کالم

کیا بجٹ24-23 عوامی توقعات پر اترے گا؟

احد امان

معاشیات کے مضمون کی بنیاد ہی اس حقیقت پر ہے کہ انسان کی خواہشات ہمیشہ سے لا محدود رہی ہیں اور وسائل ہمیشہ سے ہی محدود رہے ہیں۔ خواہشات اور وسائل کے درمیان توازن لانا ہی معاشی اصولوں کا محور ہے ۔ہر انسان کی خواہش ہے کہ وہ،اس کی اولاد اور رشتے دار مادی ترقی کے اعتبار سے کامیاب و کامران، توانا اور با وقار ہوں اور کسی بھی قسم کا احساس محرومی ان کے قریب نہ پھٹکے ۔ لیکن بات ادھر نہیں رکتی اور بڑھتے بڑھتے اس حد پہنچ جاتی ہے جہاں پر انسان اپنے وسائل، خواہشات کا موازنہ نہ صرف اپنے گرد و پیش میں مقیم افراد و گروہوں سے کرتا ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بسنے والے ان لوگوں سے بھی کرتا ہے جن کا رہن سہن مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پہنچتا ہے ۔ اس موازنہ کے نتیجے میں اولاد اور رشتے دار گھر کے سربراہ سے ناراض ناراض سے ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے کے درمیان ہمیشہ سے فرق موجود ہے جو بحر حال تکلیف کا باعث بن جاتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں حکومت وقت ایک واضح طبقہ کے معیار پر کم کم ہی پورا اترتی ہوئی نظر آتی ہے۔موجودہ بجٹ24-23 میں حکومت کا تخمینہ ہے کہ کم از کم 12000 بلین روپے کے محا صل اکٹھے ہوں گے ۔جسمیں سے صحت کو 22 ارب، تعلیم کو تقریباً 87 ارب توانائی کو 86 ارب اور خوراک اور زراعت کو تقریباً 45 ارب روپے
ملیں گے۔ مزید یہ کہ عوام کی قوت خرید میں اضافے کے لیے اس بات کا اہتمام کیا گیا ہے کہ کوئی ایسا ٹیکس نہ لگایا جائے جس سے عوام کو فرق پڑے کہ قوت خرید بڑھنے کی بجائے کم ہو جائے۔ ہیلتھ انشورنس سکیم کے دائرہ کار کو وسیع کیا گیا ہے ۔ سمگلنگ کی روک تھام اور ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ شکنی کے لیے انسدادی اقدامات متعارف کروائے جا رہے ہیں۔حالیہ پیش کردہ بجٹ عوام کی امنگوں کا ترجمان ثابت ہوتا ہے کہ نہیں، عوام کی توقعات پر پورا اترتا ہے کہ نہیں اس کا فیصلہ تو جون 2024 سے پہلے کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ قریب قریب نا ممکن ہے۔ لیکن مارکیٹ انڈیکیٹر ز مثبت راہ پر گامزن ہو تے نظر آ رہے ہیں۔ ابھی بجٹ 23-24 نافذ العمل نہیں ہو الیکن پھر بھی حکومت کے سنجیدہ رویے نے مارکیٹ جزبہ پر خوش آئند اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ جیساکہ سونے کی قیمت میں تقریباً 12 ہزار روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے ، ڈالر روپے کے مقابلے میں فراٹے بھرتے ہوئے جا رہا تھا نہ صرف تھم گیا ہے بلکہ واپسی کے سفر پر گامزن ہے اور اس کی قیمت میں بھی 30 روپے کی خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے ۔نیت نیک منزل آسان کے مترادف ادھر حکومت نے ملکی معیشت پر سنجیدگی سے توجہ دینا شروع کی ادھر آٹے کی قیمت میں 15 روپے فی کلوکمی دیکھی گئی، خوردنی تیل میں 80 روپے فی کلو کمی آئی ، پٹرول جو کہ 285 روپے فی لیٹر پر فروخت ہو رہا تھا اب 262 روپے فی لیٹر پر میسر ہے۔ مزید یہ کہ روس سے سستا تیل پاکستان آنا شروع ہو گیا ہے اور اس سلسلے میں پہلا آئل جہاز 40 ہزارٹن تیل لے کر کراچی کی بندر گاہ پر پہنچ چکا ہے ۔جس سے تیل کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں ۔حکومت نے مزدور کی قوت خرید کو بڑھانے کے لیے ایک طرف تو کم از کم اجرت کو 25000 روپے سے بڑھا کر 32600 روپے کے قریب کر دیا ہے تو دوسری طرف اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں ۔ مختصراً یہ کہ حالیہ بجٹ 23-24 میں عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لئے خاطر خواہ صلاحیت موجود ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex