کالم

چائلڈلیبر،ایک اہم مسئلہ

نورین خان پشاور

بچے پھولوں کی مانند نازک اور کومل ہوتے ہیں۔
صحت مند بچے قوم کا فخرہیں۔ آج کے بچے کل کا مستقبل ہیں۔ یہ اقوال واضح کرتے ہیں کہ ملک کی ترقی کا سب سے اہم عنصر بچے ہی ہیں۔مگر جب ہم اپنے آس پاس چھوٹے بچوں کو مزدوری کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو یقین کریں دل خون کے آنسو روتا ہے۔ تب ہم ان ہی کل کے مستقبل کو چائے کی دکانوں، ڈھابوں اور ان شعبوں میں کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، جہاں پر ان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیت کا غلط استعمال کیا جاتا ہے تو ہم شرمسار ہوجاتے ہیں۔ کسی صنعت، کارخانے یا کسی کمپنی میں ذہنی یا جسمانی مزدوری کرنے والے پانچ سے 14برس کی عمر کے بچوں کو بچہ مزدور کہا جاتا ہے۔ایسے کام والے بچے آپکو ہر جگہ نظر آئین گے۔جس عمر میں تعلیم حاصل کرنی چاہئے اس عمر میں آپ ان ننھے مزدوروں کو دیکھتے ہیں۔ 
پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک اہم مسئلہ ہے، جہاں بچوں کی بڑی تعداد کو کم عمری میں ہی مختلف قسم کے کام پر مجبور کیا جاتا ہے۔ چائلڈ لیبر پر پابندی لگانے والے قوانین اور ضوابط کے باوجود، یہ سماجی و اقتصادی عوامل، تعلیم کی کمی اور غیر موثر نفاذ کی وجہ سے جاری ہے۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) چائلڈ لیبر کی تعریف کسی بھی ایسے کام کے طور پر کرتی ہے جو بچوں کو ان کے بچپن سے محروم کردے، ان کی باقاعدہ اسکولوں میں جانے کی صلاحیت میں مداخلت کرے، اور ذہنی، جسمانی، سماجی یا اخلاقی طور پر نقصان دہ ہو۔اور کام کرنے پر مجبور کریں۔بدقسمتی سے پاکستان میں بہت سے بچے روزانہ کی بنیاد پر ان حالات کا شکار ہوتے ہیں۔
پاکستان میں چائلڈ لیبر کے پھیلاؤ میں کئی عوامل کارفرما ہیں۔غربت کلیدی محرکات میں سے ایک ہے، کیونکہ کم سماجی و اقتصادی پس منظر والے خاندان اکثر گھر کی کفالت کے لیے آمدنی کے لیے اپنے بچوں پر انحصار کرتے ہیں۔ معیاری تعلیم تک محدود رسائی ایک اور بڑا عنصر ہے، کیونکہ بہت سے بچے مالی مجبوریوں یا تعلیمی سہولیات کی کمی کی وجہ سے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔
پاکستان میں بچے خطرناک پیشوں کی ایک وسیع رینج میں مصروف ہیں، جن میں زراعت، گھریلو کام، سڑکوں پر کام کرنا، اینٹوں کے بھٹے، قالین بُننا، اور غیر رسمی شعبے شامل ہیں۔ یہ ملازمتیں اکثر بچوں کو خطرناک حالات، طویل اوقات، جسمانی اور ذہنی استحصال کا سامنا کرتی ہیں اور انہیں بہتر مستقبل کے لیے ضروری مہارتیں پیدا کرنے سے روکتی ہیں۔
 حکومتیں بچہ مزدوری کو ختم کرنے کے لیے بڑے بڑے وعدے اور اعلانات کرتی ہیں لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات نکلتا ہے۔ اتنی بیداری کے بعد بھی پاکستان میں بچہ مزدوری کے خاتمہ کے آثار دور دور تک نہیں نظر آتے۔
حالاں کہ بچہ مزدوری صرف پاکستان تک محدود نہیں، یہ ایک عالمی سانحہ ہے۔ آج پوری دنیا میں تقریباً 21.8کروڑ بچے کام کرتے ہیں جن میں سے زیادہ تر کو مناسب تعلیم اور صحیح تغذیہ نہیں مل پارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں 21کروڑ 80 لاکھ بچہ مزدور ہیں
پاکستانی حکومت نے چائلڈ لیبر سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کی ہے، جس میں ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ، 1991، اور پنجاب پروہیبیشن آف چائلڈ لیبر ایکٹ، 2016 شامل ہیں۔ .
پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کی کوششوں کے لیے کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ سماجی تحفظ کے پروگراموں کو بڑھا کر اور سرکاری سکولوں کے معیار کو بہتر بنا کر بنیادی وجوہات جیسے کہ غربت اور تعلیم تک ناکافی رسائی کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔نفاذ کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا اور بچوں کے حقوق اور لیبر قوانین کے بارے میں آگاہی میں اضافہ بھی ضروری اقدامات ہیں۔
بین الاقوامی تنظیمیں، غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز)، اور سول سوسائٹی ان بچوں کے حقوق کی وکالت کرنے، معاون خدمات فراہم کرنے، اور پالیسی میں تبدیلی کے لیے لابنگ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کی کوششوں کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مستقل عزم اور تعاون کی ضرورت ہے۔ بنیادی وجوہات کو حل کرنے اور بچوں کے لیے حفاظتی ماحول کو فروغ دینے سے، ایک ایسے مستقبل کے لیے کام کرنا ممکن ہے جہاں ہر بچہ تعلیم، صحت اور استحصال سے پاک بچپن کے اپنے حق سے لطف اندوز ہو سکے۔
اس سلسلے میں حکومت پاکستان کو خاص اقدامات کرنے چاہئے تاکہ کل کا مستقبل روشن اور کامیاب ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex