کالم

کیا تیسری بین الاقوامی جنگ تیار ہے؟

ایم زیڈ مغل

اسرائیل جس طرح ظلم و بربریت کا مظاہرہ کر رہا ہے اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطین کے حالات نہ تو فوری نارمل ہورہے ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس مسئلہ کا کوئی مستقل حل نکلتامحسوس ہو رہا ہے۔ اسرائیل کی روز روز کی دہشت گردی و تعصبانہ کارروائیوں سے تنگ آکر حماس نے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چار محازوں سے اسرائیلی فورسز پر حملہ کیا ہے ۔ محدود وسائل کیساتھ جتنا زبردست حملہ حماس نے کیا ہے شاید اس سے قبل ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ حماس کے جنگجوئوں نے زمینی ، فضائی ، بحری اور زیرِ زمین سرنگوں سے حملہ آور ہو کر لگ بھگ پانچ ہزار راکٹ فائر کرتے ہوئے اسرائیلی فورسز کو بوکھلا کر رکھ دیا تھا جس کا اعتراف اسرائیلی فورسز کے کمنڈر لیفٹینٹ جنرل ہرزی حلیوی نے میڈیا پر بھی برملا کیا۔ اس حملے کے بعد گذشتہ ایک ہفتہ سے صورتحال بلکل کنٹرول سے باہر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ڈھائی ہزار فلسطینی شہری جن میں معصوم بچے، خواتین، بزرگ اور نوجوان لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اونچی اونچی عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی ہیں جبکہ یو این او کا گمان ہےکہ اس ملبہ میں فی الوقت ہزاروں انسانی اجسام زندہ درگور ہوچکے ہیں جنکی تعداد اور جانی نقصان کا جنگ بندی کے بعد ہونیوالی امدادی کارروائیوں میں اندازہ ہوسکے گا۔
فلسطین اسرائیل جنگ پر بظاہر دنیا دو الگ الگ بلاگ میں منقسم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف اسرائیل کی حمایت میں امریکہ، برطانیہ اور نیٹو ممالک کھلے انداز میں صفِ اول کا حصہ بن چکے ہیں۔ امریکی بحری بیڑہ اسرائیل کی مدد کیلئے پہنچ چکا ہے تو دوسری طرف ایران نے فلسطینی بھائیوں اور حماس کی کارروائیوں کی حمایت اور مدد کا بیٹرا اٹھالیا ہے۔ ایران نے اپنے 20 ہزار کلومیٹر کی رفتار سے دوڑنے والے میزائل اسرائیل پر برسانے کی دھمکی دے دی ہے۔ تاہم رُوس اور عرب ممالک نے قدرے دھیمے انداز میں اسرائیلی مظالم کی فوری روک تھام اور اسرائیلی بلاگ کو انسانی جانوں کے بے دریخ ضیاع پر تنبیہ بھی کی ہے ۔
اسلامی ممالک میں جہاں سعودی عرب کو ایک مخصوص مقامِ عزت و تعظیم حاصل ہے بلکل اسی طرح واحد ایٹمی قوت کا حامل ہونے کے باعث پاکستان بھی اسلامی ممالک کے مابین اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ مسلم ممالک نے اپنی ایک الائیڈ فورس بھی بنا رکھی ہے جس کے چیف سابق ملٹری سربراہ راحیل شریف ہیں لیکن مقام افسوس ہے کہ یہود و عیسائیت تو بوقتِ ضرورت یک جان ہوگئے لیکن عالم اسلام نے اپنے بھائیوں کو مرنے کیلئے تنہا چھوڑ دیا۔ بظاہر فلسطین میں ہونے والے حالیہ ظلم و ستم پر پاکستان کا ردعمل اتنامضبوط اور سخت نہیں آیا جتنا فلسطینی قوم امید رکھتی ہوگی۔فلسطینی قیادت مسلمان اقوام کو پکار رہی ہے لیکن صحیح معنوں میں فلسطینی قوم کو گاجر مولی کی طرح کٹنےکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیا سکول، کیا ہسپتال، کیا دفاتر اور کیا رہائشی عمارتیں سب اسرائیلی بمباری کے نشانے پر ہیں۔ حماس کا واحد ہتھیار راکٹ ہیں اور ہم جانتے ہیں آج کے جدید دور میں جنگیں صرف راکٹوں سے نہیں جیتی جاسکتیں اسکے لئے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی زیادہ تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی ضرورت ہے جس نوعیت کے ہتھیار اسرائیل استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیلی جنگی جہاز عمارتوں کی بنیادوں پر میزائل برسارہے ہیں جس سے پوری کی پوری عمارت ایک دو میزائلوں سے ہی زمیں بوس ہوجاتی ہے۔
پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ یہاں حکمرانوں کی کمزور حکمت ِعملی اور اللے تللوں کے باعث پاکستان کو آج معاشی، سیاسی اور نظریاتی مسائل کی آماج گاہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی قوم جو ہمیشہ مذہب اور معاشرت میں ایک قدم آگے بڑھ کر پیش پیش رہتی اس وقت مہنگائی کی چکی تلے پس کرفکر ِ معاش سے باہر ہی نہیں نکل پا رہی۔ شہریوں نے سوشل میڈیا پر تو اسرائیل کیخلاف بڑا محاز کھول رکھا ہے لیکن جماعت اسلامی کے علاوہ کسی دوسری سیاسی یا مذہبی پارٹی کی جانب سے نہ تو بڑے روڈ شوء نظر آئے نہ ہی زور آور جلسے ۔چند ایک شہروں کے علاوہ ہمیں ایسے کوئی خاطر خواہ جلسے جلوس یا ریلیا ں بھی نظر نہیں آئیں جن میں مسئلہ فلسطین پر بھر پور آواز اٹھائی گئی ہو اور حکومت وقت پر زور دیا گیا ہو کہ وہ اپنی فارن پالیسی میں اس مسئلہ پر ٹھوس موقف اپنائیں اور کھل کر فلسطین کی حمایت کو ترجیح دیں ۔آپ اندازہ لگائیں کہ گذشتہ 100 گھنٹوں سے غزہ شہر کو نشانہ بنایا جا چکاہے جن میں فلسطین ٹاور کو بھی نہ بخشا گیا۔ان حملوں میں فلسطینی شہداء کی تعداد 2329 ہوچکی ہے، ظلم کی انتہاء دیکھیں کہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کا علمبردار ہونے کا دعویدار امریکہ غزہ پر ہزاروں ٹن وزنی 6 ہزار بموں کی بارش نظر نہ آئی ۔ تازہ ترین اطلاعات ہیں کہ اسرائیلی فوجی دستے غزہ میں زمینی راستہ سے داخل ہو کرسینکڑوں فلسطینیوں کو شہید کرچکے ہیں۔ یہود و عیسائیت کے اتحاد کی جھلک ہمیں اقوام کے بعدمیٹا اور فاسٹ فوڈ کے معروف برانڈز کی آفرز میں نظر آرہی ہے۔ میٹا نے ایک کروڑ فالوورز والے فلسطینی میڈیا ایجنسی کے فیس بک پیج کو جنگ کے آغاز سے ہی ختم کر دیا ہے ۔ یہ وہ کھٹن وقت ہے جب اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کا مکمل محاصرہ کرتے ہوئے پانی، بجلی ، گیس، دوائیوں، سبزی اور پھلوں کی سپلائی بند کر رکھی ہے۔ سینکڑوں نومولود یا تو عمارتوں کے ملبے تلے دَبے پڑے ہیں یا اور جو کچھ بچ سکے ہیں ان کی بڑی تعداد ایسے زخمی بچوں کی ہے جن کو پینے کو دودھ اور کھانے کو دوائیں تک میسر نہیں لیکن ہمیں اس ساری صورتحال سے فرق نہیں پڑتا۔ ہم سمندر میں جال ڈالے اس مچھیرے کی مانند ہیں جسے سمندر میں صرف مچھلی پکڑنے کی فکر ہوتی ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ حالات نازک صورتحال اختیار کررہے ہیں اسلامی ممالک کو یکجا بھی ہونا ہوگا اور مضبوط بھی۔ دنیا دو الگ الگ بلاگ میں بٹ رہی ہے اپنے بلاگ کو مضبوط کرنا ہوگا ورنہ یہ نہ ہو کہ ہم اکیلے رہ جائیں اور ایک ایک کر کے اسلامی ممالک یہود و نصاری کا شکار ہوتے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *