی پختگی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ ایم اے۔ پی ایچ ڈی تک کی ڈگریاں ہوتی ہیں۔ لیکن اپنے روز مرہ کو وہ میٹرک تک کی تعلیم سے چلارہے ہوتے ہیں۔ ان دنوں آپ خاص طور پر کمشنروں، سیکرٹریوں، پولیس کے اعلیٰ افسروں اور اکثر وزراء کے رویوں میں یہی عامیانہ پن دیکھ رہے ہیں۔ عام شہریوں سے حسن سلوک بہت کم نظر آتا ہے۔ عورت کا احترام ہر مہذب معاشرے کی ایک روشن علامت سمجھا جاتا ہے۔ اعلیٰ ترین عہدوں سے لے کر نیچے ایک عام پولیس والے، کسی افسر کے چپراسی تک میں عورت کے لئے عزت نظر نہیں آرہی ہے۔ سیاسی رہنمائوں کی تقریروں میں مخالفین کے لئے جو زبان برتی جارہی ہے۔ وہ اَن پڑھوں کے ہاں بھی دیکھنے میں نہیںآتی۔ معاشرے کو مہذب رکھنے میں آئین اور تعزیرات کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ نظام عدل سے شہریوں کی اکثریت کو کوئی آس نہیں رہی۔ رہی سہی کسر ایسی حکومتیں پوری کردیتی ہیں جو سپریم کورٹ کے فیصلے بھی تسلیم نہیں کرتیں۔ ایک تو اس وقت قومی اسمبلی نامکمل ہے۔ پھر سب سے بڑے صوبے میں اسمبلی نہیں ہے۔ یوں فیصلہ سازی میں ملک کی اکثریت شامل نہیں ہے۔ہم جس عمودی اور افقی بحران سے دوچار ہیں وہ سیاسی اور اقتصادی تو ہے ہی۔ مگر اس کا اخلاقی پہلو بھی بہت تشویش ناک ہے۔ ا س سے ہماری اولادوں کے کردار متاثر ہورہے ہیں۔ وہ تہذیب کی لکیر سے نیچے جارہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex