کالم

نگران حکومت کی معاشی سرگرمیاں

یہ حقیقت ہے کہ ڈالر کی قیمت کچھ عرصے سے قابو میں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت میں بہتری آ رہی ہے، معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ معیشت مکمل طور پر تندرست و توانا ہو چکی ہے۔ ہدف سے زیادہ ٹیکس وصولی، جاری کھاتے کے خسارے میں کمی، برآمدات اور سرمایہ کاری میں بہتری سمیت دیگر کئی معاشی اشاریے مثبت ہیں لیکن اِس کے اثرات تاحال عام آدمی تک نہیں پہنچ پا رہے، اوراسے تو آج بھی گیس اور بجلی کے بھرنا پڑ رہے ہیں جو اُس کی استطاعت سے کہیں باہر ہیں، بجلی کے بلوں نے تو ہر حد ہی پار کر لی ہے، کم یونٹ استعمال کر کے بجلی بچانے کی کوشش کرنے والی مڈل کلاس بھی مشکل میں ہے، بجلی کی قیمت تو بڑھی سو بڑھی اُس پر ٹیکس کی بھرمار ہے،متعلقہ ادارے کچھ بھی کہیں، کوئی بھی تاویل پیش کریں جتنے بھی دعوے کریں کہ گھریلو صارف کے لیے بجلی کے ایک یونٹ کی انتہائی قیمت لگ بھگ 57 روپے ہے لیکن مجموعی بِل کو کل استعمال شدہ یونٹوں پر تقسیم کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بعض افراد کو بجلی کی فی یونٹ قیمت اِس سے دو گنا بلکہ شاید اِس سے بھی زیادہ ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ عام آدمی پر یوٹیلیٹی بِلوں کے ذریعے ڈالے جانے والے بے جا بوجھ پر عالمی ادارے بھی پریشان ہیں۔ عالمی بینک کی گزشتہ ماہ جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق توانائی کا شعبہ ناقابل ِ انحصار اور معیشت پر بوجھ بن چکا ہے اور اِس شعبے پر تیزی سے بڑھتے گردشی قرضے شدید مالی مشکلات پیدا کر رہے ہیں، سرمایہ کاری کا شعبہ غیر موثر ہے اور پالیسی فیصلوں کا محور ذاتی مفاد ہیں۔ ورلڈ بینک نے پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی مخالفت بھی کی۔ بینک کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بجائے لائن لاسز کو کم کیا جائے، مقامی قرض موخر کرنے سے بینکنگ سیکٹر اور سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ پاکستان کو ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح دو سے تین فیصد بڑھانا ہو گی،اخراجات اور ٹیکس اصلاحات پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ رواں ہفتے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی رہی اور کاروبار کے آخری روز یعنی جمعتہ المبارک کو اِس کے 100 شیئر انڈیکس نے ایک اور سنگِ میل طے کرتے ہوئے 66 ہزار پوائنٹس کی سطح کو عبور کر لیا۔ گزشتہ چند ہفتوں سے سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ کیپٹلائزیشن نو ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔اس موقع پر نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کا 60 ہزار کا ہندسہ عبور کرنے کو تاریخی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بہتری کے باعث سٹاک مارکیٹ ستمبر سے اب تک 40 فیصد بڑھی ہے جبکہ ڈالر کا بھاوستمبر میں 307 روپے تھا جو آج 284 روپے کے لگ بھگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ سٹینڈ بائی معاہدے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، ایسے معاشی استحکام کے لئے کوشاں ہیں جس کے ثمرات سے ہر طبقہ مستفید ہو۔
نگران حکومت کے معاشی اقدامات لائق تحسین ہیں اور یہ درست ہے کہ نگران حکومت معیشت کو دستاویزی بنانے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کے علاوہ سرمایہ کاری کے لئے خصوصی اقدامات کررہی ہے، تاجر برادری کو چاہئے کہ وہ بیرون ملک مارکیٹ کو اپنا ہدف بنائے۔ نگران حکومت نے سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، بجلی چوری روکنے کے حوالے سے بھی سخت اقدامات کئے ہیں۔بڑی کاروباری کمپنیوں کو فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہئے۔پاکستان کو مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے، جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے انہیں ٹیکس نیٹ میں آنا ہوگا، جتنا ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوگا اتنا ہی عوام کو سہولیات کی فراہمی میں اضافہ ہوگا۔
ملکی سلامتی اور آزادی اظہار
بے شک آئین پاکستان میں شہری آزادیوں کو تحفظ حاصل ہے اور بالخصوص آئین کی دفعات 18‘ 19 میں ہر شہری کیلئے کاروبار‘ جماعت اور تنظیم سازی اور اظہار رائے کی مکمل آزادی کی ضمانت فراہم کی گئی۔ دفعہ 19 میں تحریر و تقریر کی مکمل آزادی کا خصوصی تذکرہ ہے اور اسی آرٹیکل کی ذیلی شق میں اظہار رائے کی آزادی کو ملک کی سلامتی‘ خودمختاری‘ شعائر اسلامی اور ریاستی اداروں بشمول عدلیہ اور افواج پاکستان کے بارے میں کوئی منفی پراپیگنڈا نہ کرنے کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ چنانچہ کوئی ذمہ دار شہری اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے متعینہ حدود سے تجاوز کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ بطور خاص پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو آئین کی دفعہ 19 میں متعین کردہ پیرا میٹرز کے علاوہ متعدد قانونی ضوابط کی پابندی بھی کرنا ہوتی ہے اس لئے اظہار رائے کی آزادی کے شتربے مہار استعمال کی کوئی گنجائش ہی نہیں نکل سکتی۔ اس تناظر میں اظہار رائے اور آزادی صحافت کے تحفظ و دفاع کی میڈیا کی اپنی ذمہ داری ہے اور میڈیا نے ہمیشہ یہ ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھائی ہے۔ اسکے برعکس اظہار رائے کی آزادی کے معاملہ میں حکمرانوں کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں جنہیں جس حد تک یہ آزادی سوٹ کرتی ہے‘ وہ اسے قبول کئے رکھتے ہیں اور جب انہیں اظہار رائے کی آزادی وارا نہیں کھاتی تو اسے دبانے کیلئے جابرانہ قانون وضع کرنے اور مختلف ریاستی ہتھکنڈے استعمال کرنے میں ذرہ بھر دیر نہیں لگاتے۔ اس تناظر میں ہماری تاریخ پریس اور میڈیا پر حکومتی پابندیوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔اسی موضوع پر گفتگو کر تے ہوئے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ’’میں حکومت میں آتا ہوں تو مجھے اظہار رائے کی آزادی زہر لگتی ہے اور کسی دوسرے کو حکومت مل جائے تو اسے بھی آزادی اظہار رائے زہر لگے گی۔ ان کے بقول آج کے تمام مظلوم کچھ سالوں پہلے تک ظالموں کی قطار میں چل رہے ہوتے تھے‘ ریاست میں احتساب کا نظام موجود ہے‘ ریاست میں قانون پر عملدرآمد کا طریقہ بھی موجود ہے جسے بروئے کار لانا ہمارا مطمع نظر ہے۔ ‘‘آج کے دور کا المیہ ہے کہ بعض سیاسی عناصر کی جانب سے اظہار رائے کی آزادی کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے گالی گلوچ کلچر کو فروغ دیکر اخلاقیات و معاشرت کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی اور اظہار رائے کی مادرپدر آزادی کا راستہ اختیار کرکے افواج پاکستان‘ عدلیہ اور الیکشن کمیشن سمیت ریاستی اداروں کی جانب بے سروپا الزام تراشی کے ذریعے کیچڑ اچھالنے کی روش بھی اختیار کرلی گئی جو آئین کی دفعہ 19 کے تقاضوں کے سراسر منافی ہے۔ ایسی کسی روش کو پنپنے نہ دینا یقیناً قانون نافذ اور انصاف فراہم کرنیوالے اداروں کی ذمہ داری ہے ۔ایسے عناصر کے گرد متعلقہ اداروں کو ضرورگھیرا تنگ کرنا ہوگا۔
مار گئی مہنگائی
یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ معیشت کی سانس بحال کرنے کے لئے سارا بوجھ عام آدمی سہار رہا ہے۔ عالمی بینک نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کا 10 فیصد غریب ترین طبقہ 10 فیصد امیر ترین طبقے سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، اِس سے زیادہ پریشان کن بات کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے کیا ہو سکتی ہے کہ وہاں کا غریب امیر طبقے کو پال رہا ہو۔ نگران حکومت کو چاہئے کہ اِن معاملات پر توجہ دے، ٹیکس اصلاحات کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مافیاز کے رحم و کرم پر نہ چھوڑے بلکہ خصوصی مجسٹریٹوں اور مارکیٹ کمیٹیوں کی ذریعے عام آدمی کو ہر ممکن ریلیف دینے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرے۔بارہا حکومتی دعوئوں کے باوجود مہنگائی کا طوفان کہیں تھمنے میں نہیں آرہا۔ حکومت کا اپنا ادارہ ہر ہفتے ہونیوالی مہنگائی کی دہائی دیتا نظر آتا ہے۔ چھوٹے کاروباری لوگ ہی نہیں‘ بڑے تاجر بھی مہنگائی کے ہاتھوں عاجز آچکے ہیں۔ بہت سے تاجر اور سرمایہ کار اپنا سرمایہ اور کاروبار دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں کیونکہ بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اس قدر اضافہ کر دیا گیا ہے کہ تاجروں اور صنعت کاروں کیلئے پیداواری لاگت پوری کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ حکومت بیرونی سرمایہ کار لانے کیلئے کوشاں ہے‘مگر حقیقت یہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کار کو یہاں ایسی کوئی کشش یا سہولیات نظر نہیں آتیں جن سے متاثر ہو کر وہ یہاں سرمایہ کاری کیلئے آمادہ ہو جبکہ موجودہ حالات میں عام آدمی کیلئے تو تن و تنفس کا رشتہ قائم رکھنا دشوار ہوچکا ہے‘ اس کیلئے یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی وبال جان بنی ہوئی ہے جبکہ حکومت کی طرف سے صرف طفل تسلیاں ہی دی جارہی ہیں۔ اگر مہنگائی کا تسلسل اسی طرح جاری رہا تو اس کا خمیازہ نہ صرف عوام کو بدترین مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑیگا بلکہ آنیوالی حکومت کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex