کالم

پروسٹیٹ کا علاج اور حفاظتی اقدامات پر پروفیسر فواد نصراللہ کی آگاہی

مدثر قدیر

حفیظ تائب بلاشبہ مجدد نعت کہلاتے ہیں کیونکہ انھوں نے نعت گوئی کو ایک نئی جہت دی ان کا نعتیہ کلام آج بھی شعراء کرام کے لیے کشش کا باعث ہے انھوں نے نعت نگاری کو پنجابی اور اردو ہی میں تحریر نہیں کیا بلکہ فارسی زبان میں بھی نعتیہ اشعار کہے۔میری حفیظ تائب صاحب سے ملاقات ان دنوں کی ہے جب میں پانچویں کلاس کا طالب علم تھا اور حفیظ تائب صاحب میرے والد قدیر شیدائی صاحب کے دیرینہ دوست تھے اور ہمارے گھر ان کا اکثر آنا جانا تھا بلکہ کبھی کبھار چھٹی کے روز والد صاحب ہمیں ان کے گھر مصری شاہ لے کر جاتے تھے ان سے ملاقاتیں تواتر سے ہوتی رہیں۔90کی دھائی کے آغاز پر میں بھی اپنی بہن کے ساتھ والدہ کے ہمراہ جب مختلف علمی ادبی تقریبات کا حصہ بننا شروع ہوا تو یہاں پر بھی ہمیں سب سے پہلے جو شفیق شخصیت ملی وہ حفیظ تائب ہی تھے جو ہمیں کبھی ہمدرد کی مجلسوں،کبھی بچوں کے مشاعروں کی صدارت کرتے،کبھی ریڈیو کے بچوں کے پروگراموں میں گفتگو کر تے اور کبھی سڑک کنارے کسی آٹو رکشے سے اترتے ان سے اکثر واسطہ پڑتا اور چونکہ وہ ہمیں بخوبی جانتے تھے اس لیے نہایت شفقت سے پیش آتے پھر جب میں ریڈیو پاکستان کی ادبی اور ڈرامہ کی محفل کا حصہ بنا تو ان کو اکثر پنجابی ادبی پروگرام رچناب کی صدارت کرتے دیکھا اور ربیع الاول کے ماہ میں تو خصوصی طور پر مختلف پروڈیوسرز ان کی نعتیں تواتر سے ان کی آواز میں بھی ریکارڈ کرتے جو آج بھی ریڈیو کے درخشندہ ماضی کا حصہ ہیں۔1998ء کے فروری ماہ کی بات ہے کہ میرے نانا کو گردوں میں پتھری اور پیشاب کے راستے میں رکاوٹ کا عارضہ لاحق ہوا اور اس وقت پنجاب بھر میں یورالوجی کا جو سب سے بڑا اور ماں کا درجہ رکھنے والا یونٹ تھا وہ میو ہسپتال ہی تھا مجھے معلوم نہیں کہ اس وقت وہاں کون سے ڈاکٹرز تعینات تھے مگر نانا کے ساتھ دن کو میری اور رات کو میری والدہ کی ڈیوٹی ہوتی تھی میں اسکول سے فارغ ہوکر رات 10بجے تک ہسپتال میں رہتا جبکہ میری والدہ رات بھر اپنے والد کی خدمت میں رہتیں ایک دن وارڈ میں ٹہلتے ہوئے جب میں سامنے کی وارڈکا جائزہ لے رہا تو تو مجھے ایک جانی پہچانی شخصیت ملی اور میں نے فوری طور پر ان کو آگے بڑھ کر سلام کیا انھوں نے پیار سے جواب دیا اور پاس رکھا ایک سیب مجھے کھانے کو دیا، یہ حفیظ تائب تھے جو پروسٹیٹ کے علاج کی وجہ سے وہاں ایک روز قبل داخل ہوئے تھے اور ڈاکٹروں نے ان کا دوسرے روز آپریشن کرنا تھا اور کیونکہ وہ ملک کی معروف شخصیت تھے،ڈاکٹرز نے ان کے علاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی ان کا آپریشن کامیاب رہا اور کچھ دن بعد ان کو چھٹی مل گئی اور وہ گھر شفٹ ہوگئے مگر کئی سال بعد یہ عارضہ پھر بڑھا جو پراسٹیڈ کے کینسر کا باعث بنا اور آخر کار جون 2004میں ان کا انتقال ہوا اس سے صرف ایک ماہ قبل میرے والد صاحب بھی سانس کی تکلیف کے باعث وفات پاچکے تھے۔اب سے دو ماہ قبل محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر نے ڈاکٹر فواد انصراللہ کو پروفیسر آف یورالوجی تعینات کرکے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں تعینات کیا تو ان سے فون پر رابطہ کرنے کے بعد میں ان سے چائے پینے پہنچا،میو ہسپتال کی اس وارڈ میں میں طویل عرصے بعد آیا اس وارڈ میں پہنچنے کے لیے ریمپ کی سہولت موجود ہے اور جہاں سے ریمپ ختم ہوتی ہے تو اس کے اوپر مجھے ایک تختی نظر آئی جس پر ڈاکٹر واجد علی تحریر تھا اس تحتی کو دیکھ کر میں خوش ہوا کیونکہ ڈاکٹر واجد علی سے تعلق بھائیوں جیسا ہے جہاں بھی ملتے ہیں خوش ہو کر ملتے ہیں ان کو میں نے کتنے ہی مریض ریفر کیے جو یورالوجی کے کسی عارضے میں مبتلا تھے اور انھوں نے ہمیشہ ان مریضوں کو چیک کیا ادویات تجویز کیں،گزشتہ سال طویل خدمات دینے کے بعد اہنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے اور اب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی تقریبات میں ان سے ملاقات ہوتی ہے۔جیسے ہی یورالوجی وارڈ میں داخل ہوتو میں ان دونوں کمروں کے پاس رکا جہاں
میرے نانا اور حفیظ تائب داخل تھے میو ہسپتال کے اس حصے میں میری آمد 25سال بعد ہوئی تھی درمیان میں صرف ایک بار پروفیسر نواز چغتائی صاحب کو ملنے آیا۔ چئیرمین یورالوجی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر فواد نصراللہ سے میری یہ پہلی ملاقات تھی ان کے پاس مجھے ڈاکٹر شاہجہاں بھی ملے جو لاہور جنرل ہسپتال میں تعینات تھے اور اب ان کو یہاں تعینات کیا گیا ہے۔پروفیسر فواد نسراللہ سے پروسٹیٹ کے ایشو پر بات ہوئی انھوں نے جو اظہار خیال کیا وہ قارئین کی آگاہی کے لیے پیش خدمت ہے۔ پروسٹیٹ ایک ایسا غدود ہے جو صرف مردوں میں ہوتا ہے۔ یہ اخروٹ کے برابر ہوتا ہے اور مثانے کی گردن کے نیچے، مثانے سے باہر نکلنے کے راستے کے ارد گرد یعنی پیشاب کی نالی کے گرد ہوتا ہے۔ پروسٹیٹ ایک دودھیا مائع بناتا ہے اور نطفے کوغذا فراہم کرتا ہے۔پروسٹیٹ غدود مردانہ تولیدی اعضا کا 30فی صد حصہ بناتا ہے۔ پروسٹیڈ غدود کے بڑھنے کی وجہ سے پیشاب کے دوران تکلیف، پیشاب کے جسم سے اخراج کی دھار میں کمی،پیشاب میں خون کی بوندیں،تولیدی جراثیم میں خون کی بوندوں کا شامل ہونا،بغیر کسی وجہ کے وزن میں کمیerectile dysfunction اور تھکاوٹ جیسے مسائل شامل ہیں.جب پروسٹیٹ غدود کے خلیات اپنے ڈی این اے میں تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں تو ان کے نتیجے میں پروسٹیٹ غدود کا کینسر ہو سکتا ہے۔ خلیات کا ڈی این اے خلیات کے افعال کو کنٹرول کرتا ہے اور تبدیل شدہ ڈی این اے خلیات کو عام خلیات کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھنے اور تقسیم کرنے کا سبب بنتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر فواد نصراللہ نے بتایا کہ غیر صحت مند غیر معمولی خلیوں کا جمع ہونا ایک بڑے پیمانے پر تشکیل دیتا ہے جسے ٹیومر کہا جاتا ہے جو ارد گرد کے بافتوں کو میٹاسٹیسائز کر سکتا ہے۔اگر والدین یا کسی قریبی رشتہ دار کو پروسٹیٹ کینسر تھا تو اس کینسر کے ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں جبکہ موٹاپا کا شکار لوگوں میں اس کینسر کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔پروسٹیٹ کینسر اور اس کا علاج پیشاب کی بے ضابطگی کا باعث بن سکتا ہے۔ پروسٹیٹ کی بیماری کو جانچنے کا طریقہ ایک مخصوص اینٹیجن (PSA) خون کا ٹیسٹ ہوتا ہے جو PSA کی سطحوں کا اندازہ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، پروٹین جو کہ نارمل اور کینسر والے پروسٹیٹ خلیوں دونوں سے تیار ہوتے ہیں اس کے علاوہ DRE ایک معمول کا اسکریننگ ٹیسٹ ہے۔ اس ٹیسٹ سے ڈاکٹر کو پروسٹیٹ غدود کی صحت کی جانچ کرنے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ الٹراساؤنڈ اسکین USG اسکین پروسٹیٹ غدود کی تصاویر بنانے اور عضو میں کسی بھی غیر معمولی ماس کو تلاش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے.اس کے علاوہ ایم آر آئی ٹیسٹ یعنی mpMRI اسکین ڈاکٹر کو پروسٹیٹ غدود کی خرابی اور اس کے بڑھنے کی صلاحیت کا پتہ لگانے میں مدد کر سکتا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر فواد نصر اللہ کا کہنا تھا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور میو ہسپتال میں قائم یورالوجی کا شعبہ تاریخی لحاظ سے اپنی اہمیت رکھتا ہے اور حکومت پنجاب کی زیر نگرانی پروسٹیڈ غدود کے علاج میں معاون تمام سہولیات یہاں موجود ہیں جو مریضوں کو بلامعاوضہ فراہم کی جارہی ہیں.جن کا علاج معائنہ کے بعد ادویات اور پھر سرجری یاں پھر شعاعوں کے ذریعے کیا جاتا ہے.ادویات کی وجہ سے پروسٹیڈ غدود سکڑ جاتی ہے اور پیشاب کا بہاؤ درست ہوجاتا ہے.اگر ادویات کے استعمال سے فرق نہ محسوس ہوتو پھر سرجری کی جاتی ہے پہلے سرجری کا عمل پیچیدہ تھا مگر اب دور جدید میں نئی تکنیکوں کی وجہ سے اس آپریشن میں آسانی پیدا ہوئی ہے اور مریض جلد بحالی کی طرف لوٹ آتا ہے اور کچھ دنوں بعد اپنے روز مرہ کے امور سرانجام دینے لگتا ہے.پروفیسر فواد نصراللہ نے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پرہیز اور وقت کے ساتھ اپنا لائف اسٹائل تبدیل کرنے سے اس بیماری کااحتمال کم سے کم ہوتا جاتا ہے.اس لیے اپنے ذہنی تناؤ کو کم کریں، باقاعدگی سے ورزش کرنا، اور دن کے بعد الکحل یا کیفین والے مشروبات سے پرہیز کرنا پروسٹیٹ کے بڑھے ہوئے علامات سے بچنے میں مدد کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اپنے مثانے کو مکمل طور پر خالی کریں تاکہ گردہ مثانہ کہ بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہوسکے.پروفیسر فواد نصراللہ کی گفتگو واقعی بڑی اہمیت کی حامل تھی جس سے پتہ چلا کہ پروسٹیٹ قدرت کی طرف سے عطیہ کردہ ایسا عضو ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی کے ارتقاء کا ایک حصہ چلتا ہے اس میں اگر تھوڑا سا بھی نقص پڑ جائے تویہ یورالوجی کے امراض کا باعث بن جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *