کالم

وزیراعلیٰ محسن نقوی کی صوبہ میںزیادہ کپاس اگاؤ مہم

محمد ناظم الدین

نگراں وزیراعلیٰ محسن نقوی کی قیادت میں پنجاب حکومت کی کاوشیں رنگ لائیں۔ پنجاب میں تقریباً 45 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی پر کپاس کی کاشت دس سال بعد ہوئی اور کپاس کی بوائی بہاولپور اور ڈی جی خان میں بوائی کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کپاس کے کاشتکاروں کی رجسٹریشن اور آن لائن رپورٹنگ کا نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ فیلڈ اسسٹنٹ کپاس کی کاشت کی نگرانی کریں گے اور موبائل ایپ کے ذریعے مشاورتی خدمات انجام دیں گے۔ کپاس کے تصدیق شدہ بیج کی کاشت کرنے والے کسانوں کی جیو ٹیگنگ کی جا سکتی ہے اور کپاس کے کھیتوں میں کیٹرپلرز کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ پنجاب میں 4.5 ملین ایکڑ رقبے پر کپاس کی کاشت کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کاٹن ایکشن پلان کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کی خصوصی ہدایات پر ہر ڈویژن میں کاٹن ایڈوائزری ایکسپرٹ گروپ قائم کیا جا رہا ہے جو کاشتکاروں کو تکنیکی رہنمائی اور کپاس کی فصل کے بہتر انتظام کو یقینی بنائے گا۔ان کی ہدایات پر صوبہ بھر کی ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام زیادہ کپاس اگاؤ مہم 2023 ء کے سلسلہ میں کسان کنونشن ہوئے۔ جس میںکسان بھائیوں کو کپاس کی کاشت اور پیداوار میں اضافے کے حوالے سے آگاہی دی گئی۔ کسان بھائیوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ تمام وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے کپاس کی کاشت کی بحالی اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے تاریخی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔ کپاس کی کاشت کے علاقوں میں نہری پانی کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے کسان بھائیوں کی بھرپور راہنمائی کی جائے گی۔ کپاس کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل کر کے کاشتکار پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ٹیل کے کاشتکاروں کو کپاس کی کاشت کے لیے اضافی نہری پانی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کپاس کی فصل ملکی معیشت کے لئے کلیدی اہمیت رکھتی ہے اور ٹیکسٹائل کے شعبہ کی ترقی کا انحصار بھی کپاس کی پیداوار پر ہے۔ کپاس کی فصل میں خودکفالت وقت کا تقاضا ہے اور کسان ملکی مفاد کے پیش نظر فصلات کی کاشت کریں تاکہ دوسرے ممالک پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی زرعی ضروریات خود پوری کر سکیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ہدایت پر زیادہ کپاس اُگاؤ مہم 2023کے حوالے سے پنجاب حکومت کی طرف سے ہر ضلع کو کپاس کے حصول کی کاشت کا ٹارگٹ ملا ہے جسے ہر صورت پورا کیا جائیگا۔ زیادہ کپاس اُگاؤ مہم کی کامیابی کیلئے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ کاشتکار زیادہ سے زیادہ کپاس کی کاشت کر کے مقرر کردہ ٹارگٹ کو پورا کرنے کے لئے ضلعی انتظامیہ کا ساتھ دینے میں تیزی سے کوشاں ہیں۔ کسانوں کے لیے معیاری بیج اور ادویات کی سرکاری نرخناموں پر دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ کسانوں کی سہولت کیلئے تحصیل کی سطح پر سہولت مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں پر کاشتکاروں کو بیج اور سپرے مقررہ قیمت پر دستیاب ہیں۔کپاس کی کاشت اور پیداوار میں اضافہ معاشی استحکام کی ضمانت ہے اور حکومت پنجاب کاشتکاروں کو کپاس کی بہتر قیمت یقینی بنانے کیلئے پر عزم ہے۔حکومت کی طرف سے کپاس کی امدادی قیمت 8500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔ کپاس کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے والے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے انعامات بھی تقسیم کئے جائیں گے۔ حکومت کپاس کے کاشتکاروں کو کپاس کے بیج پر فی بیگز ایک ہزار روپے سبسڈی دے رہی ہے۔کاشتکار حکومت کی جانب سے منظور شدہ بیج استعمال کریں تاکہ کپاس کو کیڑے مکوڑوں کے حملہ سے بچایا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔زیادہ کپاس اُگاؤ مہم کے سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات اورمہم کے سو فیصد نتائج حاصل کرنے کیکے لئے تیز تر اقدمات کئے جا رہے ہیں۔نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے فیصل آباد، ساہیوال اور سرگودھا میں کپاس کی سو فیصد بوائی کا عمل پورا کر لیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس اہم سنگ میل کے حصول پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے 4.6 ملین ایکڑ سے زائد رقبے پر کپاس کی کاشت کے لیے محکمہ زراعت، انتظامیہ اور فیلڈ سٹاف کی کارکردگی کو سراہا۔ پنجاب حکومت نے کاشتکاروں کو کنٹرول ریٹ پر اعلیٰ معیار کی کیڑے مار ادویات کی فراہمی کے لیے ہر تحصیل میں کسانوں کی سہولت کے مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر مارکیٹ میں معیاری کیڑے مار ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے کا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر چھاپے مارے جائیں گے اور ملاوٹ شدہ کیڑے مار ادویات کی تیاری اور فروخت میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول اکیڈمیا، سائنسدان، کیڑے مار ادویات کی صنعت، جنرز اور اپٹما مشترکہ طور پر کپاس کے پیداواری ہدف کو یقینی بنانے کے لیے کوشش کریں گے جس سے ملکی معیشت مستحکم ہوگی۔ یوریا کھاد اور کیڑے مار ادویات کا بے دریغ استعمال فصل کو نقصان پہنچاتا ہے اس لیے کاشتکار زرعی ماہرین کے مشورے سے فصل کا انتظام کریں اور غیر ضروری سپرے اور کھادوں کے استعمال سے گریز کریں۔
جنوبی پنجاب نے کپاس کی کاشت کی بحالی میں نمایاں کردار کیاجنوبی پنجاب کپاس کی کاشت میں سب سے آگے ہے۔ صوبہ میں50 لاکھ ایکڑ پر کپاس کی کاشت کا ٹارگٹ مقرر کیا گیا تھارواں سیزن 96 فیصد ہدف حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ جنوبی پنجاب میں 43لاکھ45 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت مکمل کی گئی ہے۔ تمام اضلاع میں کپاس کی کاشت کے اعدادوشمار خوش آئند ہیں کپاس نقد آور فصل اور پاکستان کی معیشت کی ضامن ہے ۔ مطلوبہ نتائج کے حصول تک کاشتکاروں کو مکمل راہنمائی فراہم کی جائے گی ۔جدید زراعت کے فروغ، فی ایکڑ پیدا وار بڑھانے اور زمین کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیلئے مختلف تجاویز کی منظوری دی گئی۔گندم اور کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے تصدیق شدہ بیجوں کو فروغ دیا جائے گازمین کی زرخیزی بڑھانے کے لئے پنجاب سائل فرٹیلٹی بحالی پروگرام شروع کیا جائے گا۔چھوٹے کاشتکاروں کو 50فیصد سبسڈی پر فی ایکڑ 60جپسم کے تھیلے دئے جائیں گے۔پنجاب میں 50 ہزارایکڑ بنجر اراضی کو قابل کاشت بنانے کے پلان کی منظوری دی گئی ہے۔تھل کی آباد کاری کے لئے منکیرہ، چوبارہ اور نورپور تھل کی تحصیلوں میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جائے گا۔پنجاب میں تحصیل کی سطح پر سائل اینڈ واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریز بنائی جائیں گی۔فیصل آباد میں چین کے تعاون سے سٹیٹ آف دی آرٹ ریسرچ سینٹر بنایا جائے گا۔پنجاب میں چھوٹے کاششکاروں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت وئیر ہاؤسنگ، کولڈ سٹوریج اور پراسیسنگ کی سہولت کی فراہمی کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔پوٹھوہار میں 5نئے سمال ڈیمز بنائے جائیں گے۔موئثر حکمت عملی اپنا کر صوبے میں زرعی انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔کارپوریٹ فارمنگ کو فروغ دے کر بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔کپاس اور گندم ملک کیلئے معاشی طور پر اہم فصلیں ہیں۔ان فصلوں کی بہتر پیدا وار کے لئے بھر پور اقدامات کئے جارہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex