کالم

ہم اور ہمارے بچے کیا کھا رہے ہیں ؟

وسعت اللہ خان

حالانکہ کھانا زندہ رہنے کے لیے کھایا جاتا ہے لیکن کبھی کبھی کھانا زندگی چھین بھی لیتا ہے۔یہی بات سمجھانے کے لیے ہر برس کی طرح کل محفوظ خوراک کے فروغ کا عالمی دن سات جون کومنایا گیا۔یہ درست ہے کہ رزق کا وعدہ اوپر والے نے کیا ہے۔یہ بھی بجا کہ غذا وہ کھانی چاہیے جو حلال اور صحت بخش ہو۔اس کے باوجود خوراک پاک و صاف ماحول میں تیار نہ کی جائے تو حلال خوراک کو مضرِ صحت یا حرام بننے میں بھی وقت نہیں لگے گا۔ اپنی اولاد کو سونے کا نوالہ بے شک کھلائیں مگر وہ سونا اور اسے کھلانے والے ہاتھ اور برتن اگر صاف نہ ہوں تو پھر سونے کو بھی بیمار نوالہ بنتے دیر نہیں لگتی۔یہ بھی قابلِ غور ہے کہ خوراک کی شکل میں زہر خورانی (فوڈ پوائزننگ) کے جتنے بھی واقعات سامنے آتے ہیں وہ باورچی خانے سے زیادہ گھر کے باہر ہوتے ہیں۔ جوں جوں آؤٹ ڈور ڈائیننگ کا رواج بڑھ رہا ہے توں توں ہمارے معدوں میں غیر معیاری خوراک بھی جا رہی ہے اور ہم یہ خوراک پیسے دے کے خرید رہے ہیں اور اپنے گھروں میں اس کی ڈلیوری بھی کروا رہے ہیں۔باسی خوراک یا صحت دشمن بکٹیریاز، وائرس، انسانی خون پر پلنے والے پیراسائٹس اور ملاوٹ زدہ نیم پکی کچی خوراک کے سبب روزانہ دنیا میں لگ بھگ سولہ لاکھ انسان زہر خورانی اور دیگر جسمانی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ان میں سے لگ بھگ چار لاکھ بیس ہزار انسان بیماری کے سبب مر بھی جاتے ہیں۔ان میں پانچ برس یا اس سے کم کے لگ بھگ سوا لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔کیونکہ ان کے نازک اور نمو پذیر جسمانی نظام پر غیرمعیاری خوراک سب سے پہلے حملہ کرتی ہے ۔کہا جاتا ہے ناقص خوراک میں شامل بکٹیریاز ، وائرس، پیراسائٹس، مضرِ کیمیاوی مادے مل ملا کے ڈائریا سے کینسر تک مختلف اقسام کی لگ بھگ دو سو بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔نتیجہ اوسطاً ایک سو دس ارب ڈالر سالانہ کے معاشی نقصان کی شکل میں نکل رہا ہے۔یعنی پچانوے ارب ڈالر صاحبِ روزگار انسانوں کے بیمار ہونے کے سبب لاکھوں پیداواری گھنٹوں کی شکل میں ضایع ہوتے ہیں اور پندرہ ارب ڈالر علاج معالجے پر صرف ہو جاتے ہیں ۔جب تک زندگی سادہ تھی تب تک مسائل بھی سادہ تھے۔اب چونکہ خوراک سمیت ہر شے ڈسپوزایبل ہے اور صارف کے منہ تک پہنچتے پہنچتے ایک طویل اور گنجلک سپلائی چین سے گذرتی ہے لہٰذا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کس مقام پر کون سی خوراک کے ساتھ کیا ہاتھ ہو گیا۔غیر معیاری خوراک کی ترسیل اور اس کی روک تھام کے راستے میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ ان میں سے بیشتر لالچ اور بدنئیتی کی پیداوار ہیں۔ مثلاً کھانے پینے کی اشیا کی ایک مدتِ استعمال ہوتی ہے جس کے بعد اسے برتنے سے بیمار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔یار لوگوں نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ ایکسپائری ڈیٹ یا تو مٹا دی جاتی ہے یا جعلی طریقے سے بڑھا دی جاتی ہے،اور یہ کام نہ صرف خوراک بلکہ ادویات کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔
آپ بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز میں بھی شیلف پر پڑی درآمد کردہ اشیائے خور و نوش دھیان سے دیکھیں۔ترقی یافتہ ممالک میں ایسی اشیا جن کی ایکسپائری چھ ماہ سے کم ہو انھیں شیلف سے ہٹانا شروع کردیا جاتا ہے یا پھر ان کے نرخ گھٹا دیے جاتے ہیں تاکہ ان کا اسٹاک تیزی سے بک جائے۔ہمارے تاجر باہر سے منگواتے ہی وہ خوردنی اشیا ہیں جن کی ایکسپائری ڈیٹ چھ ماہ یا اس سے کم رہ گئی ہو۔یہ اشیا ان تاجروں کو نصف یا چوتھائی قیمت پر مل جاتی ہیں جنھیں وہ ہمیں اور آپ کو پوری قیمت پر فروخت کر کے بھاری منافع کماتے ہیں۔مثلاً آپ کسی بھی قابِل ذکر معروف دکان پر چلے جائیں،اگر کہیں درآمدی چاکلیٹ ، بسکٹس اور دودھ سے تیار اشیا کی ایکسپائری چھ ماہ سے زیادہ کی ہو تو مجھے بھی مطلع کیجیے گا تاکہ میں اس دکان دار کے لیے فراخیِ رزق کی دعا کر سکوں۔غیر معیاری و غیر صحت بخش کھانے کا ایک بڑا مرکز ریستوران کا کچن ہے۔پاکستان میں شاید درجن بھر ہی ایسے ریسٹورنٹ ہوں گے جہاں کچن کی صفائی ستھرائی کا معیار بین الاقوامی سطح کا ہو۔باقی دنیا میں کچن ریسٹورنٹ کے پچھلے حصے میں ہوتا ہے۔ہمارے ہاں نوے فیصد ریسٹورنٹس کی پکوائی سڑک کے رخ کھلے آسمان تلے ہوتی ہے۔بار بی کیو کا گوشت فضا میں جھول رہا ہوتا ہے۔کڑاھی گوشت سامنے بن رہا ہوتا ہے اور اس میں سڑک سے آنے والے دھواں اور گرد کی لہر کھانے کا ذائقہ دوبالا کر دیتی ہے۔جو باورچی یہ کھانا تیار کر رہے ہوتے ہیں انھوں نے کام پر کھڑا ہونے سے پہلے کب اور کس طرح ہاتھ دھوئے ہوں گے یہ وہی جانتے ہیں۔ان کی انگلیاں بار بار پسینہ زدہ بالوں اور چہرے اور جسم کے مختلف حصوں میں گھومتی کھجلاتی پھرتی ہیں۔ اور پھر یہ متحرک ہاتھ لذیز پکوان ، روٹی اور مشروبات گاہک کو پیش کرتے ہیں۔بہت کم باورچی اور وہ بھی مہنگے ریسٹورنٹس میں شاید ایسے ہوتے ہوں جو ہاتھوں میں پلاسٹک کے دستانے ، کوٹ یا سر پر کوئی ٹوپی نما شے پہنتے ہوں تاکہ جسم کے بال یا ذرات و پسینہ کھانے میں شامل نہ ہوں۔اور پھر ہم خوشی خوشی یہ کھانا گھر لے جا کے اس فریج میں رکھ دیتے ہیں جسے قاعدے سے کم از کم ہر ماہ صاف ہونا چاہیے۔مگر فریج کے اندر کی باقاعدہ صفائی ترجیحاتی فہرست میں اگر ہوتی بھی ہے تو کہیں بہت نیچے۔گویا ہم گھر کے اندر ہی بیماریوں کی میزبانی کے لیے ایک ٹھنڈا گھر کھول لیتے ہیں۔ہم بازار سے جو گوشت اور تیار شدہ مصالحے خریدتے ہیں یا ریسٹورنٹس میں جا کے جو کباب یا قیمہ فرائی کھاتے ہیں۔اس میں کون جانے کہ کتنا گوشت ، کتنی آنتیں اور دیگر کتنی آلائشیں کوٹ دی جاتی ہیں۔اور یہ جو سامنے بار بی کیو چکن بن رہا ہے یہ یہاں آنے سے پہلے ، زندہ تھا ، ذبح شدہ تھا یا پھر لاش تھا ؟ہم میں سے کتنے بزرگ ، جوان ، خواتین اور بچے دن میں کتنی بار ہاتھ دھوتے یا دھلواتے ہیں۔ کھانے یا پکانے سے پہلے گوشت یا سبزی کس طرح صاف کرتے ہیں۔پھل دھو کے کھاتے ہیں یا بس کھا لیتے ہیں۔اس بابت ہم ذاتی صحت و صفائی کے سلسلے میں نئی نسل کی تربیت پر گھر اور اسکول میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں۔حکومت کا بنیادی فرض ہے کہ وہ صارف تک معیاری خوراک کی یقینی ترسیل کے قوانین پر سختی سے عمل کروائے۔ہمیں ریستوران و دکان سر بہ مہر ہونے، امپورٹر ایکسپورٹرز کے گوداموں اور گلی سڑی اشیا بیچنے والوں پر چھاپوں اور جرمانوں کی بھی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔پھر بھی کیا سبب ہے کہ غیر معیاری خوراک کی ترسیل و تقسیم و استعمال کا حجم اور دائرہ کم نہیں ہو پا رہا۔ خلیجی ریاستوں و صنعتی ترقی یافتہ ممالک میں غیر معیاری خوراک سے متاثر افراد کیوں کم ہیں اور ہم جیسے ملک کیوں ڈمپنگ گراؤنڈز بنح ہوئے ہے۔کیا وہ آسمان سے اترے ہیں یا ہم پاتال سے ابھرے ہیں؟ کل کا دن اسی بارے میں سوچ بچار کے لیے ہی ہے۔اگر اپنے یا اپنے بچوں کے لیے وقت ملے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex