کالم

گلیاں ہو جن سنجیاں ؟

محسن گورایہ

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان واپس کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے بعد پی ٹی آئی بَلے کے انتخابی نشان سے محروم ہو گئی ہے۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت کے دوران آبزرویشن دی تھی کہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں انتخابی نشان اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم تو دیا ہے لیکن انٹرا پارٹی الیکشن پر ڈیکلریشن نہیں دیا ، انتخابی نشان دینا اور سرٹیفکیٹ کا اجرا تو ڈیکلریشن کے نتیجے میں ہوں گے، اس آبزرویشن سے اندازہ ہو گیا تھا کہ ممکنہ طور پر کیا فیصلہ آ سکتا ہے۔اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی ایک بار پھر اپنے انتخابی نشان بَلے سے محروم ہو گئی ہے اور کوئی بڑی تبدیلی نہ آئی تو اسے انتخابی دوڑ سے فی الحال باہر ہی کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل میں جائیں گے جبکہ پی ٹی آئی ہی کے ایک اور وکیل رہنما علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی امیدوار آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔،دونوں رہنمائوں نے توقع ظاہر کی کہ 12 کروڑ ووٹرز میں سے 10 کروڑ ووٹرز پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، بلا رہے نہ رہے عوام پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں چنانچہ پی ٹی آئی ہی جیتے گی اور اگلی حکومت بنائے گی۔لیول پلیئنگ فیلڈ کے دعووں اور وعدوں کو سامنے رکھا جائے تو اس فیصلے کو افسوسناک ہی کہا جا سکتا ہے، اس سے ملک کی سب سے بڑی عدالت کی ساکھ مجروح ہوئی ہے، دو ہزار اٹھارہ میں جو کچھ ہوا وہ بھی غلط ہوا تھا تو آج اسی معاملے کو دہرایا جا رہا ہے تو اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا، اگر یہ فیصلہ برقرار رہا تو الیکشن ایک بے مزہ کھیل بن کر رہ جائے گا، اس وقت پی ٹی آئی ایک بڑی اور مقبول ہے، اسے الیکشن سے باہر کرنا زیادتی ہو گی۔ ٹیکنیکل گرائونڈ کو بنیاد بنا کر فیصلہ دیا گیا، سوال یہ ہے کہ کیا باقی جماعتوں کے الیکشن درست ہوئے ہیں؟ عام آدمی کو بھی فیصلے کا پتا تھا، ججوں کے سوالات اور خود ہی جواب بہت کچھ بتا گئے تھے۔ بلا شبہ ماضی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ بھی زیادتی ہوئی تھی مگر یہ نہیں لگنا چاہیے تھا کہ اب انتقام لیا جا رہا ہے ، پہلے ایسی غلطیوں پر ایک دو لوگوں کو نااہل قرار دیا جاتا تھا اب تو ایک پوری جماعت کو ہی نا اہل قرار دے دیا گیا ہے، پی ٹی آئی کے انتخابات کا حصہ نہ بننے سے اس کی مخصوص نشستیں بھی نہیں ہوں گی اور معاملہ پنجابی کے اس شعر جیسا بنا دیا گیا ہے، گلیاں ہو جن سنجیاں وچ مرزا یار پھرےیہ فیصلہ آنے کے بعد پی ٹی آئی تقریباً اسی مقام پر کھڑی ہے جس مقام پر 2018 کے الیکشن سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن) کھڑی تھی، عدالت کا فیصلہ اپنی جگہ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح لیول پلیئنگ فیلڈ کا وعدہ پورا کیا جا سکے گا؟ اس میں بھی شک نہیں کہ انٹرا
پارٹی الیکشن بے حد ضروری ہیں کیونکہ سمجھا یہ جاتا ہے کہ پارٹی کے اپنے اندر جمہوریت ہو گی تو وہ ملکی سطح پر جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کر سکے گی لیکن کیا انٹرا پارٹی الیکشن نہ ہو سکنا یا پارٹی کے آئین کے مطابق نہ ہونا اتنا بڑا گناہ ہے کہ پارٹی کو الیکشن کی دوڑ سے ہی باہر کر دیا جائے اور ملک میں جمہوری عمل کا گلا مکمل طور پر گھونٹ دیا جائے؟ زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا پڑے گا کہ ملک میں ووٹرز کی ایک بہت بڑی تعداد اب بھی تحریک انصاف کے ساتھ ہے چنانچہ اگر اس جماعت کو انتخابی نشان نہ ملا اور اس کے امیدواروں نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا اور اکثریت حاصل کر بھی لی تو کیا یہ لوگ اگلی حکومت بنانے کے قابل ہو سکیں گے؟ انتخابی نشان نہ ملنے کی وجہ سے پی ٹی آئی الیکشن سے مکمل طور پر آئوٹ ہو گئی تو کیا جمہوریت کے تقاضے پورے ہو سکیں گے؟ حال ہی میں الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر 13 سیاسی جماعتوں کو ڈی لسٹ کیا ہے، اس سے ایک تو انٹرا پارٹی انتخابات کی اہمیت و افادیت واضح ہوتی ہے دوسرا اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آئندہ تمام سیاسی جماعتیں انٹرا پارٹی انتخابات کے معاملے میں سنجیدگی اختیار کریں گی لیکن سوال پھر وہی ہے کہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے باہر کر دینے کا نتیجہ جمہوریت کے استحکام کی شکل میں نکلے گا یا یہ معاملہ جمہوریت کے عدم استحکام کا باعث بنے گا؟ یہ ایک اہم معاملہ ہے جس پر ہم سب کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف یہ معاملات چل رہے ہیں تو دوسری طرف ملک میں انتخابی گہاگہمی کا بھی آغاز ہو چکا ہے اس کے باوجود کہ ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے معاملے میں ابہام اب تک ختم نہیں ہوا کیونکہ جہاں عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ ملک میں جلد از جلد انتخابات ہوں تاکہ غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے وہاں ایک محدود سی اقلیت انتخابات کو ملتوی کرانے کی بھی خواہاں نظر آتی ہے، اس اقلیت میں ملک کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی شامل ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ملک شدید ابہام کا شکار ہے جسے دور کرنے کیلئے انتخابات آگے کر دیئے جانے چاہئیں۔ چند روز پہلے سینیٹ میں انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی گئی تھی، تین روز قبل سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر عام انتخابات تین ماہ کے لیے ملتوی کرنے کی ایک اور قرارداد سینیٹ میں جمع کرائی گئی ہے، یوں انتخابات کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں جو ابہام پایا جاتا تھا ملک بھر میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہو جانے کے باوجود وہ ختم نہیں ہو سکا اور کوئی بھی وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ آنے والے دنوں میں حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ الیکشن ہو بھی سکیں گے یا نہیں؟ الیکشن ہوئے تو کیسے ہوں گے؟ کیا اس کے نتائج کو سبھی سیاسی سٹیک ہولڈرز تسلیم کر لیں گے اور اگر خدانخواستہ الیکشن نہ ہوئے تو اس کے ملکی سیاست اور جمہوری تسلسل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر ابھی سے غور کر لیا جائے اور توجہ دی جائے تو آنے والے وقت کی بہت سی مشکلات سے کچھ نہ کچھ بچا جا سکے گا۔ان حالات میں اشد ضرورت اس امر کی ہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کو نظر انداز نہ کیا جائے، شفاف انتخابات اور جمہوریت کے استحکام کا تقاضا یہ ہے کہ سب سیاسی سٹیک ہولڈرز کو انتخابی عمل میں شامل کیا جائے، عوام کی سوچ اور ووٹرز کی امنگوں کا خیال رکھنا بھی شفاف انتخابات اور جمہوریت کا حصہ تصور کیا جانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex