کالم

چین کے تجربات سے سیکھیں

محسن گورایہ

گزشتہ دو صدیوں کے دوران تیز رفتار صنعتی ترقی کی وجہ سے توانائی کے مختلف ذرائع کے استعمال میں بے تحاشہ اضافہ ہوا، صنعتی انقلاب نے حضرتِ انسان کو ترقی کی نئی معراج تک تو پہنچا دیا لیکن اس کے ساتھ ہی منفی اثرات بھی سامنے آئے، ایک یہ کہ توانائی کے ذرائع خصوصاً پٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں کئی گنا اضافے کی وجہ سے کرہ ارض کا ماحول بری طرح متاثر ہوا ، زمینی ، ہوائی، فضائی اورکئی نوع کی آلودگی نے نسل انسانی کو نئے بحرانوں سے دوچار کر دیا، انسانی صحت متاثر ہونے لگی اور بیماریاں لگنے کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ دوسرا یہ کہ فوسل فیول کے ذخائر سکڑنے لگے اور اقوام عالم کو انسانی مستقبل دائو پر لگتا محسوس ہوا، بہرحال توانائی ذرائع کے بے محابہ استعمال نے ایک نئی فکر کو جنم دیا، ان سارے خدشات اور خطرات نے توانائی کے نئے ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت کو بڑھا دیا، ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے ضروری تھا کہ توانائی کے نئے ذرائع ایسے تلاش کیے جائیں جن سے آلودگی کم سے کم پھیلے، یہ ذرائع پن بجلی، شمسی توانائی اور ونڈ انرجی ہو سکتے ہیں کیونکہ ان ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے دوران آلودگی نہیں پھیلتی اور یہ تو سب کو معلوم ہی ہے کہ بجلی حرارت اور روشنی تو پیدا کرتی ہے لیکن اس سے آلودگی بالکل نہیں پھیلتی۔چین کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے بڑے بڑے منصوبے تعمیر کیے اور ان سے اب تک استفادہ کر رہا ہے۔ تھری گورجز ڈیم ایک ایسا منصوبہ ہے جو چین کے لیے تین خدمات سرانجام دے رہا ہے، پہلی خدمت یہ کہ اس سے 22 ہزار 500 میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہےدوسری،اسکی وجہ سے دریائے یانگزی میں جہاز رانی میں اضافہ ہوا اور یوں چینی تجارت کو فروغ ملا اور تیسری یہ کہ اس سیلابی پانی کو ذخیرہ کر کے زیریں علاقوں میں ممکنہ سیلاب کے خطرے کو کم کیا گیا ہے، یہ ذخیرہ کیا گیا پانی زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ظاہر ہے پینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہو گا۔چین نے ان ڈیمز کو بنا کر اپنے ملک کے بہت بڑے علاقے اور اسکی آبادی کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بھی بچا لیا تھا۔ میں نے دس سال پہلے چائینہ ریڈیو اردو سروس کی دعوت پر ان ڈیمز کا دورہ کیا تھا ، میں چینیوں کے ادراک اور ناممکن کو ممکن بنا دینے کی ان کی اہلیت ، جرأت اور کوششوں کے بارے میں جان کر حیران رہ گیا تھا، بلا شبہ چینی انجینئرز نے ایک تخیل کو متشکل کر کے کمال کر دکھایا تھا۔ تھری گورجز ہائیڈرو پاور سٹیشن کی تعمیر پر 400 بلین کی لاگت آئی تھی اور اس کی تعمیر میں 12 سال لگے تھے، ،یی چانگ ہوبئے ،،میں واقع یہ دیو ہیکل منصوبہ ایک ایسے آبی ذخیرے کو کنٹرول کرتا ہے جو ایک ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے لیکن یہ آئس برگ کا محض ایک سرا ہے۔ تھری گورجز ڈیم محض ایک پاور سٹیشن ہی نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا سب سے بڑا آبی تحفظ کا منصوبہ بھی ہے، بڑا ڈیم 185 میٹر بلند اور 2335 میٹر طویل ہے، یہاں نصب ٹربائن 22.5 ملین کلو واٹ صاف ستھری بجلی پیدا کرتے ہیں جو سالانہ 100 بلین
کلوواٹ آور بجلی بنتی ہے، لیکن حقیقی معجزہ تو پانی کی سطح کے نیچے رونما ہو رہا ہے، یہاں پانی کا ذخیرہ 175 میٹر گہرا ہے جبکہ ان ڈیموں میں پانی ذخیرہ کرنے کی کل گنجائش 39.3 بلین کیوبک میٹر ہے۔ پن بجلی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی بنا پر یہ پروجیکٹ ایک گرین پاور ہائوس بھی ہے، صلاحیت اور گنجائش کے اعتبار سے اسے دنیا کا سب سے بڑا بجلی گھر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جو توانائی کی قلت کے بحران کا شکار ہیں لیکن یہاں توانائی کے نئے ذرائع تلاش کرنے ، پانی ،سورج کی روشنی اور ونڈ انرجی کی پیداوار بڑھانے کی منصوبہ بندی کا فقدان ہے، یہی وجہ ہے کہ توانائی کا بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ گرمیوں میں بجلی کی شدید لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے جو کسی نہ کسی حد تک موسمِ سرما میں بھی جاری رہتی ہے لیکن گرمیاں ہوں یا سردیاں رات کے وقت گیس کی بندش تو اب ایک معمول بن چکا ہے، ایسا نہیں کہ پاکستان میں توانائی پیدا کرنے کے حوالے سے وسائل کا فقدان ہے، کمی ہے تو کمٹمنٹ اور منصوبہ بندی کی۔ واپڈا کے مطابق پاکستان کے پاس 100000 میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے مگر یہاں نصب فعال منصوبے مجموعی طور پر محض 10132 میگاواٹ بجلی ہی پیدا کر پاتے ہیں، چین کی طرح پاکستان بھی نئے اور بڑے آبی ذخیرے تعمیر کر کے نہ صرف صاف اور سستی بجلی کی پیداوار بڑھا سکتا ہے بلکہ ان ڈیموں میں ذخیرہ ہونے والے پانی سے زرعی شعبے کے لیے پانی کی قلت کو بھی دور کر سکتا ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان 2022 کے مطابق پاکستان پانی سے بجلی پیدا کرنے کے ذرائع سے مالا مال ہے لیکن اس وقت پاکستان اس استعداد کا صرف 16 فیصد استعمال کر رہا ہے، کیا ہمارے سائنسدان اس قابل بھی نہیں کہ اس استعداد کو بڑھا سکیں تاکہ آلودگی کم پھیلے اور توانائی کے بحران پر بھی کچھ قابو پایا جا سکے؟ صورت حال یہ ہے کہ گیس اور فرنس آئل سے مہنگی بجلی پیدا کی جاتی ہے جس کی وجہ سے صارفین کو بھاری بل ادا کرنا پڑتے ہیں، پاکستان کے عوام ان دنوں مہنگی بجلی اور بھاری بلوں کے خلاف احتجاج کناں ہیں۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان ہر سال 22 ارب ڈالر مالیت کا قیمتی پانی استعمال کیے بغیر سمندر میں پھینک دیتا ہے، اگر پاکستان نے پانی ذخیرہ کرنے کے ذرائع کو جنگی بنیادوں پر نہ بڑھایا تو اس کے لیے فصلوں کی کاشت کے لیے پانی پورا کرنا مشکل ہو جائے گا، سمندر میں ضائع کیا جانے والا پانی ان زمینوں کو سیراب کر سکتا ہے جو پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے بنجر پڑی ہیں۔ ماضی میں یہاں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی کئی کوششیں کی گئیں لیکن سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی مخالفت کی وجہ سے یہ کوششیں بارآور ثابت نہیں ہو سکیں۔ 6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے ساتھ کالا باغ ڈیم ہر سال 9.6 ملین ٹن اضافی گندم پیدا کرنے کا سبب بن سکتا تھا جبکہ اس سے 3600 میگا واٹ سستی بجلی بھی پیدا ہوتی، اس سے ایک طرف خوراک میں خود کفیل ہونے کی منزل حاصل ہوتی تو دوسری طرف مہنگائی اور قومی قرضوں میں بھی کمی آتی۔ ایک اندازے کے مطابق کالا باغ ڈیم کی عدم موجودگی سے قومی معیشت کو روزانہ کم از کم ایک ارب روپے کا مجموعی نقصان ہو رہا ہے، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی اور کم اقتصادی ترقی کی صورت میں دیگر منفی اثرات اس پر مستزاد، ہم چین کی ترقی کی مثالیں دیتے ہیں ،یہ ہمارا پیارا دوست ہے ،ہم اس کے قومی دن پر کیک کاٹتے ہیں لیکن چین کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کو تیار نہیں ہیں ، ہمارے عوام بجلی کے مہنگے بل نہ دینے کے سبب خود کشیاں کرتے ہیں تو کرتے رہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے