کالم

ڈیجیٹل فراڈ:خودبھی بچیںاوردوسروں کو بچائیں

رحمت عزیز خان چترالی

آج کے تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں مالی تحفظ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ بدقسمتی سے ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اسی طرح سائبر جرائم پیشہ افراد نے بھی اپنے حربوں میں تیزی لائے ہیں۔ ایسا ہی ایک خطرناک سائبر فراڈ جو حالیہ دنوں میں سامنے آیا ہے وہ ہے “سِم سویپ فراڈ”۔ اس تحقیقی مضمون میں ہم اس ڈیجیٹل فراڈ کا جائزہ لیں گے کہ یہ ڈیجیٹل فراڈ کیا ہوتا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے اور لوگوں کو اس کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے تجاویز فراہم کریں گے۔آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ سم سویپ فراڈ کیسے کام کرتا ہے:سم سویپ فراڈ آپ کے فون پر موبائل نیٹ ورک سگنل (زیرو بارز) کے غیر متوقع نقصان سے شروع ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد آپ کو کسی ایسے فراڈی شخص کی طرف سے کال موصول ہوتی ہے جو آپ کے موبائل نیٹ ورک فراہم کنندہ کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔کال کرنے والا فراڈیہ آپ کو آپ کے موبائل نیٹ ورک کے ساتھ ایک فرضی مسئلہ سے آگاہ کرتا ہے اور درخواست کرتا ہے کہ آپ نیٹ ورک کنیکٹیویٹی بحال کرنے کے لیے اپنے فون پر “1دبائیں۔ یہ بات نوٹ کرنا بہت ضروری ہے کہ ایسی صورتحال کا سامنا کرنے پر آپ کو کبھی بھی کوئی بٹن نہیں دبانا چاہیے۔ اس کے بجائے فوری طور پر کال منقطع کردیجئے۔
اگر خدانخواستہ آپ “1دباتے ہیں، تو کال اچانک ختم ہو جاتی ہے، اور آپ کا موبائل نیٹ ورک دوبارہ آف لائن ہو جاتا ہے۔ آپ کے علم میں نہیں کہ آپ کے فون کو ہیک کیا گیا ہے۔ اس کے بعد دھوکہ باز شخص آپ کے بینک اکاؤنٹ کو سیکنڈوں میں خالی کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہے۔سم سویپ فراڈ کا ایک سب سے گھناؤنا پہلو یہ ہے کہ متاثرین کو اکثر ٹرانزیکشن الرٹ یا اطلاعات موصول نہیں ہوتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا سم کارڈ تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب آپ کے فون اور بینکنگ کی معلومات پر دھوکہ بازوں کا کنٹرول ہے۔اپنے آپ کو اور اپنے مالیات کو سم سویپ فراڈ سے بچانے کے لیے ان ضروری ہدایات پر عمل کیجئے:
کبھی بھی کسی سے ذاتی معلومات کا اشتراک نہ کریں: فون پر کبھی بھی حساس ذاتی یا مالی معلومات، پاس ورڈ یا پن کوڈ کا اشتراک کسی فراڈیے سے نہ کیجئے خاص طور پر اگر کال نامعلوم ہو تو احتیاط بہت ضروری ہے۔اگر آپ کو نیٹ ورک کے مسائل کے حوالے سے کال موصول ہوتی ہے، تو کوئی بٹن دبائے بغیر ہینگ اپ کر دیں۔ پھر سرکاری چینلز کے ذریعے اپنے موبائل نیٹ ورک فراہم کنندہ سے رابطہ کرکے آزادانہ طور پر مسئلے کی تصدیق کریں۔ٹو فیکٹر توثیق (2FA): اپنے بینک اکاؤنٹس اور دیگر اہم آن لائن خدمات پر 2FA کو فعال کریں۔ یہ آپ کے اکاؤنٹس میں سیکیورٹی کی ایک اضافی پرت کا اضافہ کرتا ہے۔
اپنے بینک اکاؤنٹس کی باقاعدگی سے نگرانی کریں: کسی بھی غیر مجاز یا مشکوک لین دین کے لیے اپنے بینک اسٹیٹمنٹ کو معمول کے مطابق چیک کریں۔ جتنی جلدی آپ کو دھوکہ دہی کی سرگرمی کا پتہ چل جائے گا، اتنی ہی جلدی آپ کارروائی کر سکتے ہیں۔ایسی دنیا میں جہاں سائبر خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں، چوکنا اور باخبر رہنا بہت ضروری ہے۔ سم سویپ فراڈ ان بہت سے ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے۔ اس آرٹیکل میں بیان کردہ تجاویز پر عمل کرکے آپ اس گھناؤنی اسکینڈل کا شکار ہونے کے اپنے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *