کالم

چائلڈ لیبر کے خاتمے کا عالمی دن

اللہ ڈتہ انجم

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے 2002 میں چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کا آغاز کیا ۔تاکہ عالمی سطح پر چائلڈ لیبر اور اس کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات اور کوششوں پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ ہر سال 12 جون کو چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس دن حکومتوں، آجروں ، مزدوروں کی تنظیموںاورسماجی تنظیموں کی طرف سے مختلف تقریبات کااہتمام کیاجاتا ہے۔ تا کہ محنت کش بچوں کے مسائل کوحکومت و دیگر ذمہ داران تک مؤثر طریقے سے پہنچایا جا سکے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے حکومتوں، کارکنوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور افراد سمیت اسٹیک ہولڈرز کو متحرک کیاجا تا ہے۔ تاکہ چائلڈ لیبر کے خاتمے اور سماجی انصاف کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ اس کا مقصد استحصالی مزدوری کے حالات میں پھنسے لاکھوں بچوں کی حالت زار کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔2015 میں عالمی رہنماؤں کے ذریعہ اپنائے گئے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ایک تجدید عالمی عزم شامل ہے۔ خاص طور پر پائیدار ترقی کے اہداف کا ہدف 8.7 عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ ’’جبری مشقت کے خاتمے، جدید غلامی اور انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے فوری مؤثر اقدامات کریں اور بچوں کی مزدوری کی بدترین شکلوں کی ممانعت اور خاتمے کو محفوظ بنائیں۔ بشمول بھرتی اور چائلڈ سپاہیوں کا استعمال، اور 2025 تک ہر طرح کی چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘‘ سماجی انصاف اور چائلڈ لیبر کے درمیان ربط پر زور دیتے ہوئے 2023 میں اس عالمی دن کا نعرہ ’’سب کے لیے سماجی انصاف ‘‘ہے۔یہ سلوگن سماجی انصاف کے بنیادی اصول پر زور دیتا ہے۔یہ سلوگن بچوں سمیت تمام افراد کے لیے مساوی حقوق اور مواقع کی وکالت کرتا ہے۔ یہ دن چائلڈ لیبر کو سماجی انصاف کی خلاف ورزی کے طور پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔کیونکہ چائلڈ لیبر بچوں کو تعلیم، صحت اور محفوظ بچپن کے حقوق سے محروم کرتی ہے۔ سماجی انصاف کے حصول کے لیے بین الاقوامی کارروائیوں کو نئے سرے سے متحرک کیا گیاہے۔ خاص طور پر تصور کردہ عالمی اتحاد برائے سماجی انصاف کے تحت چائلڈ لیبر کا خاتمہ اس کے اہم عناصر میں سے ایک ہے۔کم از کم عمر کے بارے میں ILO کے کنونشن نمبر 138 کی عالمی توثیق جو 2020 میں حاصل کی گئی۔ چائلڈ لیبر کی بدترین شکلوں پر ILO کے کنونشن نمبر 182 کی عالمی توثیق کے ساتھ، تمام بچوں کو چائلڈ لیبر کی تمام اقسام کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کرے گی۔پوری دنیا میں، تقریباً 218 ملین بچے کام کرتے ہیں.جن میں سے بہت سے کل وقتی ہیں۔ وہ اسکول نہیں جاتے اور ان کے پاس کھیلنے کے لیے بہت کم وقت ہوتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو مناسب غذائیت یا دیکھ بھال نہیں ملتی۔ انہیں بچے بننے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔ ان میں سے نصف سے زیادہ بچے مزدوری کی بدترین شکلوں جیسے خطرناک ماحول میں کام، غلامی یاجبری مشقت کی دیگر اقسام، منشیات کی اسمگلنگ اور جسم فروشی سمیت غیر قانونی سرگرمیاںنیز مسلح تصادم میں ملوث ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 10لاکھ بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔پاکستان میں غربت،بے روزگاری و مہنگائی نے غریب بچوں کو اسکولوں سے اتنا دور کر دیا ہے کہ ان کے لیے تعلیم ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔وہ معصوم ہاتھ جن میں قلم اور کتابیں ہونی چاہییں وہ غربت اور والدین کی پریشانیوں کے باعث اوزار اور اینٹیں اٹھانے پر مجبور ہیں۔ جبکہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ چاہے وہ کسی بھٹہ مزدور کا ہو یا کسی صاحبِ حیثیت کا ہو۔کوئی بھی خوشحال انسان اپنے بچوں کو کم عمری میں مزدوری نہیں کراناچاہتا ۔جب اس کے گھر میں فاقے ہوں تو وہ مجبوراًاپنے بچوں کو کمانے کیلئے بھیجتا ہے ۔چائلڈ لیبر ایکٹ تو وقتاً فوقتاً بنتے رہے ہیں۔لیکن غریب،معذور یا لا وارث بچوں کی پرورش کیلئے کوئی ایسا متبادل اور آسان طریقہ نہیں بنایا گیا۔ کہ جس سے بیت المال سمیت سوشل ویلفیئر کے اداروں سے غریب بچوں کوبلا امتیاز فنڈزان کے گھروں تک مہیا ہو سکیں اور حکومت کی طرف سے معاشی تنگی کی وجہ سے محنت مشقت کرنے والے بچوں کیلئے کوئی سکیم بھی نہیں بنائی گئی۔ جس کی وجہ سے آج بھی بچوں کی ایک بڑی تعداد معاشی تنگی ودیگر وجوہات کی بنا پر سڑکوں پر بھیک مانگنے ،گھروں،ہوٹلوں اور ورکشاپوں پر کام کرنے پر مجبور ہے اورسکول نہ جانے والے زیادہ تر بچے بھی مزدور طبقہ کے ہی ہیں۔ غریب اور مزدور کے بنیادی مسائل ختمکرنا ہوں گے۔ورنہ چائلڈ لیبر کا خاتمہ ایک خواب ہی رہے گا اور بقولِ شاعر بچے یہی کہتے رہیں گے۔
چھالے تھے جنہیں دیکھ کر کہنے لگا بچہ
بابا مرے ہاتھوں میں ستارے تو نہیں؟
گزشتہ تین دہائیوں کے دوران چائلڈ لیبر سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ اگر بنیادی وجوہات پر توجہ دی جائے تو چائلڈ لیبر کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پہلے سے کہیں زیادہ ہم سب کے لیے لوگوں کے روزمرہ کے مسائل کے حل کے لیے اپنا حصہ ڈالنا ضروری ہے۔ 2023 کا چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ہم پرعزم ہیں اور یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ تبدیلی اس وقت حاصل کی جا سکتی ہے۔ جب عزم اور ارادہ ایک ساتھ ہو اور کسی صورت حال میں کوششوں کو تیز کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex