کالم

پارا چنار کے شہید اساتذہ، انصاف کے منتظر

یاورعباس

سانحہ 9مئی سے چند دن قبل 4مئی کو پاراچنارمیں دہشت گردی کی لرزہ خیز وارداتوں میں 8اساتذہ کو شہید کردیا گیا مگر قاتلوں کی عدم گرفتاری اور ملک بھر کی سیاسی ، سماجی ، مذہبی تنظیموں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے خاموشی ہماری اجتماعی بے حسی کا ثبوت ہے ۔ 4مئی کوضلع پارا چنار میں نامعلوم افراد نے شلوزان روڈ پر چلتی گاڑی پر فائرنگ کر کے ایک سکول ٹیچر کو شہید کردیا واقعہ کے کچھ دیر بعد تری مینگل ہائی سکول کے اندر اسٹاف روم میں فائرنگ کر کے 7اساتذہ کو شہید کردیا گیا ۔ دہشت گردی کے ان واقعات نے ملک بھر کے اساتذہ کے لیے خطرہ کی گھنٹی بجادی کہ وہ اپنے سکولز میں بھی محفوظ نہیں ہیں اور قوم کے قیمتی اثاثہ کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ۔ تری مینگل ہائی سکول کے واقعہ کے بعد حسب سابق امن و امان نافذ کرنے والے ریاستی اداروں اور حکمرانوںکی جانب سے اظہار افسوس، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے ، صوبے میں امن و امان قائم کرنے کے کھوکھلے نعرے لگائے گئے ۔شہید اساتذہ کا تعلق اہل تشیع سے تھا اسی لیے اس واقعہ کو مذہبی فرقہ وارانہ رنگ دے کر خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت محسوس کی گئی ۔اساتذہ جو کسی بھی قوم کی نسل نو کی آبیاری میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور جسے پیغمبرانہ پیش قرار دیا جاتا ہے کیا اساتذہ کے قتل پر ریاست ماضی کے ایسے بے شمار سانحات کی طرح خاموشی اختیار کرے گییا پھر شاید کبھی قاتل پکڑے جائیں گےکیا مظلوم خاندانوں کو انصاف مل سکے گا ؟پارا چنار کے شہید اساتذہ کے قتل پر مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت میں ملک بھر میں اپنی طاقت کے مطابق ابھی تک احتجاج کررہی ہے ۔ گزشتہ دنوں پریس کلب ملتان کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور قاتلوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزادینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ قوم کے 8اساتذہ کی شہادت پر صرف ایک جماعت کی جانب سے احتجاج کرنا اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب خاموشی قومی المیہ ہے ۔مضبوط ، مستحکم پاکستان ہی ریاست کے شہریوں کا بنیادی خواب ہے اور قیام امن کے لیے ہر پاکستانی اور ہر سیاسی و مذہبی جماعت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ریاستی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہیے ۔ لوگوں کے جان ومال کی حفاظت سب سے ضروری ہے۔
سانحہ 9مئی کے واقعہ کے بعد پاکستانی قوم کو اپنے سیکورٹی اداروں کی برق رفتاری سے ملزمان کو ٹریس کرنے اور گرفتار کرنے پر خوشی ہے کہ ہماری ریاست کے سیکورٹی ادارے اور پنجاب پولیس اتنی ہونہار ہے کہ چند گھنٹوں کے بعد ویڈیوز ، فوٹیج اور موبائیل فون سروس کے ذریعے لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا گیا یہی کارکردگی جدید ملکوں میں بھی موجود ہوتی ہے ۔ اب ریاست کو چاہیے کہ اساتذہ کے قتل کے ملزمان بھی اسی فارمولے کے تحت انہی باصلاحیت افسران کے ذمہ لگائیں اور اگرچہ ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے مگر اب ہی فوری طور پر ملزمان کی نشاندہی کرکے انہیں گرفتار کر کے عبرت ناک انجام سے دوچار کیا جائے تاکہ پھر دہشت گردی کے ایسے واقعات جس میں پرامن شہریوں اور خاص طور قوم کے اساتذہ کو سکول کے اندر گھس کر قتل کرنے کی کوئی جرات نہ کرسکے ۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو بھی چاہیے کہ وہ پسند اور پاپسند کی سوچ سے باہر نکلیں اور ہر ظلم کے خلاف آواز اُٹھایا کریں ۔ یہاں ایلیٹ کلاس کے کسی شخص ، خاتون یا پھر بچے کو اگرذرا سی خراش آجائے تو تمام انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ہمارا میڈیا چیخ چیخ کر حکومت کو جھنجوڑ رہا ہوتا ہے مگر اسی ملک میں کوئی عام شہریوں کے ساتھ چاہے جانوں سے کھیلا جائے مگر ہر طرف خاموشی ۔ آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کی شہادت پر ریاست نے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کا فیصلہ کیا تو زیادہ دیر نہیں لگی تھی کہ ملک میں امن قائم ہوگیا تھا ۔ اسی طرح جیسے سانحہ 9مئی کے ملزمان کے خلاف فوری ایکشن لیا گیا ہے اگر اسی طرح سانحہ پارا چنار یا پھر اس قسم کے دیگر واقعات کا ریاست نوٹس لے اور ملزمان کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچا دے جس کا اب قوم کو پوری طرح یقین ہوگیا ہے کہ ریاست کے پاس پوری صلاحیت موجود ہے تو پھر شاید آنے والے دنوں میں ہماری آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ پاکستان کا خواب پورا ہوسکتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex