کالم

ہمارے قومی مسائل

ایم زیڈ مغل

تین چار روز قبل یونانی سمندری حدود میں ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں سینکڑوں چراغ سمندر بُرد ہوگئے۔ انٹرنیشنل نیوز ایجنسیاں کم و بیش چار سو افراد کے لقمہ اجل بننے کی پیشن گوئیاں کر رہی ہیں اصل تعداد کیا تھی یہ وقت گزرنے کے ساتھ پتہ چل ہی جائے گا لیکن جن کے عزیز انہیں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے وہ کبھی واپس نہ آسکیں گے۔ ہم نے دیکھا کہ سانحہ ہونے کے بعد متعلقہ ادارے بھی حرکت میں آگئے اور حکومت کو بھی ہُوش آیا کہ ملک میں پھیلتی بے روزگاری اور بے یقینی کی کیفیت نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کو بیرون ملک اپنا مستقبل تلاش کی طرف گامزن کیا ہے۔ سینکڑوں مجبور نوجوان جو اہلِ خانہ کی زندگی بھر کی جمع پونجئ کیساتھ ساتھ اپنی زندگیوں کو بھی دائو پہ لگا نے کو ترجیح دیتے ہیں اور کسی پیسے کے پجاری ایجنٹ کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں سہانے خوابوں کی نذر کردیتا ہے۔ یہی کچھ ان کئی درجن پاکستانیوں کیساتھ بھی ہوا جو ڈنکی لگا کر یورپ پہنچنے کا خواب لئے اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ پھر جو کچھ خود ان کیساتھ ہوتا ہے وہ خدا جانتا ہے یا وہ ایجنٹ جانتے ہیں جن کا روز کا یہی کام ہے۔ کیسے نوجوانوں کی اکثریت راستے میں ہی کسی جگہ اپنے گھر والوں کے ارمانوں سمیت اس جہانِ فانی سے کوچ کر جاتے ہیں اور جو کوئی اکا دکا یورپ پہنچنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو ساری عمر گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ نہ تو ایسے افراد ملک میں کبھی واپس آسکتے ہیں اور نہ ہی انہیں یورپ کی شہریت مل پاتی ہے جہاں وہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہوں۔ایسی سینکڑوں مثالیں آج بھی موجود ہیں ہمارے ہی اردگرد رہنے والوں کے بھائی بیٹے بیرون ملک پہنچ تو گئے لیکن وہاں کے ہی ہو کر رہ گئے۔ بس ڈالروں کے سوا نہ وہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں۔
چند سال قبل ایک عزیز نے ایسے ہی کسی ایجنٹ کی باتوں میں آ کر اٹلی جانے کی ٹھان لی۔ میں چونکہ لاہور میں رہائش پذیر ہوں اور مختلف حکومتی آفیسران و عہدیداران کے ساتھ سے مناسب واقفیت وشناسائی بھی ہے یہ سوچ کر اس کے والد نے مجھے ضروری جانچ پڑتال و تحقیق کیلئے ذمہ داری دی۔ پتہ کرنے پہ معلوم ہوا کہ ایف آئی اے کی جانب سے ایسے کسی ڈیلر کو شہریوں کو بیرون ملک بھیجنے کا این او سی نہیں دیا گیا۔ یہ ایجنٹ بیرون ممالک رہائشی ایجنٹوں سے ملی بھگت کے ذریعے لیبر کوٹا حاصل کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کے کاغذات متعلقہ ایمبیسی سے منظور کر وا کر انہیں باہر بھیجنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ بس پھر کیا خواہشمندوں و ضرورت مندوں کی لائنیں لگ جاتی ہیں اور یہ ایجنٹ دھڑا دھڑ مال بنا تے ہیں۔ مجال ہے کسی متعلقہ ادارے کی جو ان کے خلاف کوئی کارروائی کرسکے۔ یا تو یہ آپس کی ملی بھگت کے باعث ممکن ہوتا ہے یا پھر اداروں کی غفلت کے۔
ملک کا ٹیکس نظام بھی اس قابل نہیں جو کبھی یہ معلوم کر سکے کہ کسی شہری کے اکائونٹ میں آنے والا پیسہ کن ذرائع سے اکٹھا کیا گیا ہے اور اس کا استعمال کیا ہے۔ کسی فرد کو دوسرا شہری کن وجوہات کی بناء پر پیسہ اکائونٹ میں منتقل کر رہا ہے کوئی خاطر خواہ چیک نہیں۔ آپ کے محلہ، مارکیٹ یا قریبی کسی بھی پلازہ میں کوئی نہ کوئی ایسا ہی ایجنٹ ضرور دکان سجائے بیٹھا ہوگا جس پر آپکی نظر تو پڑ جاتی ہو گی لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ متعلقہ اداروں کی آنکھوں سے یہ اوجھل رہتے ہیں اور لوٹ مار کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ کوئی سانحہ یا حادثہ ہی ہماری آنکھوں پہ بندھی پٹیاں کھولتا ہے لیکن وہ بھی محدود وقت کیلئے۔ کچھ عرصہ بعد سب کچھ پھر نارمل ہوجاتا ہے۔ ہفتہ کے روز کلر کہار پہ موڑ کاٹتے ہوئے بس حادثہ کا شکار ہوئی اور 13 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جن میں 3 معصوم بچے اور 5 خواتین بھی شامل تھیں۔ حادثہ کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور ڈرائیور، کنڈیکٹر، اڈہ منیجر اور بس سروس کے مالک کیخلاف مقدمہ ہوگیا۔ آجکل موٹر وے پولیس نے ایک نئی حکمِت عملی اپنا لی ہے کہ موٹر وے سالٹ رینج پر آٹھ سے دس بسوں کو اکٹھے قافلہ کیصورت میں لے جایا جاتا ہے تاکہ رفتار بھی کنٹرول کی جاسکے اور کوئی حادثہ بھی پیش نہ آئے۔ کیا موٹر وے حادثہ سے قبل ایسا کوئی انتظام ناممکن تھا جو اب اتنی جانیں ضائع کرنے کے بعد انہیں ہوش آئی۔
ملک میں ہر سال کچھ علاقوں میں سیلاب آتا ہے۔ اربوں روپے کا نقصان بھی ہوتا ہے اور قیمتی جانیں الگ ضائع ہوتی ہیں لیکن ہم آج تک ایک کالا باغ ڈیم یا اس طرح کے کسی دوسرے منصوبے پر رضامندنہ ہوسکے۔ ہمارے مفادات و سیاست آڑے آ تی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں آمریت کے سا لہا سال دور میں بھی ایسے کسی منصوبہ کو شروع نہ کیا گیا جس میں لوکل پولیٹیکل انتظامیہ کے مفادات کا ٹکرائو ہو۔ ہمارے اہل حکمرانوں کی پالیسیاں ہمارے متعدد اداروں کی تباہی کا باعث بن بیٹھی ہیں۔ سٹیل مل، واپڈا، پاکستان ریلوے، پی آئی اے غرضیکہ ایسے دیگر کئی ادارے نقصان میں جارہے ہیں۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، ایف آئی اے، پولیس اور کچہریاں سب کاغذ کی چمک پہ ہی کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں میرٹ نام کا وجود ناپید ہے۔ محکمہ ایجوکیشن کی بات کر لیں کم و بیش ہر سال کا معاملہ ہے کہ طلبہ کا ایجوکیشن ایئر شروع ہونے کے مہینہ دو مہینے بعد تک کچھ کتابیں مارکیٹ میں بھیجی جاتی ہیں۔ ایک حکومت آتی ہے تو وہ نصاب کو یکساں کر جاتی ہے تو دوسری حکومت نصاب کو الگ الگ کرنے پر کام شروع کر دیتی ہے۔ ہماری پالیسیاں دیر پا نہ ہونے کا انجام ہماری نسلیں دیکھیں گی۔ ملک میں ڈالر کے ذخائر 3 ارب ڈالر سے کچھ ذیادہ رہ گئے ہیں جبکہ رواں مالی سال 22 ارب ڈالر قرض وسود واپس ادا کرنے ہیں اور خزانہ اس کی اجازت نہیں دے رہا۔ پھر بھی پالیسیاں ایسی کہ چیئرمین سینیٹ عہدہ کیلئے تاحیات پروٹوکول و دیگر مراعات منظور کروائی جا رہی ہیں جیسی کسی ترقی یافتہ ممالک میں بھی حکومت کیطرف سے نہ دی جاتی ہوں۔ اندھیر نگری چوپٹ راج کے مصداق جس کا جہاں بس چلتا ہے ہاتھ صاف کرتا ہے اور نگل لیتا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی روک ٹوک نہیں۔ کیونکہ ہم غفلت کو گناہ نہیں سمجھتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex