کالم

نیب طریق کار میں تبدیلیاں ،خوش آیند

محسن گورایہ

قومی احتساب بیورو یعنی نیب اپنے آپریشنل طریقہ کار میں کچھ بنیادی تبدیلیاں لا رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسی سرکاری ملازم یا عہدیدار کو مستقبل میں ہراساں یا تنگ نہ کیا جاسکے ،اس مقصد کے لیے چھ اقدامات زیرِ غور لائے جا رہے ہیں، پہلا: کسی کے خلاف گمنام شکایت پر غور نہیں کیا جائے گا، دوسرا: کسی بھی سرکاری ملازم یا عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کے خلاف بد عنوانی کے کسی بھی معاملے کی شکایت کرنے والا شخص حلف نامہ جمع کرانے کا پابند ہو گا کہ اگر اس کی شکایت غلط ثابت ہوئی تو وہ مجرمانہ فعل پر قانونی نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، تیسرا: ایسے کسی معاملے میں انکوائری نہیں کی جائے گی جس کی شکایت میں سرکاری اقدامات یا فیصلے میں طریقہ کار کی خرابی شامل ہو اور اس میں مالی فائدے کے حصول کا کوئی ثبوت موجود نہ ہو، چوتھا: نیب کی طرف سے تحقیقات کا سامنا کرنے والے شخص کو ملزم نہیں کہا جائے گا بلکہ اس کے لیے مدعا علیہ یعنی ریسپونڈنٹ (Respondent) )کا لفظ استعمال کیا جائے گا، پانچواں: میڈیا کو تفصیلات صرف اسی صورت فراہم کی جائیں گی جب انوسٹی گیشن کے نتیجے میں احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے گا،چھٹا: سرکاری ملازمین کے خلاف شکایت درج ہونے کی صورت میں صوبائی اور وفاقی سطح پر سینئر سیکرٹریز پر مشتمل کمیٹیز سے بھی مشاورت کی جائے گی۔یہ اچھی خبر اس روز ملی جب پاکستان سمیت پوری دنیا میں یومِ انسدادِ بد عنوانی منایا جا رہا تھا چنانچہ دعا ہے کہ ان اقدامات کو عملی شکل دی جا سکے اور اس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوں کہ وطنِ عزیز کو اس کی اشد ضرورت ہے، میرے خیال میں یہ اس حوالے سے اچھے فیصلے ہیں کہ احتساب کے ادارے کی بے جا مداخلت کی وجہ سے موجود بیوروکریسی کی کارکردگی شدید طور پر اور مسلسل متاثر ہو رہی ہے اور اس کا ازالہ ممکن ہو سکے گا۔ نیب کی زد میں آ جانے کے خوف سے کوئی بھی کچھ کرنے کا تیار نہیں حتیٰ کہ جائز اور مناسب کام بھی نہیں ہو رہے کہ پتا نہیں کون شکایت کر دے اور کب طلب کر لیے جائیں۔ اب جبکہ اینٹی کرپشن والوں کے اختیارات محدود کرنے سے فیصلہ سازوں کو حوصلہ ملا ہے تو امید کی کرن روشن ہوئی ہے کہ قومی وسائل کا غلط استعمال رک جائے گا یا کم ہو جائے گا اور ملک کے ترقی کرنے کی رفتار میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔گزشتہ کالم میں بات ہوئی تھی کہ بیوروکریسی کو نیب سے کیا شکایات ہیں اور نیب کے بے جا مقدمات کا خوف کس طرح بیوروکریسی کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے، میں نے توقع ظاہر کی تھی کہ ایک آرڈیننس کے ذریعے ڈی جی اینٹی کرپشن کے اختیارات میں جو تخفیف کی گئی ہے اس کے بیوروکریسی کی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اب نیب کی جانب سے حوصلہ افزا فیصلوں سے صورت حال کے مزید بہتر ہونے کے امکانات روشن تر ہو جائیں گے، لیکن معاملہ یا مسئلہ یہ ہے کہ نیب سے شکایات محض بیوروکریسی تک محدود نہیں اور بھی بہت سے ہیں جو نیب سے شاکی اور اس ادارے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے آئیے یہ جانیں کہ
احتساب کے ادارے سے متاثرین کو عام شکایات ہیں کیا؟ اس وقت ، گمنام درخواستوں پر ایکشن، ناکافی شواہد کی بنیاد پر گرفتاریاں، الزامات ثابت ہونے سے پہلے میڈیا میں تشہیر، تفتیش کاروں کا نامناسب رویہ، زیر حراست ملزمان سے ناروا سلوک، اور نیب آرڈیننس کے تحت اس ادارے اور اس کے چیئرمین کو حاصل لا محدود صوابدیدی اختیارات وہ الزامات ہیں جن کا نیب کو بحیثیت ایک ادارہ سامنا کر پڑ رہا ہے۔ نیب کا ادارہ نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں قائم کیا گیا تھا اور اس کو تقویت پرویز مشرف کے دور میں ملی جب اس کے اختیارات میں خاصا اضافہ کر دیا گیا تھا اگرچہ ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن کے پیشِ نظر احتساب یا نیب کا ادارہ کسی نہ کسی شکل میں کسی نہ کسی نام سے اس سے پہلے بھی موجود رہا ہو گا لیکن سوال یہ ہے کہ اس کے باوجود ملک میں کرپشن کا خاتمہ تو دور کی بات اس میں مناسب حد تک کمی بھی کیوں نہیں لائی جا سکی ہے؟ اب تک کرپشن کر کے کھایا گیا کتنا پیسہ بد عنوانوں سے برآمد کیا گیا ہے؟ کیا یہ شرح اطمینان بخش قرار دی جا سکتی ہے؟ ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر احتساب کے ادارے کے قیام کا مقصد کرپشن کی روک تھام اور بالآخر اس کا مکمل خاتمہ ہے تو کیا موجودہ رفتار سے یہ ہدف کبھی پورا کیا جا سکے گا؟ پھر ایک سوال یہ ہے کہ کیا سارے مسائل کی وجہ چیئرمین نیب کو حاصل لا محدود اختیارات ہیں اور کیا ان اختیارات کو ختم یا کم کر کے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا؟ بات ہو رہی تو احتساب کے ادارے سے شکایات کی تو بیوروکریسی کے بعد سیاست دان اس ادارے سے سب سے زیادہ شاکی نظر آتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ادارے کو حکمران اپنے مخالفین کو دبانے اور انہیں اپنا تابع بنائے رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، احتساب کے ادارے میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے بارے میں عدلیہ میں بھی بازگشت سنائی دیتی رہی ہے، امسال اگست میں ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ احتساب بیورو سیاسی انجینئرنگ کے لیے مشرف نے بنایا تھا جسے نیب خود ثابت کر رہا ہے، جو کچھ نیب کرتا رہا ہے اس کی ذمہ داری کسی پر تو ڈالنی ہو گی۔ اسی مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس یہ تھے کہ وہ نیب میں پراسیکیوٹر رہے ہیں اس لیے سسٹم سے اچھی طرح واقف ہیں، انہوں نے بتایا کہ نیب میں بلیو، ییلو اور ڈارک روم بنائے گئے ہیں جن کا مقصد صرف سیاست ہے، ان کا کہنا بالکل درست ہے ، نیب قانون کا مذموم مقاصد کے لیے استعمال بند ہونا چاہیے۔نیب یا کسی بھی تفتیشی ادارے میں کسی کے خلاف کیس درج کرنے سے پہلے چار مراحل پورے کرنے پڑتے ہیں: شکایت کی تصدیق پہلا مرحلہ ہے جس میں مبینہ ملزم کے علم میں لائے بغیر اس کے خلاف آنے والی شکایت کی تصدیق کی جاتی ہے، دوسرا مرحلہ: شواہد ملنے پر باقاعدہ انکوائری کی جاتی ہے، مزید شواہد ملیں تو تیسرے مرحلے میں مزید تفشیش کی جاتی ہے اور یہ یقین ہو جائے کہ جو شکایت درج کرائی گئی وہ واقعی درست ہے تو چوتھے مرحلے میں عدالت میں ریفرنس فائل کیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کیا نیب یہ چاروں مرحلے مکمل کرتا ہے؟ بیوروکریسی اور سیاست دانوں کا موقف تو یہ ہے کہ ایسا نہیں کیا جاتا۔ ان شکایات کے ازالے کے لئے جو اقدامات اٹھانے کی بات کی جا رہی ہے وہ صائب ہے اور جیسا کہ میں نے عرض کیا ان کے نہایت مثبت نتائج و اثرات سامنے آنے کی توقع ہے، اب یہ فیصلہ اربابِ بست و کشاد کے کرنے کا ہے کہ اینٹی کرپشن کے بعد نیب میں بھی ایسے اقدامات جلد از جلد اٹھائے جائیں ،تاکہ ملک خوشحالی اور ترقی کی جانب اپنا سفر تیز کر سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex