کالم

پیپلزپارٹی کی بے چینی

یاورعباس

سیاست کے میدان میں کل کے دشمن آج کے دوست ہوتے ہیں اور آج کے دوست کل کے دشمن ہوسکتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ میدان سیاست میں حریف اور حلیف تبدیل ہوتے رہتے ہیں جبکہ نظریاتی جماعتیں اور اصول پرست صرف اپنے نظریہ کی بناء پر اتحاد بناتی اور توڑتی ہیں اور مفاد پرست اقتدار کی لالچ میں کسی اصول اور نظریہ کو خاطر میں نہیں لاتے ۔پیپلزپارٹی ابھی چند ماہ پہلے پی ڈی ایم حکومت میں مسلم لیگ ن کی اتحادی تھی اور بڑے خوشگوار ماحول میں گپیں لگتی تھیں مخالفین پر قہقے اور تیروں کے نشتر چلائے جاتے تھے مگر انتخابات قریب آتے ہی پیپلز پارٹی سمجھ رہی ہے کہ انتخابات میں لیول پلے انگ فیلڈ نہیںمل رہی بلکہ مسلم لیگ ن کو اقتدار میں لانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں یہی وجہ ہے کہ انتخابات سے قبل ہی الیکشن کی شفافیت کے حوالے سے پیپلزپارٹی میں بے چینی محسوس کی جارہی ہے ۔
ضیاء الحق کے طویل آمرانہ دور کے بعد 80کی دہائی کے آخر میں جمہوری عمل کا آغاز ہوا تو اس وقت سے لے کر اب تک ایم کیو ایم ، مسلم لیگ ق سمیت، جمعیت علمائے اسلام (ف)، اے این پی سمیت کئی چھوٹی جماعتیں ایسی مل جائیں گی جنہوںنے گزشتہ 4دہائیوں میں ہر صاحب اقتدار کے ساتھ ہاتھ ملایا اور اقتدار کے مزے لوٹے ، ان چالیس سالوں میںہر پارٹی کو شایدکسی ایک دور میں ہی اپوزیشن کرنے کا موقع ملا ہو مگر وہ دور بھی انہوںنے عوامی مسائل پر سیاست کرنے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جمہوری جدوجہد کرنے کی بجائے گھروں میں آرام کرنے کو ہی فوقیت دی ، کیونکہ برسراقتدار پارٹی کے سامنے حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا پاکستان جیسے جمہوری سسٹم میں کوئی آسان کام نہیں ، یہاں نیب ، ایف آئی اے ، اینٹی کرپشن اور نہ جانے کون کون سے ادارے متحرک ہوجاتے ہیں اور وہ کارروائیاں ڈال دیتے ہیں جو اپوزیشن کرنے والے سیاستدانوں نے کبھی سوچے بھی نہیں ہوتے مگر یہ مقدمات ان کو سزائیں دینے کے لیے اور قومی خزانہ پر ڈاکہ ڈالنے پر عبرت کا نشان بنانے کے لیے نہیں بنائے جاتے بلکہ صرف مخالف سیاستدانوں کی گردن زیر کرنے اور انہیں اشاروں پر نچوانے کے لیے بنوائے جاتے ہیں جیسے ہی جی حضور جو حکم ہو حاضر ہیں جیسے آپ کہتے ہیں وغیرہ کے الفاظ ادا ہونے کی دیر ہوتی ہے نہ صرف مقدمات کا خاتمہ ہوجاتا ہے بلکہ وزارتوں کے دفاتر ، گاڑیاں ، پروٹوکول انہی سیاستدانوں کے منتظر ہوتے ہیں ۔
2018کے انتخابات میں عمران خاں کی کامیابی کے بعد ملکی سیاست کا نقشہ یکسر تبدیل ہوگیا اور حصول اقتدار کی لالچ میں سیاستدانوں کے وہ چہرے عوام نے دیکھے جنہیں جمہوریت کی چادر میں لپیٹ کر رکھا جاتا رہا ۔ پی ڈی ایم کی شکل میں ماضی میں حکومتیں کرنے والے تمام مخالف سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوگئیں اور عمران خاں کے خلاف عدم اعتماد کے بعد حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہوگئیں ، پی ڈی ایم حکومت بنانے میں اگرچہ مرکزی کردار پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ادا کیا اور مسلم لیگ ن کو وزارت عظمیٰ کی کرسی بھی دے دی آصف علی زرداری اگلی باری بلاول بھٹو کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے تھے ،پی ڈی ایم کی ڈیڑھ سالہ حکومت میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کامیاب اتحادی ثابت ہوئے مگر جونہی مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کوجبغیر معمولی ریلیف ملنا شروع ہوگیا تو پیپلزپارٹی کا بیانیہ تبدیل ہوگیا ۔جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والی جماعت پیپلزپارٹی جب اقتدار کے لیے عوام کی بجائے کھیل کا حصہ بن چکی اور جمہوریت کو مضبوط کرنے بجائے جب پی ڈی ایم کے دور حکومت میں آخری دنوں میں دھڑا دھڑ بلز پاس کیے جارہے تھے ، نگران وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافہ کیا جارہا تھا ، انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کے سپرد کیا جارہا تھا ، پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کی بجائے نگران حکومتوں کو طول دیا جارہا تھا یہ ساری باتیں اس وقت سوچنے والی تھیں اب عوام کا اعتماد حاصل کرنے اورجمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے کئی گنا زیادہ جدوجہد کرنا پڑے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex