کالم

ووٹر اور پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتیں

اختر عباس اختر

جون کی گرمی اور سیاسی درجہ حرارت ہی اس وقت پاکستانی قوم کے زیر بحث ہے چند ماہ سے سیاسی ہلچل اپنے عروج پر ہے سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے لوگ کی وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے استحکام پاکستان کے نام سے ایک نئی سیاسی پارٹی بھی میدان میں اتاری جا چکی ہے سیاست درجہ حرارت کی اصل وجہ اصل ہے کیا میرے خیال میں سیاسی ہلچل کی مین وجہ آج بھی چیرمین پی ٹی آئی کی مقبولیت کا خوف ہی سیاسی درجہ حرارت بڑھانے کا سبب ہے قاسم کے پاپا کی مقبولیت کم ہوتی نظر نہیں آرہی اور یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں الیکشن میں جانے سے خوف ذدہ ہیں الیکشن کے معاملے میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں اختلافات اور دراڑیں پڑنا شروع ہو چکی ہیں پنجاب میں صورتحال کچھ بہتر ہونے اور سندھ کے بلدیاتی الیکشن میں مبینہ کامیابی کے بعد پی پی پی چاہتی ہے کہ الیکشن جلد از جلد ہو جائیں اصل میں وہ جیالوں کے ووٹ کے ساتھ ن مخالف ووٹ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ ن لیگ ابھی الیکشن کو اور سال ڈیڑھ سال آگے لے جانا چاہتی ہے ان کے خیال میں تب تک نواز شریف کی واپسی ہو چکی ہو گی جس کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اچانک سے 9مئی کا بیانیہ بھی لگ چکا ہے۔اگر اسی سال الیکشن ہوتے ہیں تو پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو مل کر ایک بیانیے پر الیکشن لڑنا چائیے ۔سروے کے مطابق پی ٹی آئی کا ووٹ بنک کم نہیں ہو سکا ۔ پی پی پی بلاول کو وزیراعظم سمجھ بیٹھی ہےکہ بلاول ہی اگلا وزیراعظم پاکستان ہوگا ،جبکہ پی ئی آئی کے لوگ اب بھی قاسم کے ابا کو ہی اگلا وزیر اعظم سمجھتے ہیں ان کے مطابق چند ایک لوگوں نے ہی پارٹی ٹکٹ واپس کیے ہیںتحریک انصاف نے پنجاب کی 297 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے ۔ چند اضلاع میں ٹکٹ واپس کرنے والوں کی تعداد آپ کے سامنے رکھتا ہوں لاہور کی 30 نشستوں میں سے دو لوگوں نے ٹکٹ واپس کرنے کا اعلان کیا تھا ، بعد میں میاں عبادالرحمن نے بیان دیا کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے اور الیکشن لڑے گا اس وقت بھی وہ قید میں ہے تو دراصل ایک حافظ منصب اعوان ہی ہے جسنے ٹکٹ واپس کیا قصور کی 9 سیٹوں میں سے ایک ہاشم ڈوگر نے ٹکٹ واپس کی ۔
اوکاڑہ کی 8 سیٹوں میں سے دیوان اخلاص واحد آدمی ہے جسنے ٹکٹ واپس کی فیصل آباد کی 21 سیٹوں میں سے ایک بھی امیدوار نے ابتک ٹکٹ واپس نہیں کیا ۔۔۔گوجرانوالہ کی 14 سیٹوں میں سے صرف دو امیدواروں نے ٹکٹ واپس کیے حافظ آباد کی تین سیٹوں میں کسی نے بھی ٹکٹ واپس نہیں کی ۔۔ ملتان کی 13 سیٹوں میں سے تین افراد نے ٹکٹ واپس کئے ۔منڈی بہاؤالدین کی 4 سیٹوں میں سے ایک قمر خان( قمر چائے والے ) نے ٹکٹ واپس کی راولپنڈی کی 15 سیٹوں میں سے واحد فیاض الحسن چوہان نے ٹکٹ واپس کیاجھنگ کی 7 سیٹوں میں سے بس ایک شیخ یعقوب نے ٹکٹ واپس کیا ۔ رائے تیمور والا حلقہ اوپن تھا اس نے بھی تحریک انصاف کو خدا حافظ کہا سرگودھا کی 10 سیٹوں میں سے عنصر نیازی اور فاروق چیمہ سمیت 4 افراد نے ٹکٹ واپس کیا مگر انہوں نے کس فسطائیت کا مقابلہ کیا اس سے سب آگاہ ہیں ۔
11 اضلاع کی صورتحال آپکے سامنے ہے جہاں 95 فیصد امیدوار پارٹی کے ساتھ کھڑا ہے اور جن لوگوں نے ٹکٹ واپس کئے ہیں انہوں نے بھی شدید دباؤ کے بعد ٹکٹ واپس کیا ہے ۔۔ مگر پارٹی کے پاس چوائس بہت ہے کئی بڑے نام ہیں جو پارٹی ٹکٹ کے خواہشمند ہیں کیونکہ ووٹر سپورٹرز تو 100 فیصد متحد اور موقع کی تلاش میں ہے کہ کب اسے موقع ملے اور وہ بدلہ لے۔گذشتہ دنوں ایک پی پی راہنما کا انٹرویو سنا جس میں موصوف کہہ رہے تھے کہ پی پی پی کو پنجاب میں پی ٹی آئی سے مل کر الیکشن میں حصہ لینا چاہیے۔ ویسے سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہے آنے والے دنوں میں بہت کچھ واضع ہو کر سامنے آئے گا بس جو بھی ہو میرے وطن کے لیے اچھا ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex