کالم

کیا کشمیر ہمارا ہے اور سارے کا سارا ہے؟

مصطفیٰ کمال پاشا

بھارتی سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر (مقبوضہ جموں و کشمیر) کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا فیصلہ برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے اس کی 5 اگست 2019ء سے پہلے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے مودی حکومت کے فیصلے کو درست قرار دے دیا ہے۔
یاد رہے مودی سرکار نے 5 اگست 2019ء کو فیصلہ کیا تھا کہ آج کے بعد کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی جاتی ہے اور اسے بھارتی یونین کا ایک حصہ قرار دیا جاتا ہے گویا مودی سرکار نے سات دہائیوں سے جاری پاکستان و ہندوستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کو بیک جنبش قلم کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کرنے کا فیصلہ کر کے اپنے تئیں مسئلہ کشمیر حل کر دیا اس کے بعد کشمیر پر ایک سیاہ رات طاری ہو گئی ہر شے جام ہو گئی۔ مارشل لائی کیفیت طاری کر دی گئی مواصلاتی رابطے منجمند کر دیئے گئے۔ صحافیوں کی نقل و حمل پر پابندی لگا دی گئی بھارتی صحافیوں کا بھی داخلہ بند کر دیا گیا۔ بھارت نواز، پاکستان مخالف کشمیری رہنماؤں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی۔ پاکستان نے روایتی انداز میں مودی فیصلے کے خلاف واویلا مچایا۔ بیان بازی کی اور پھر یہ جا وہ جا۔ اب بھی بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہماری وزارت خارجہ نے رٹا رٹایا اور پڑھا پڑھایا بیان جاری کیا کہ ”بھارت کو متنازعہ علاقے کی حیثیت سے متعلق یکطرفہ فیصلے کا کوئی حق نہیں“ ہمارے صدر مملکت نے بھی ایسے ہی پاکستان کا ریاستی موقف دھرایا۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کا ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے۔ بین الاقوامی قانون 5 اگست 2019ء کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو تسلیم نہیں کرتا“۔
یہاں بتانا ضروری ہے کہ تقسیم ہند کی دستاویز کے مطابق کشمیر، مسلم آبادی کی اکثریت اور جغرافیائی طور پر بھی پاکستان کے ساتھ متصل ہونے کے باعث پاکستان کا حصہ بننا تھا لیکن بھارت سرکار نے ڈوگرہ حکمران کے ساتھ ساز باز کر کے سرینگر میں فوجی کاروائی کی اور کشمیر پر بالجبر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ مجاہدین نے جوابی کارروائی کی اور قریب تھا کہ جغرافیائی نقشہ پاکستانی خواہشات کے مطابق ترتیب پا جاتا۔ نہرو سرکار بھاگ کر اقوام متحدہ میں چلی گئی اور فیصلہ ہوا کہ کشمیریوں کو حق دیا جائے کہ وہ کسی بھی ایک کے ساتھ پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کا فیصلہ کریں۔ بھارت سرکار نے اقوام عالم کے سامنے اقرار کیا کہ کشمیریوں کو حق دے گا۔ اس طرح جنگ ختم ہو گئی اور کشمیر، آزاد جموں کشمیر اور مقبوضہ جموں کشمیر میں تقسیم ہو گیا۔ بھارت سرکار نے اپنے زیر انتظام کشمیر کو خصوصی حیثیت دے کر ایک قابل تصفیہ علاقے کے طور پر تسلیم کر لیا۔
یہ مسئلہ گزری سات دہائیوں سے دو ریاستوں کے درمیان سنجیدہ نزاع کی شکل میں موجود ہے اس حوالے سے تین باقاعدہ جنگیں بھی لڑ چکے ہیں دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیاں مسلسل ایک دوسرے کے خلاف دشمنیاں نبھاتی رہی ہیں گویا دونوں ممالک ہمہ وقت حالت جنگ میں ہیں جنگی تیاریاں جاری رہتی ہیں کروڑوں نہیں اربوں ڈالر اسلحہ سازی پر خرچ کئے جاتے ہیں ایسی ہی کاوشوں میں دونوں ممالک ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔ اس پورے منظر میں بھارت اپنی سفارتکاری اور داخلی سیاسی استحکام کے باعث دنیا کی موثر ترین ریاستوں میں شامل ہو چکا ہے ایک بڑی معاشی طاقت بھی بن چکا ہے علاقائی و خطے کی سیاست سے نکل کر عالمی سیاست کے ایک اہم کھلاڑی کے طور پر اپنی حیثیت منوا چکا ہے اب وہ سلامتی کونسل کے مستقل ممبر کی سیٹ حاصل کرنے کی کاوش بھی کر رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان اپنی تاریخ کے پست ترین دور میں داخل ہو چکا ہے۔1971ء میں ہم اپنا ایک بازو کھو چکے ہیں۔ باقی ماندہ پاکستان بھی شدید سیاسی، سماجی اور معاشی بحران کا شکار ہے سفارتکاری کی حالت یہ ہے کہ عالمی برادری میں قرض، قرض، قرض اور قرض ہماری بقاء کی ضمانت ہے ہمارے دوست ممالک اور برادر ممالک کے ساتھ تعلقات بھی ہموار نہیں ہیں۔ ہم قومی سلامتی کے حوالے سے بھی بہت زیادہ یکسو نہیں ہیں ریاستی اداروں کی سیاست میں مداخلت کے حوالے سے بھی بہت زیادہ شعور پیدا ہو چکا ہے اور اس کے باعث ہماری قومی سیاست بہت زیادہ گرم اور حساس ہو چکی ہے۔ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں مرکز گریز قوتیں فعال اور متحرک ہیں ہم نے 40 سال تک افغانستان کے ساتھ مل کر اس کی تحاریک آزادی کو کامیاب کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا لیکن حالت یہ ہے کہ طالبان، اصلی والے طالبان کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات ہموار نہیں ہو سکے۔ یہ ہماری سفارتی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے۔ کراچی جیسا اہم شہر پینے کے پانی کی دستیابی کے حوالے سے نوحہ کناں ہے۔
سردیوں میں گیس دستیاب نہیں ہوتی اور گرمیوں میں بجلی۔ سردیوں میں گیس کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں اور گرمیوں میں بجلی کے نرخ جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنا تو ایک معمول کی بات ہے اور یہ ہر پندرہ دن کے بعد ہوتا رہتا ہے۔ ہم زرعی ملک ہیں لیکن اجناس انڈیا اور چین سے آتی رہی ہیں گاجریں، ادرک، پیاز وغیرہ انڈیا اور چین سے آتا تھا اور ہے اب تو ادرک بھی تھائی لینڈ سے سمگل ہو کر ہمارے بازاروں میں بک رہا ہے ہم کیا زرعی ملک ہیں کہ ہماری زراعت ادرک پیاز و لہسن جیسی معمولی اشیا کی کھپت بھی پوری نہیں کر سکتی،کہنے کو تو ہم ایٹمی ملک ہیں لیکن ہماری حالت دنیا کے کسی بھی تیسرے بلکہ چوتھے درجے کے ملک جیسی ہے ہمارا قومی تشخص ہے ہی نہیں ہمارا سبز پاسپورٹ رسوائی کی علامت ہے سعودی عرب والے ہمارے حاجیوں کو بھکاری کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ ہم عمرہ و حج ویزوں پر بھکاریوں کے غول کے غول حرمین شریفین کی طرف بھجوانے لگے ہیں منشیات کی سمگلنگ ہو یا دہشت اور وحشت گردی کے واقعات پاکستانیوں کے نام سر فہرست نظر آ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہم بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کس منہ سے تبصرہ کر رہے ہیں۔ بھارت نے یکطرفہ طور پر مسئلہ کشمیر حل کر دیا ہے حکومتی فیصلے پر ان کی سپریم کورٹ نے بھی مہر تصدیق ثبت کر دی ہے اب کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ بن چکا ہے؟ ہم اگر پاکستان کو بھی بچا کر رکھ سکیں تو غنیمت ہو گی۔ ویسے ہمارا قومی موقف، کشمیر ہمارا ہے سارے کا سارا ہے درست ہے۔ دل بہلانے کے لئے ہمیں اسے دہراتے رہنا چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex