کالم

پنجابی ثقافت کی لطافت

منشاقاضی

ہم سب پاکستانی پچھتر سال کی عمر کے قریب پہنچے ہیں مگر ہم پنجابی ہزاروں سال سے ہیں اور پنجابی زبان و ثقافت کے حسین امتزاج سے شاندار ماضی کے واقعات بڑے بوڑھوں کو از بر ہیں ۔ مگر نئی نسل اپنی تہذیبی روایات کو برقرار نہیں رکھ سکی ۔ میں بے پناہ ممنون احسان ہوں محترمہ فردوس نثار صاحبہ کا جو اس اسٹینڈنگ کمیٹی کلچر ہارٹیج کی کنوینئر ہیں اور لاہور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا ۔ جنہوں نے امین ہال میں پنجابی کلچر کے موضوع پر پرشکوہ سیمینار کا انعقاد کیا اور اس میں پنجاب کی امیر ترین تہذیبی روایات کو اجاگر کرتے ہوئے پنجابی زبان و ادب کی زرخیز زمین پر پنجابی ثقافت کی شجر کاری مہم کا آغاز کر دیا ۔ یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ لاہور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کاشف انور نے خصوصی تعاون کیا اور ماں بولی کو بول کر ہی نہیں بلکہ پوری طرح بات کے ذریعے ثابت کیا کہ پنجابی زبان ہماری تہذیبی روایات کے آسمان پر دمکتا ہوا ستارہ ہے جسے ہم نے ماہ کامل بنانا ہے ۔ جو قومیں اپنی ثقافت کو محفوظ نہیں رکھ سکتیں وہ خود بھی اپنی منزل کا راستہ بھول جاتیں ہیں ۔ کاشف انور نے تفصیلات پر اختصار کو ترجیع دی اور آپ نے مستقل پنجابی کلچر کے فروغ کا ابلاغ شروع کرنے کا بلیغ عندیہ دے دیا ۔ نقیب محفل محترمہ فردوس نثار نے نقابت کا حق ادا کیا اور نظامت کا شک نکال کر رکھ دیا اس سیمینار کے عقب میں موصوفہ کی کاوش اور ریاضت کارفرما تھی ۔ جس کا تذکرہ نہ کیا جائے تو حوصلہ شکنی ہو گی ۔ توقع سے کہیں زیادہ محترمہ نے پوری یکسوئی کے ماحول میں سامعین کو ہمہ تن گوش رکھا ۔ مارتر نے کہا تھا کہ صرف اشیا ہی نہیں الفاظ کے استعمال میں بھی عقل ۔ نفاست اور قرینہ سے کام لو ۔ محترمہ نے اس قول کو واقعی ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے مقررہ دورانیہ میں اختتام کیا اور سامعین کی دلچسپیوں اور نظر فریبوں کے ساتھ مزاح ۔ مداح ۔ ماہیا ۔ٹپہ ۔ بولیاں اور بیت کے علاہ معقول تجاویز پیش کیں گئیں ۔ واقعی محترمہ فردوس نثار کے دل سے نکلی ہوئی باتیں سیدھی دلوں میں اترتی جا رہی تھی ۔ زبان سے نکلی ہوئی باتیں صرف کانوں سے ٹکراتی ہیں ۔ جناب ظفر محمود سینئر وائس پریزیڈنٹ نے ماں بولی کا اپنی گفتگو میں اظہار کر کے پنجابی کلچر کو فروغ دینے میں کامیابی ممکن بنا دی ۔ آپ نے طویل گفتگو پر مختصر گفتگو کو ترجیع دیتے ہوئے حکمت کا ثبوت دیا ۔عدنان خالد بٹ سینئر وائس پریزیڈنٹ کی خامشی میں بھی بلاغت کے دریا بہہ رہے تھے ۔ پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر مسعود علی خان کی زندہ دلی ضرب الامثال میں شامل ہے ۔ آپ نے پنجاب ثقافت کے فروغ میں صرف زبان کا ہی نہیں بلکہ پوری پنجابی روایات کو اجاگر کیا اور پنجابی کلچر میں خوراک ۔ پوشاک ۔
رسم و رواج میں پنجابی ثقافت کی لطافت پیدا کی ۔ مسعود علی خان نے سیاحت کے ذریعے پنجاب اور پاکستان کی ثقافت کو جو فروغ دیا اس کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے اور اس کے علاؤہ لاہور کی پرانی یادوں کو سلامت رکھے ہوئے ہیں ۔ موسیقی آپ کے نزدیک عالمگیر زبان ہے اور یہ ہر دلعزیز زبان کے علاؤہ ساری تہذیبوں میں سماعت کی جاتی ہے جناب انعام الرحمن پنجابی زبان کے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر شالیمار بوائز کالج میں بڑی تحقیقی کام کر رہے ہیں اگلے سیمینار میں ان کو سنا جائے گا ۔ مہمان مقررین میں محترمہ نیلم بشیر جن کے والد گرامی احمد بشیر کی پوری زندگی جہد مسلسل اور کوشش پیہم میں گزری ہے اور آج ان کی دختر نیک اختر نیلم بشیر بھی پنجابی کلچر کی بقا اور اس کے احیا کے لئیے سرگرم جہد ہے ۔نذیر قیصر کی گفتگو کی جستجو میں سامعین کی آرزو جاگ اٹھی اور آپ نے جناب مسعود علی خان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فلسفیانہ بات کی اور اپنی پنجابی شاعری سے بھی محظوظ کیا ۔ نذیر قیصر کو یہ فن آتا ہے بلکہ وہ اس فن کے امام ہیں کہ وہ اپنی شہد و شیریں کی کشید زبان سے دشمنوں کو بھی دوست بنانے کا ہنر جانتے ہیں ۔ تلخی سے بچتے ہیں اور شیریں زبان سے سامعین کو اپنا گرویدہ کر لیتے ہیں ۔ ممتاز ماہر سیاحت و ثقافت فیاض احمد سابق پرنسپل پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اپنے تجربات کے اشتراک سے پنجابی کلچر کو متعارف کروایا اور خوبصورت منظر نامہ پیش کیا ۔ محمد عاصم چوھدری ڈائریکٹر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لینگویجز آرٹ اینڈ کلچر ہلاک نے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین کی اس کوشش کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے قلبی مسرت کا اظہار کیا اور پنجابی ثقافت کے تحفظ اور اس کے فروغ کے لئے ہر ممکن اپنے محکمہ کے تعاون کا یقین دلایا ۔ مہمان اعزاز کا یہ اعزاز ہے کہ وہ ڈاکٹر بھی ہیں ۔ خاقان بھی ہیں ۔ حیدر بھی ہیں اور سب سے بڑھ کر غازی بھی ہے اور اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر وہ قول کے نہیں عمل کے آدمی ہیں ۔ آپ نے پنجابی کلچر ڈے کے حوالے سے مفید معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں صرف اپنے کلچر کے فروغ کے لیے صرف یک یوم نہیں پورا سال درکار ہے ۔ والدین کو گھر میں بچوں سے زبان غیر سے شرح آرزو نہیں کرنی چاہیئے ۔ بچوں سے گھر میں اور باہر بھی پنجابی زبان بولی جانی چاہیئے ۔ پنجابی ثقافت یا پنجابی فنون لطیفہ میں زبان جزو اعظم کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جناب ممتاز راشد لاہوری نے بولیاں اور مزاح کی منتہا کو چھوتی ہوئی شاعری کا سہارا لیتے ہوئے پور محفل کے چہروں پر مسکراہٹوں کے پھول نچھاور کر دئیے ۔ انیس احمد انیس کی دلنشین شاعری نے بھی ساحری پیدا کر دی ۔ پاک آسٹریلیا فرینڈز شپ کے صدر ارشد نسیم بٹ ۔ ممتاز استاد صحافی انوار قمر ۔ ممتاز سماجی خاتون شخصیت محمودہ سلیم ویلفئر فائونڈیشن ٹرسٹ کی سربراہ محترمہ فوزیہ امیر ۔ ریاض احمد بھیکھ ۔ محترمہ شائستہ ریاض ۔ میجر مجیب آفتاب ۔ محترمہ عذرا آفتاب اور مصورہ کوثر پروین خاص طور پر مدعو تھیں ۔ وقت کی تنگ دامانی اگر آڑے نہ آتی تو ظفر اقبال اپل اور ان کے ساتھ آنے والی شاعرہ کو بھی سنا جاتا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex