اداریہ

ہمالیہ سے بلند پاک چین دوستی

چین میں پاکستان کے سفیر معین الحق نے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ’’ ایم ایل ون منصوبے کو رواں سال شروع کرنے کے لئے دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے تمام انتظامات کو حتمی شکل دینے کی بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔ دونوں اطراف کی قیادت کا اتفاق رائے ہے، خاص کر نومبر 22ء میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے دوران دونوں ممالک کی قیادت نے ایم ایل ون منصوبے پر جلد از جلد عملدرآمد کے عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔انہوںنے بتایاکہ جے سی سی میٹنگ میں توانائی، ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر، صنعت، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں بہت سے اہم منصوبوں پر تبادلہ خیال اور حتمی شکل دی جائے گی۔ دونوں فریق اس سال12 ویں سیشن کے انعقاد کے انتظامات کر رہے ہیں۔ رواں سال سی پیک کی ایک دہائی مکمل ہورہی ہے۔ سفیر نے کہا کہ چین میں ’با ٹائی‘ (آئرن برادر) کا لفظ صرف پاکستان کے لیے مخصوص ہے۔ جیسا کہ ہم پاکستان میں اسے پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہرا، شہد سے میٹھا سمجھتے ہیں‘‘۔
چین کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات 21مئی 1951ء میں قائم ہوئے جس کے بعد دوستی کا نہ رکنے والا یہ سفر نہایت احسن اندازسے جاری ہے۔ درحقیقت پاکستان کو چین کے ساتھ اپنی خصوصی دوستی پر فخر ہے جو ہر آزمائش میں پوری اتری اور لازوال ہے۔ یہ تعلق بین الریاستی تعلقات کے معمول کے اصولوں سے بالاتر ہے اور اپنی نوعیت کی انفرادیت کا حامل ہے۔ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات مضبوط سیاسی حمایت، تزویراتی اعتماد اور عملی تعاون پر مبنی ہیں۔ چین نے حال ہی میں کوویڈ سے متعلق سفری پابندیوں کو ختم کیا ہے اور بین الاقوامی سفر کو کھول دیا ہے۔ اس کے قدرتی طور پر تجارت اور سیاحت سمیت چینی معیشت کے مختلف شعبوں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ چین دوبارہ کھلنے کے نتیجے میں ہمارے دونوں ممالک کے درمیان باہمی روابط میں اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں کئی دورے ہوئے۔پاکستان کے دفاعی شعبے کے کئی ہائی پروفائل وفود بھی چین گئے جن میں چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف نیول سٹاف شامل ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون بھی ہے جو پاکستان کی معیشت کے لیے بہت ضروری ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار کے طور پر، چین پاکستانی مصنوعات کی ایک بڑی برآمدی منڈی ہے اور پاکستان چینی منڈیوں کے غیر استعمال شدہ شعبوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کو مزید بڑھانے کے لیے بھی کام کررہاہے۔ کووڈ -19 وبائی مرض کے دوران، چین نے ہمیں خاص طور پر 160 ملین سے زیادہ ویکسین کی خوراک کی فراہمی میں اہم مدد فراہم کی۔ چین پچھلے سال کے تباہ کن سیلاب کے بعد فراخدلی سے امداد فراہم کرنے والا سرفہرست ملک تھا۔چین اور پاکستان نے 2023ء کو چین پاکستان سیاحت کے تبادلے کے سال کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ اس سال دونوں ممالک اپنی دوستی کا جشن منانے، ایک دوسرے کی سیاحت کی صلاحیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور ایک دوسرے کے ممالک سے آنے والے سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے متعدد سرگرمیاںکر رہے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت میں توازن پیدا ہوگا۔ پاک چین دوستی کا اہم مرحلہ پاک چین اکنامک کوریڈور ہے۔ 20 اپریل 2015ء کو چین کے صدر زی جنگ پنگ نے پاک چین اکنامک کوریڈورکا تاریخی معاہدہ کیا جس کے تحت چین نے پاکستان میں 65ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جس میں 34ارب ڈالر کے توانائی منصوبے شامل ہیں جن سے پاکستان میں 10 ہزار میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کی گئی اور 11ارب ڈالر کے انفرااسٹرکچر اور گوادر پورٹ کے منصوبے ہیں جو مستقبل میں پاکستان اور خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہوں گے۔ سول نیوکلیئر انرجی جو دنیا میں سب سے صاف، سستی اور طویل المدت ٹیکنالوجی ہے، پاکستان کو فراہم کرنے میں چین کا بہت اہم کردار ہے۔ پاکستان کو سول نیوکلیئر انرجی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کیلئے مغرب کے دبائو پر جب فرانس سمیت بیشتر ممالک نے انکار کردیا تھا تو پاکستان نے چین سے 1980ء میں سول نیوکلیئر انرجی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی درخواست کی اور یکم اگست 1993ء کو پاکستان کے پہلے 300میگاواٹ سول نیوکلیئر انرجی پلانٹ چشمہ 1کی کنسٹرکشن کا آغاز ہوا اور 15ستمبر 2000ء کو پاکستان، چین کی مالی و تیکنیکی امداد سے سول نیوکلیئر انرجی پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا جس کے بعد 300,300میگاواٹ کے مزید 3 پلانٹس چشمہ 2،28 دسمبر 2005ء، چشمہ 3، 29مارچ 2011ء اور چشمہ 4،18 دسمبر 2011ء کو لگائے گئے جو آج کامیابی سے 1200میگاواٹ سول نیوکلیئر انرجی پیدا کررہے ہیں۔انہی تعلقات کی بدولت آج پاکستان 2500 میگاواٹ سول نیوکلیئر انرجی عالمی حفاظتی معیار کے عین مطابق پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا ہے جس کا تمام تر سہرا چین اور ہمارے سائنسدانوں کو جاتا ہے۔ چین مستقبل قریب میں دنیا کی سب بڑی معاشی طاقت بننے جارہاہے،اس سے پاکستان مزید تعمیر وترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
سیکورٹی فورسز کی بڑی کامیابی
تین روزقبل ٹی ٹی پی کمانڈر ظفری کی ہلاکت سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہے۔ انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر ظفر عرف ظفری درہ آدم خیل میں ایک عرصے سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق 16 اور 17 جون کی رات فورسز نے انتہائی جامع منصوبہ بندی کے تحت خفیہ معلومات کی بنیاد پر کئے گئے آپریشن میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر ظفر خان عرف ظفری کو دو دیگر دہشت گردوں سمیت ہلاک کیا۔ کمانڈر ظفری سکیورٹی فورسز، کوئلے کے ٹھیکیداروں، تاجروں اور بااثر افراد کے خلاف درجنوں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث رہا اور اب تک بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے ذریعے بھاری رقم بھی ہتھیا چکا تھا۔یہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاک فوج دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہی ہے۔ دہشت گردوں کے مکمل خاتمہ کیلئے ضروری ہے کہ افغانستان سے ملحقہ سرحد کی کڑی نگرانی کی جائے جہاں سے بھارت کے تربیت یافتہ دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کیخلاف شروع کی گئی امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی جنگ لامحالہ پاکستان کے گلے پڑ گئی جس کے نتیجے میں پاکستان بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا۔ امریکہ کی اس جنگ میں پاکستان نے اپنی معیشت کا تو بیڑہ غرق کیا ہی تھا‘ 80 ہزار سے زائد شہریوں بشمول سیکورٹی افسران اور اہلکاروں کا جانی نقصان الگ اٹھانا پڑا۔ بے شک پاک فوج اور ملک کے دوسرے سکیورٹی اداروں نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت مختلف آپریشن کرکے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے مگر ان کی باقیات اور سہولت کار اب بھی پاکستان کے کونے کھدروں بالخصوص شمالی علاقہ جات میں موجود ہیں جن کے خلاف پاک فوج مسلسل آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ کمانڈر ظفری کی ہلاکت فورسز کی بڑی کامیابی ہے۔ اگر ہمارے ادارے اسی طرح کامیاب کارروائیاںکرکے دہشت گردوںکوان کے ٹھکانوں پر ہی جہنم واصل کرتے رہیں گے تو بہت جلد دہشت گردی کایہ ناسور ختم ہوجائے گا۔
مقبوضہ وادی اور عالمی ادارے
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کشمیر کے تنازعہ کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہاکہ عالمی طاقتوں کو بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ، ظالمانہ، غاصبانہ اور غیرقانونی اقدامات کیخلاف اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ بیرسٹر سلطان محمود چودھری اور چودھری شجاعت حسین نے بھی مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال اور تحریک آزادی کشمیر اور آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے بھرپور اقدامات کرنا ہوں گے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے مظالم کا نوٹس لے۔ شجاعت حسین نے کہا کہ صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے آزاد کشمیر کو صحیح معنوں میں آزادی کا بیس کیمپ بنا دیا ہے۔دوسری جانب شمالی و جنوبی کشمیرکے وسیع علاقوں کا محاصرہ کرکے قابض بھارتی فوج کا بڑا فوجی آپریشن جاری ہے اوراس دوران نصف درجن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، کنٹرول لائن کے قریب سرحدی علاقے کپواڑہ میں بھی مسلسل دودن آپریشن جاری رہا۔ قابض فوج نے جنوبی کشمیر میں اسلام آباد کی جنگلات منڈی میں دیپک کمار نامی ایک مزدور کی ہلاکت میں مبینہ طور پر ملوث جیش محمد سے وابستہ پانچ عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعوی بھی کیا ہے۔
بھارت مسلسل ساڑھے سات دہائیوں سے کشمیر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کررہاہے۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں نے کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کے حوالے سے چشم کشا رپورٹس جاری کررکھی ہیں لیکن اس کے باوجود کشمیر میں بھارتی مظالم میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو عالمی اداروں کی ساکھ اور ان کی رٹ کو بھی چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex