کالم

پنجاب میں سرکاری ملازمین پر کلہاڑا

رفیع صحرائی

پنجاب کی نگران حکومت نے سرکاری ملازمین پر کلہاڑا چلا دیا ہے۔ تمام سرکاری ملازمین میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے اور ممکن ہے کہ جس دن نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب بجٹ پیش کر رہے ہوں اس وقت پنجاب اسمبلی کے باہر سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہو۔
تفصیل یہ ہے کہ یکم جون 2023 کو فنانس ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی طرف سے مراسلہ نمبری FD.SR11/2-97/2019 جاری کیا گیا ہے جس کے تحت پنجاب کے سرکاری ملازمین کی مالی مراعات میں کمی کر دی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین نے اس نوٹیفکیشن کے اجرا ء پر انتہائی دکھ اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے اجرا ء سے سرکاری ملازمین سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔
اس نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری ملازمین کی مراعات میں کئی گنا کمی کر دی گئی ہے۔ یہ کمی ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں روپوں میں کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں ’’لیو ان کیشمنٹ‘‘ (Leave encashment) LPR کی مجاز اتھارٹی کے احکامات سے مشروط ادائیگی اور اس ادائیگی میں تبدیلی جو کہ جاری بنیادی تنخواہ (Running Basic Pay) پر ہوتی تھی اس کو تبدیل کر کے سکیل کی کم از کم بنیادی تنخواہ (Initial Stage) میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی بیوگان کو ملنے والی ’’لیو ان کیشمنٹ‘‘ کو یکسر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ پنشن کے لیے ملنے والے (Emoluments) واجبات کی ادائیگی کو بھی جاری بنیادی تنخواہ کی بجائے سکیل کی کم از کم بنیادی تنخواہ پر منتقل کیا جا رہا ہے جس سے تمام سرکاری ملازمین کو شدید معاشی نقصان کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ہوش ربا مہنگائی کے اس دور میں یہ فیصلہ ملازمین کو زندہ زمین میں گاڑنے کے مترادف ہے۔
’’لیو ان کیشمنٹ‘‘ کیا ہے اور سرکاری ملازمین کو کیوں ملتی ہے؟ اپنے قارئین کو سادہ الفاظ میں سمجھاتے ہیں۔ یہاں ہم سرکاری ملازم کے طور پر ایک سرکاری سکول کے ٹیچر کی مثال لیتے ہیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔
رخصت استحقاقیہ، چھٹی کی ایک قسم ہے۔ سرکاری ملازم کو ایک ماہ میں ایک یعنی ایک سال میں 12 استحقاقیہ چھٹیاں ملتی ہیں اور پوری 30 سالہ سروس پر 365 یعنی ایک سال کی چھٹیاں ملتی ہیں- اگر کوئی ملازم 35 یا 37 سال بھی ملازمت کر لے تو استحقاقیہ چھٹیاں 365 یعنی ایک سال کی ہی رہیں گی۔ رخصت اتفاقیہ کی طرح یہ چھٹیاں سال بعد ضائع نہیں ہوتیں بلکہ ملازم کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتی رہتی ہیں- دورانِ سروس کسی ناگہانی صورت میں سرکاری ملازم اپنی جمع شدہ استحقاقیہ چھٹیوں میں سے جاری بنیادی تنخواہ کے ساتھ حسبِ ضرورت چھٹیاں لے سکتا ہے۔
اگر ملازم دوران سروس یہ رخصت نہ لے تو ریٹائرمنٹ سے پہلے وہ ایک سال کی رخصت بنیادی جاری تنخواہ کے ساتھ لے سکتا /سکتی ہے یا پھر ریٹائرمنٹ پر پینشن واجبات کے ساتھ 12 ماہ کی سیلری موجودہ بیسک پے کے حساب سے یکمشت لے سکتا/ سکتی ہے-
اس 12 ماہ کے سیلری کیش کو ’’لیو ان کیشمنٹ‘‘ کہتے ہیں-
مثال کے طور پر اب موجودہ پے سکیل سال 2022 میں ریوائز ہوئے تھے- جس کے مطابق پی ایس ٹی (پرائمری سکول ٹیچر) گریڈ 14 کی ابتدائی بنیادی تنخواہ -/22530 روپے اور زیادہ سے زیادہ بیسک پے
-/74730 روپے اور سالانہ انکریمنٹ -/1740 روپے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے مقرر کی تھی-
موجودہ پے سکیل سال 2022 کے مطابق ایک پرائمری ٹیچر گریڈ 14 کی لیو انکیشمنٹ
74730 × 12 = 896760
روپے بنتی ہے-
نگران حکومت پنجاب کی اب اس رول میں تبدیلی کی وجہ سے انیشل بیسک پے(ابتدائی بنیادی تنخواہ) پر لیو ان کیشمنٹ کو فکس کرنے سے یہ رقم
22530 × 12 = 270360/-
روپے بنتی ہے-
اس سے پی ایس ٹیز (پرائمری ٹیچرز)کو
896760 — 270360 = 626400/-
روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا- اس سے اوپر ای ایس ٹیز (ایلیمنٹری سکول ٹیچرز) گریڈ 15′ اور ایس ایس ٹیز (سیکنڈری سکول ٹیچرز) گریڈ 16، سبجیکٹ سپیشلسٹ ہیڈ ماسٹرز، پرنسپلز اور دیگر آفیسرز گریڈ 17 سے 22 تک کا یہ نقصان اور زیادہ ہو گا-
دیکھا جائے تو پنجاب کی نگران حکومت نے لاکھوں سرکاری ملازمین کے ساتھ یہ ظلم کیا ہے۔ سرکاری ملازمین کے سروس رولز پارلیمنٹ سے منظور شدہ ہیں۔ نگران حکومت کو اس میں تبدیلی کا اختیار ہی نہیں ہے۔ ویسے بھی نگران حکومت کے دور میں زیادہ تر کام بیوروکریسی ہی کرتی ہے اور آج تک بیوروکریسی نے ملازمین کے لیے جتنی بھی پالیسیاں بنائی ہیں وہ سب ’’ملازمین کُش‘‘ ہی ثابت ہوئی ہیں۔ نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب جناب محسن نقوی صاحب کو اس فیصلے کی سنگینی کا شاید احساس بھی نہیں ہے۔ اس فیصلے سے پورے پنجاب کے تمام ملازمین متاثر ہوں گے۔
یہ ملازم کُش نوٹیفکیشن ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومتِ وقت سرکاری ملازمین کو ایڈہاک کی صورت میں بڑا ریلیف دینے جا رہی ہے اور سرکاری ملازمین حقیقت میں اس دیے گئے تنخواہ میں 35 فیصد اضافے سے انتہائی خوش ہیں۔ مگر یکم جون 2023 کے نوٹیفکیشن نے ملازمین کی خوشیوں اور امیدوں پر کلہاڑا چلا دیا ہے۔ دیگر تین صوبوں اور مرکز سے ہٹ کر ملازمین کے واجبات میں کئی گنا کٹوتی کے فیصلے سے حکومت کے بجٹ میں دیے گئے بڑے ریلیف کے فیصلے کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنظیمیں متحرک ہو گئی ہیں۔ ایک بڑے احتجاج کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے ابھی صوبے کا آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنا ہے جس میں وفاق کے مطابق گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 35 فیصد جبکہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے لیے 30 فیصد ایڈہاک ریلیف دینا ہے مگر بجٹ سے پہلے ہی متنازعہ نوٹیفکیشن جاری کر کے حکومت نے دودھ دینے سے پہلے ہی سرکاری ملازمین کا برتن مینگنیوں سے بھر دیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی نمائندہ تنظیم All Provincial Employs Coordination Council ’’ایپک‘‘ نے ایک مراسلہ کے ذریعے جناب چیف سیکریٹری پنجاب سے مذکورہ نوٹیفکیشن کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگران حکومت کے پاس سرکاری ملازمین کی مراعات ختم یا کم کرنے کا کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔
دیکھا جائے تو پنجاب حکومت نے واقعی یہ عجیب فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ باقی تین صوبوں نے بھی اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ مناسب یہی ہے کہ پنجاب حکومت اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے اسے واپس لے کر سرکاری ملازمین کی بے چینی اور پریشانی کا خاتمہ کرے۔ نگران حکومت کے خلاف صوبے بھر کے ملازمین کا احتجاج کوئی اچھا شگون نہیں ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex