کالم

پبلک ریلیشنز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی تنظیم نو

مصطفیٰ کمال پاشا

جس طرح ریاست میں صحافت کو چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے جس طرح ہمارے صحافی بھائی اپنے آپ کو بہت موثر اور طاقتور تصور کرتے ہیں اور اسی لئے اپنے آپ کو خصوصی اور ضروری مانتے ہیں اسی طرح شعبہ تعلقات عامہ کو کسی بھی ادارے کا خصوصی عامل سمجھا جاتا ہے اسی لئے تعلقاتِ عامہ سے جڑے ہوئے افراد اپنے آپ کو خصوصی اور مراعات یافتہ تصور کرتے ہیں انہیں کیونکہ بربنائے عہدہ اور ذمہ دار ادارے کے نمبر ون کے ساتھ براہ راست کام کرنے کے مواقع ملتے ہیں شعبے کے سربراہ تک براہ راست رسائی ہوتی ہے اور اسی حوالے سے انہیں کچھ خصوصی مراعات بھی مل جاتی ہیں اور وہ دوسروں کی نظروں میں محترم اور مراعات یافتہ تصور کئے جاتے ہیں۔ بیان کردہ ”حقائق“ کسی نہ کسی حد تک درست اور مبنی برحقائق ہیں۔
دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں شعبہ صحافت، صنعت کے طور پر سرمایہ کاروں اور مفاد یافتہ طبقات کے لئے ایک منفعت بخش کاروبار ہی نہیں بلکہ ایک موثر آلہ کار کے طور پر دن بدن ترقی کرتا چلا جا رہا ہے۔ایک طرف دولت مند طبقہ،سرمایہ کار طبقہ اسے ایک منفعت بخش کاروبار سمجھتا ہے تو دوسری طرف جائز ناجائز دولت مند اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے بھی صحافتی کاروبار کا سہارا لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ صحافت ایک کاروبار بن چکی ہے یہاں جائز ناجائز دولت چھپائی بھی جا سکتی ہے لٹائی بھی جا سکتی ہے اور جائز ناجائز خواہشات بھی پوری کی جا سکتی ہیں لیکن صحافی ایسا کچھ نہیں کر سکتے، صحافیوں کی اکثریت اب بھی نانِ جویں کے لئے ترستی ہے ان کے لئے دو وقت کی روٹی اور ضروریات زندگی کا حصول سوہانِ روح بن چکا ہے۔ دوسروں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والا طبقہ اپنے حقوق حاصل کرنے کی جہد مسلسل کر رہا ہے لیکن کامیاب نہیں ہے۔
ایسا ہی کچھ شعبہ تعلقات عامہ کے ساتھ جڑے ہوئے افراد کے متعلق کہا جا سکتا ہے یہ لوگ دیکھنے میں بڑے بااثر لگتے ہیں لوگوں کے مسائل حل کرانے میں بنیادی عامل نظر آتے ہیں انہیں اپنے اپنے اداروں اور محکموں میں کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے،ٹاپ مینجمنٹ کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں،انہیں اپنے محکمے کے بارے میں، طریقہ کار کے بارے میں معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں انہیں یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ محکمے میں کون کیا ہے؟ کون کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں کر سکتا؟اس لئے وہ لوگوں کے مسائل حل کروانے میں کلیدی کردار بھی ادا کرتے ہیں۔اعلیٰ سطحی اجلاسوں اور میٹنگز میں شریک ہونے کے باعث انہیں محکمہ جاتی پالیسی معلومات تک رسائی بھی حاصل ہوتی ہے یہ مراعات یافتہ طبقہ سمجھے جاتے ہیں۔اس بات میں تھوڑی بہت حقیقت ہو سکتی ہے لیکن یہ مکمل طور پر سچ نہیں ہے۔
معروف عربی ادبی و دانشور خلیل جبران کا کہنا ہے کہ اگر آپ وہی دیکھتے ہیں جو آنکھیں دکھاتی ہیں اور وہ کچھ سنتے ہیں جو کان سناتے ہیں تو پھر آپ اندھے اور بہرے ہیں۔تعلقات عامہ سے وابستہ افراد اپنی بہترین صلاحیتوں کے استعمال سے افراد اور محکموں کی امیج بلڈنگ کے لئے دن رات ایک کرتے ہیں، متعلقہ لوگوں کو ترغیب و تحریص اور منت ترلے کر کے اپنے فرائض کو نہ صرف احسن طریقے سے ادا کرنے کی کاوشیں کرتے رہتے ہیں بلکہ اپنے فرائض کی ادائیگی اور باس کی خوشنودی کے لئے سب کچھ کر گزرنے کے لئے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں لیکن ان کے اپنے حقوق کے لئے کوئی اجتماعی پلیٹ فارم میسر نہیں ہے،صحافیوں کے لئے تو ان کی تنظیمیں موجود ہیں،عامل فوٹو گرافر،صحافیوں کی بھی اپنی تنظیم ہے و ان کے لئے آواز بلند کرتی ہے، پریس کلب بھی جو ہر شہر میں موجود ہیں لیکن شعبہ تعلقات عامہ سے وابستہ عاملین کے حقوق کی باریابی کے لئے کوئی تنظیم یا ایسوسی ایشن موجود نہیں ہے۔
ویسے تو اس شعبے سے وابستہ شعیب بن عزیز، محمد حسین ملک، طارق بچہ، نزاکت بھٹی جیسی کئی نامور اور بار رسوخ شخصیات کے نام لئے جا سکتے ہیں جنہوں نے کارکردگی کے ذریعے اپنی دھاک بٹھائی اور تعلقات عامہ کے پیشے کو نئی جہت سے روشناس کیا لیکن کوئی اجتماعی کاوش سامنے نہیں آ سکی۔ ویسے تو یہ حضرات بذاتِ خود اپنی ذات میں انجمن ہیں لیکن یہ کوئی پلیٹ فارم تشکیل نہیں دے سکے جو اس شعبے سے وابستہ افراد کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی کوثر کردارا دا کر سکے۔
اس کمی کو دیکھتے ہوئے چند سال قبل کچھ سینئر اور جونیئر لوگوں نے مل جل کر ایک تنظیم قائم کی تھی، پبلک ریلیشنز ویلفیئر ایسوسی ایشن(PRWA) جس میں ڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی جیسے کہنہ مشق ماہر و جید تعلقات عامہ کی قیادت میں بہت سے جدید و قدیم، حاضر سروس اور ریٹائرڈ ماہرین تعلقات عامہ نے اپنے ساتھیوں کے اجتماعی مفادات کے لئے آپس میں جڑنے اور جدوجہد کرنے کا عہد کیا۔اس ایسوسی ایشن کو ہمدرد فاؤنڈیشن کے علی بخاری کی معاونت بھی حاصل ہو گئی،گزشتہ دنوں ڈاکٹر صاحب نے ایسوسی ایشن کے سینئر و بانی اراکین کو ایک ظہرانے پر مدعو کیا اور تنظیم کو فعال بنانے اور آگے بڑھانے کی اپنی دلسوز خواہش کا اظہار کیا اس محفل میں اطہر اعوان، کامران ملک، ڈاکٹر مصطفی کمال، مہر عبدالرؤف، سید علی بخاری، افتخار رسول جیسے کہنہ مشق ماہرین تعلقات عامہ کے علاوہ کرامت علی اور ذوالفقار علی جیسے توانا وجواں عزم ماہرین بھی شریک تھے اسی محفل میں منشا قاضی بھی شریک گفتگو ہوئے، انہوں نے متفقہ طور پر مجھے یعنی مصطفی ٰکمال پاشا تنظیم کا صدر چنا اور ذمہ داری سونپی کہ میں فعال تنظیم بنانے کی منصوبہ سازی کروں تاکہ شعبہ تعلقات عامہ سے جڑے ہوئے خواتین و حضرات کے حقوق اور فلاح و بہبود کے معاملات کو منظم طریقے سے آگے بڑھایا جا سکے۔ ویسے ہمارے ہاں اوپر سے لے کر نیچے تک، اعلیٰ سے ادنیٰ تک،اجتماعیت کے لئے کام کرنے کا رواج بھی نہیں اور مزاج بھی نہیں ہے۔اللہ سے دُعا ہے کہ اللہ مجھے اس نیک مقصد میں کامیابی عطا فرمائے، آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex