کالم

کب تک آخر،آخر کب تک؟

محسن گورایہ

کہنے کو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر چکے لیکن محسوس ہوتا ہے کہ یہ سفر دائرے کا تھا، ہم چلتے تو رہے لیکن کوئی فاصلہ طے نہ ہو سکا،منیر نیازی نے کیا خوب کہا تھا،منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہےکہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہہمارے ملک میں آج تک وہ تبدیلی نہ آ سکی جس کے خواب اس ملک کے قیام کی جدوجہد میں حصہ لینے والوں نے اپنی آنکھوں میں سجائے تھے، یوں ہم بحیثیتِ قوم آج بھی اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں پون صدی پہلے کھڑے تھے۔ اپنے قیام کے وقت پاکستان شدید مالی مشکلات کا شکار تھا آج 75 برس بعد بھی وہیں کا وہیں ہے، 1947 میں ملک شدید سیاسی بحران میں مبتلا تھا آج 75 برس بعد بھی حالات ویسے ہی ہیں، تب ہمارا دامن خالی تھا اور آج بھی ہم تہی داماں ہیں، ان 75 سالوں میں کون کون حکمران رہا سب جانتے ہیں غیر سیاسی اور سیاسی قوتوں نے حکمرانی تو کی مگر اس ملک کو ،اس ملک کے غریب عوام کو کیا ملا؟ ذرا سوچئے ہم حقیقی منزل کے راستے سے کیسے بھٹک گئے؟ اس پر بات کرنے سے پہلے اپنی آزادی کے بعد کی تاریخ پر ایک طائرانہ سی نظر ڈال لینا بہت سے معاملات کو اجاگر کر دے گا، اس طرح ہو سکتا ہے کوئی نتیجہ اخذ کرنے میں مدد ملے۔ ہم جس آزادی کیے ڈھنڈورے پیٹ رہے ہیں اس کو ابھی چند سال ہی ہوئے تھے کہ جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور امریکہ کی طرف جھکائو کی پالیسی اپنا لی، یہ پالیسی کیسی تھی اور کیسی ہے اس بارے میں آج بھی واضح طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، امریکہ کے پاکستان دوست ملک ہونے کا معاملہ آج تک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے، ہم نے کئی بار امریکہ کو چھوڑا اور امریکہ نے کئی بار ہم پر پابندیاں عائد کیں لیکن یہ تعلق کسی نہ کسی طرح ابھی تک برقرار ہے البتہ یہ معلوم نہیں کہ مضبوط ہے یا کمزور اور پائیدار ہے یا ناپائیدار بلکہ شاید یہ کہنا بہتر ہو گا کہ پتا ہی نہیں کہ یہ تعلق ہے کیسا، اب ہم چائینہ اور روس کے بھی معترف ہیں۔ ایوب خان کم و بیش ایک دہائی تک معاملات کو چلاتے رہے مایوس ہو گئے یا انہیں معاملات ہاتھوں سے نکلتے محسوس ہوئے تو تو اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا جنہوں نے ایسی حکمت عملی اپنائی کہ ملک دو لخت ہو گیا، اس غم سے ابھی پوری طرح نجات حاصل نہیں ہوئی تھی کہ جنرل ضیاالحق نے مارشل لا نافذ کر دیا گیا اور ایک منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی، اس دوران ہم نے افغانستان میں روس کے خلاف امریکہ کے مفادات کی جنگ لڑی اور جمہوری نظام گیارہ سال ڈی ٹریک رہا۔ 1988ء میں پٹڑی پر واپس آیا تو بیساکھیوں کے سہارے ،اس بیساکھیوں والے سیٹ اپ کو بھی برداشت نہ کیا گیا اور بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی گئی۔ 1990ء میں نواز شریف وزیر اعظم بنے تو ان کے آئینی فرائض کی ادائیگی میں اتنی مداخلت کی گئی کہ بالآخر انہیں کہنا پڑا ،ڈکٹیشن نہیں لوں گا،اور صدر کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کو بھی جانا پڑا۔نئے انتخابات ہوئے اور بے نظیر بھٹو دوسری بار وزیر اعظم بن گئیں لیکن یہ
اسمبلی بھی اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکی، پھر انتخابات ہوئے اور نواز شریف دوسری بار وزیر اعظم بن گئے لیکن جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کر دی، پرویز مشرف کے افغانستان کے خلاف امریکہ کی جنگ میں شامل ہونے سے پاکستان پر دہشت گردی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا، یہ سلسلہ پیپلز پارٹی کے دور (2008-2013ئ) میں جاری رہا اور فوج کو دہشت گردوں کے خلاف متعدد مسلح آپریشن کرنے پڑے۔ 2013ء میں قائم ہونے والی نواز شریف کی حکومت کو بھی ٹھیک طریقے سے کام نہ کرنے دیا گیا، حکومت اپنی آئینی مدت تو پوری کر گئی لیکن نواز شریف تیسری بار بھی اپنی وزارتِ عظمیٰ کی آئینی مدت پوری نہ کر سکے۔ پی ٹی آئی کے دور (2018-2022ئ) میں جو کچھ ہوا وہ تو ابھی کل کی بات ہے۔اس مختصر جائزے کے بعد جاری حالات پر نظر ڈالیں تو کیا یہ محسوس نہیں ہوتا کہ آج ہم ایک بار پھر ایک دو راھے پر کھڑے ہیں اور ہمیں کچھ پتا نہیں کہ کون سا راستہ ہمیں منزل کی طرف لے جائے گا اور کون سا ہمارا سفرکھوٹا کر دے گا۔ کیا یہ بات تسلیم کر لی جانی چاہئے کہ ہم اپنی محنت جدوجہد اور قربانیوں سے حاصل کئے گئے ملک کو کوئی واضح سمت دینے میں ناکام رہے ہیں۔ اگر ناکام ہیں تو اس ناکامی کی وجوہات کیا ہیں۔ آج جو سیاسی منظر نامہ ہمارے سامنے ہے وہ ہم سب کے لئے اور خصوصاً ہمارے قائدین کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ عام آدمی سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا یہی جمہوریت ہے اور یہی اس کے ثمرات ہیں؟اب پھر ایک نئی صبح کی نوید سنائی جا رہی ہے، نئے نئے وعدے کئے جا رہے ہیں اور عوام کی قسمت بدلنے کے نئے نئے دعوے بھی، اللہ کرے کہ ایسا ہو جائے کہ ایسا ہو گا تو ہی ترقی اور کامیابی کی منزل کی جانب سفر شروع کیا جا سکے گا،عوام کو ان کے بنیادی حقوق ملیں گے تو ہی آزادی کے معنی سمجھ میں آئیں گے،اب مسئلہ یہ ہے کہ لوگ پون صدی میں نئے نئے سیاسی نعروں سے اتنی بار متاثر ہو چکے ہیں اور اتنی بار نقصان اٹھا چکے ہیں کہ دودھ کا جلا چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پینے پر مجبور ہے۔ وہ سیاست کے نئے دعوے داروں پر کتنا اعتماد اور کتنا یقین کرتے ہیں اس کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ میں ایک بات پورے تیقن کے ساتھ کر سکتا ہوں کہ آپ اس ملک کے عام آدمی کو انصاف ،تحفظ، روٹی کپڑا اور مکان دے دیں تو حالات خود بخود بدلنا شروع ہو جائیں گے ورنہ ہم بھٹکتے رہیں گے، کب تک؟ پتہ نہیں،مگر موجودہ حالات کے تناظر میں پہلے گلزار کی ایک نظم سے لطف اٹھائیںجھوٹی سچی آس پہ جینا ،کب تک آخر ؟آخر کب تکمئے کی جگہ خون دل پینا ،کب تک آخر ؟آخر کب تکسوچا ہے اب پار اتریں گے یا ٹکرا کر ڈوب مریں گےطوفانوں کی زد پہ سفینہ کب تک آخر؟آخر کب تکایک مہینے کے وعدے پہ سال گزرار پھر بھی نہ آئےوعدے کا یہ ایک مہینہ کب تک آخر ؟آخر کب تکسامنے دنیا بھر کے غم ہیں اور ادھر اک تنہا ہم ہیںسینکڑوں پتھر ایک آئینہ،کب تک آخر؟آخر کب تک مجھے آج منیر نیازی بھی بہت یاد آ رہے ہیں ،کالم کے حروف آخر کے طور پر انکی یہ نظم بھی قابل غور ہے۔اج دا دن وی ایویں لنگیا،کوئی وی کم نہ ہویا پورب ولوں چڑھیا سورج ،پچھم آن کھلویاناں ملیاں میں خلقت نوں،ناں میں یاد خدا نوں کیتاناں میں پڑھی نماز تے ناں میں، جام شراب دا پیتاخوشی ناں غم کوئی کول ناں آیا ناں ہسیا، ناں رویااج دا دن وی ایویں لنگیا ،کوئی وی کم نہ ہویا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex