کالم

گوجرانوالہ پولیس عوامی اعتماد کھونے لگی

عاصم امین چوہدری

گوجرانوالا پولیس لاقانونیت ؤ چوریاں ڈکیتیاں روکنے میں بری طرح ناکام جب کہ روزانہ کی بنیاد پر چوڑیاں ڈکیتیاں اور قتل کیے جا رہے ہیں مگر ہے کوئی انہیں روکنے والا دوسری جانب گوجرانوالہ پولیس سوشل میڈیا پر سب اچھا ہے کہ کارگردگی دکھانے میں مصروف دکھائی دیتی ہے جبکہ گوجرانوالہ کی عوام گوجرانوالہ پولیس سے مایوس ہوتی جا رہی ہے ڈکیتیوں کے مقدمات میں گوجرانوالہ پولیس ملزمان کی ناقص تفتیش کی وجہ سے عدالتوں سے ضمانتیں ہو رہی ہیں خود سے ملزمان کو نامزد کیا جا رہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ائی جی پنجاب پولیس ملازمین کی تعریفیں کیے جا رہے ہیں اگر کارگردگی کی بنیاد پر پوچھا جاتا تو اج کرائم کی شرح کافی حد تک کنٹرول کی جا سکتی تھی مگر سوال کریں تو کس سے یہاں تو جنگل کا قانون بنا دیا گیا ہے طاقتور کمزور کو مارے جا رہا ہے اگر کسی شریف شہری کا مقدمہ درج ہو جائے تو ناقص تفتیش کی بنا پر ملزمان عدالتوں سےبری ہو جاتے ہیں جو کہ پولس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے
۔ جرائم پیشہ افراد کی طرف سے تھانوں میں منتھلی لگائے جانے کا تاثر عام ہے اسی وجہ سے منشیات فروشی جوؤں کو اڈے چوڑیاں ڈکیتیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھانوں کے ایس ایچ او کی کارکردگی پر بات کی جائے تو وہ سب کے سامنے ہے چند پروفیشنل افسروں کے علاوہ باقی سب ٹائم پاس ہی ہیں جنہوں نے اج تک مکھی نہیں ماری وہ بنگ کرائم فائٹر بنے ہوئے ہیں جنہیں کوئی دوسری دفعہ سالن نہیں دیتا انہیں پھول پیش کیے جا رہے ہیں ہے کوئی ہیں ان سے سوال کرنے والا کارکردگی کی بنیاد پر کہ انہوں نے کتنے فیصد کرائم کو کنٹرول کیا جو بار بار انہی چلے ہوئے کارتوسوں کو لگایا جا رہا ہے جو کبھی پہلے نہیں چلے اب کیا خاک چلیں گے ان کی ناقص کارگردگی کی وجہ سے عوام مایوس ہوتی جا رہی ہے اور ائی جی پنجاب انہی کی تعریفوں میں لگے رہتے ہیں جبکہ شہر بھر میں ناجائز فروش دندناتے اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں ایک اندازے کے مطابق گوجرانوالہ میں روزانہ تین کروڑ روپے کی منشیات سپلائی کی جا رہی ہے جو پولیس کے بغیر کاروبار کرنا ناممکن سی بات ہے اکثر شریف لوگوں تھانوں میں جاتے ہی نہیں شریف لوگ تو اپنے مقدمات درج ہی نہیں کرواتے اگر کروا بھی لے تو نتیجہ صفر پہلے تھانے کے چکر بعد میں کئی کئی سال دولتوں کے ہی چکر لگاتا رہتا ہے کئی تو انصاف کی امید میں دنیا سے ہی رخصت ہو گے اور کئی اپنی جوانی گواہ بیٹھے پر انصاف نہ مل سکا کچھ لوگوں کو مرنے کے بعد انصاف مہیا کیا گیا یہ ہے ہمارا عدل و انصاف ہم کس سے فریاد کریں کس سے انصاف مانگیں انصاف مانگتے مانگتے اپنی جمع پونجی گواہ بیٹھتے ہیں۔
ہمارے یہاں انصاف لینے کے لیے کئی کئی مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے مخالفین کی طرف سے جھوٹے مقدمات بنا دیے جاتے ہیں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں اب پیلوں پر کئی کئی سال لگا دیے جاتے ہیں سفارشی افسر تعینات کیے جاتے ہیں کام کروانے کے لیے سفارش اور پیسے کی ضرورت پڑتی ہے تھانوں میں پولیس افسران کے رویے بھی عوام کے لیے تکلیف کا باعث ہی ہوتے ہیں جرائم پیشہ افراد پیسے دے کر اپنا کام نکلوا لیتا ہے شریف لوگ کیا کریں کون ان کی بات سنے تھانوں میں انصاف نہ ملنے پر یہی لوگ ڈی ایس پی ایس پی سی پی او ار پی او ائی جی افس میں درخواست دیتے نظر اتے ہیں اور یہی افسران انہیں ایک منٹ کے بعد سننے کے بعد اسی تھانے میں بیچ دیتے ہیں ہونا تو یہ چاہیے کہ جو افسر تھانے میں لوگوں کے کام نہ کر پائے اس سے وضاحت طلب کی جائے جو ٹھوس وضاحت نہ دے پائے اسے ایس ایچ او نہ لگایا جائے یہاں تو کرپشن پر نکالا گیا ایس ایچ او بھی دوبارہ کسی دوسرے تھانے میں لگا دیا جاتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اس ہمام میں سب ننگے ہیں گوجرانوالہ کے اکثر ایس ایچ او کو عوام کی حمایت ہی حاصل نہیں عوام کی حمایت کے بغیر جرائم کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex