کالم

نیا بجٹ، پرانے مسائل

ایم زیڈ مغل

وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال 24-2023 کیلئے قومی اسمبلی کے پُر سکون ماحول میں بلا رُوک ٹوک وفاقی بجٹ پیش کیا۔ اسطرح اسحاق ڈار کو چھٹی مرتبہ پاکستان کا سالانہ بجٹ پیش کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال پاکستانی عوام کیطرف سے فوری منفی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بظاہر مالی سال 24-2023 کیلئے پیش کیا گیا بجٹ بیلنس ہے۔ بلخصوص سرکاری ملازمین کیلئے جن کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ملک میں اس وقت کم و بیش بیس لاکھ کے قریب سرکاری ملازمین مختلف وزارتوں، سرکاری و نیم سرکاری اداروں اور آئینی و قانونی اداروں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گذشتہ کئی سالوں کے دوران ملکی معاشی حالات کے پیشِ نظر ملازمین کیلئے کوئی خاص پیکج پیش نہ کیا جا سکا تھا اور یہ طبقہ بے رحم مہنگائی کی چکی میں بُری طرح پسنے پہ مجبور تھا۔ عجب اتفاق ہے کہ سرکاری ملازمین کو نوازنے کے حوالہ سے پاکستان پیپلز پارٹی مخصوص شناخت کی حامل سیاسی جماعت تصور کی جاتی ہے لیکن اس سال سابق صدر آصف علی زرداری کے اس فارمولہ کو اسحاق ڈار نے زبردست انداز میں کیش کرنے کی کوشش کی ہے اور ممکنہ طور پر وہ اس میں کامیاب بھی ہوسکے ہیں اگرچہ اس کے پیچھے پنہاں عوامل کو منظرِ عام پہ آنے میں کچھ وقت درکار ہو گا لیکن فی الحال سرکاری ملازمین بغلیں بجانے میں مصروف ہیں کہ ان کی اُمیدوں سے بڑھ کر انہیں نوازا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر مالی سال 24-2023 کیلئے 145 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے جس میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1 ہزار 150 ارب روپے مختص کرکے تاریخ رقم کی گئی ہے۔ ترقیاتی بجٹ کے اعدادوشمار دیکھ کر 2023 کو الیکشن کا سال تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس مد میں جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ سیاسی طور پر عوام کیلئے مختلف ترقیاتی و تعمیری منصوبوں کا آغاز ہونے جا رہا ہے جس سے عوام کی رائے کو تبدیل کروانے میں ممکنہ طور پر مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ ماضی میں پاکستانی حکومتوں کا یہ المیہ رہا ہے کہ ڈویلپمنٹ بجٹ کے استعمال میں کمزور گورننس کے باعث ہمیشہ ہی تعمیراتی و ترقیاتی منصوبہ جات میں کروڑوں بلکہ اربوں کی کرپشن کے الزامات لگتے آئے ہیں۔ حکومت چاہے کسی سیاسی پارٹی کی ہو لیکن ہر مرتبہ الزامات کی نوعیت مشترک ہی رہی ہے تاہم یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک میں موجود احتساب کے ادارے عموما ان الزامات کو ثابت کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہوتے نظر نہیں آئے۔ اگر ہم ان وجوہات و مضمرات پر یہاں روشنی ڈالیں گے تو
یقینا ًکالم کے اصل موضوع سے روگردانی شمار ہوگا لیکن یہ امر ثابت شدہ ہے کہ پاکستان کا انٹرنیشنل کرپشن پرسیپشن انڈیکس ہر سال نیچے سے نیچے ہی آرہا ہے جو بطور پاکستانی شہری ہمارے لئے خطرہ کی گھنٹی کے مانند تو ہے ہی ساتھ ہی حکومتی سطح پر اعلیٰ حکام کی توجہ کا متقاضی بھی ہے کہ وہ پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر زوال پذیر شناخت کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں۔ اقدامات ضروری ہے کہ باہمی مشاورت سے مثبت نوعیت کے ہوں جن سے تمام اہم سیاسی پارٹیاں اتفاق بھی کرتی ہوں تاکہ عملدرآمد طویل نوعیت پر مبنی ہوسکے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہر نئی آنے والی حکومت ذاتی مقاصد کے حصول کیلیے قوانین میں من پسند انداز میں تبدیلی کرکے مرضی کے فیصلے حاصل کرس ۔بجٹ کے موضوع پہ واپس آتے ہیں، اس سال سالانہ بجٹ خسارہ جسے بجٹ ڈیفیسٹ بھی کہا جاتا ہے 6924 ارب روپے ظاہر کیا گیا ہے مطلب ہمارا خسارہ ہماری ٹوٹل آمدن سے صرف 613 ارب روپے کم ہے۔ بجٹ میں جسارہ پیدا کیسے ہوتا ہے؟ اس کی آسان ترین تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ آپ کی آمدن اور اخراجات میں فرق کتنا ہے۔ ہماری کل آمدن 17537 ارب اور ہمارے اخراجات 14461 روپے ہیں۔ اگر آپ خسارہ کم کرنا چاہتے ہیں تو اپنی یا تو اپنی اپنی آمدن بڑھا لیں یا پھر اپنے اخراجات کو کنٹرول کرلیں۔ اگلے سال جون تک 7303 ارب روپے قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں ادا کرنا ہیں علاوہ اذیں پاکستان کی دیگر زرائع سے آمدن محض 390 اربے ہے اور سول حکومت کے اخراجات 714 ارب روپے ہے۔ فرق صاف ظاہر ہے کہ ایک طرف اخراجات زیادہ اور آمدن کم ہے لیکن بدقسمتی پاکستان کے جیسے پلو سے چپکی بیٹھی ہے کیونکہ ہمارے حکمران اپنی عیاشیوں پر کسی قسم کے کمپرومائیز کرنے کو تیار نہیں۔ ہم نے کرپشن کو بھی کم نہیں ہونے دینا، ہم نے سخت ترین قوانین بھی نہیں بننے دینے جو ملک سے کرپشن کو کریش کرنے کیلئے اداروں کو آزادانہ کام کرنے دے سکیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہر نئی آنے والی ھکومت کے ساتھ تما م ادارے سابقہ حکومت کیخلاف برسرِ پیکار نظر آتے ہیں۔
میری نظر میں ایک مرتبہ ہمارے نظام کو مکمل طور پر ریفریش کرنے کی ضرورت ہے۔ لانگ ٹرم پالیسیاں تشکیل دی جائیں، سیاسی حکومتوں کو دورانیہ مکمل کرنے دیا جائے اور تمام سیاسی پارٹیاں اور قومی ادارے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کی خاطر ایک پیج پہ ہوں۔ ہم باہمی مدد، اتحاد اور یگانگت کیساتھ صرف ایک مرتبہ تہیہ کر لیں کہ ملک کو بدحالی اور معاشی بھنور سے آزاد کروانا ہے اور بس پھر انفرادی و اجتماعی طور پر سلجھائو کیلئے لگ جائیں۔مجھے یقین ہے اجتماعی کوششوں سے صرف چند سال کے اندر اندر حالات مختلف ہونگے۔ پھر ہمارے بھی پڑھے لکھے نوجوان ملک چھوڑ کر باہر جانے سے اپنے ملک میں ہی اپنی توانائیاں صرف کرنے پر فوقیت دیں گے۔ لیکن اگر ایسا نہ کیا گیا تو نتیجہ کے پہلے ہی ہم انتہائی قریب ہیں۔ آئے روزہمیں ڈیفالٹ کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف ہماری لائف لائین بن چکی ہے اور یہ لائین گذشتہ کئی ماہ سے بلاک ہے۔ اپنی تقدیر ہمارے اپنے ہاتھ ہے اب ہم دیکھ لیں اور فیصلہ کر لیں کہ ہمیشہ ایسے حالات میں بھی آپس میں دست و گریباں ہی ہونا ہے یا ایک مرتبہ اپنی ڈائریکشن کو درست سمت میں گامزن کرنا ہے اور محنت کرنی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex