کالم

نوجوان نسل اور تربیتی انحطاط، تعلیمی ایمرجنسی

ڈاکٹر نادیہ گیلانی

دورِ جدید میں ٹیکنا لوجی کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ٹیکنا لوجی کے بغیرآنے والےدور میں ترقی ممکن نہیں مگر ٹیکنا لوجی کی یہ دوڑہمارے طلباء کو بہت ہی اہم تعلیمی مقصد سے دور کرتی جا رہی ہے اور وہ ہے اخلاقی اقدار کی ترویج اور اتباع ۔آپ شایدمجھ سے اتفاق کریں کہ دورِ حاضراخلاقی پسماندگی کےاعتبار سے عروج پر ہے۔آج سے پندرہ سال قبل تربیت کے معیارات بالکل مختلف تھے۔ سکول آنے سے پہلے بچوں میں بہت سی اخلاقی اقدار پیدا ہو چکی ہوتی تھیں جو کہ سکول میں داخلے کے بعد کالج اور یونیورسٹی تک یہ سب اقدار پختہ ہو کر بچوں کی شخصیت کا مستقل حصہ بن چکی ہوتی تھیں۔مگر اب صورتحال بہت مختلف ہے۔چونکہ راقم کا تعلق یونیورسٹی سے ہے اور آئے روز کئی مشاہدات کا سامنا ہوتا ہے ۔دیکھنے میں آیا ہے کہ جو طلباءیونیورسٹی میں داخل ہوتے ہیں ان کی اخلاقی تربیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔طلباءکا رویہ نہ صرف اپنے دوستوں کے ساتھ بلکہ اساتذہ کے ساتھ بھی بہت ہی دوستانہ اور عامیانہ ہوتا ہے۔ مشاہدہ میں آیا ہےکہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو ہم نے اپنے سکول کے زمانے میں جانے انجانے میں سیکھیں اور پھر کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کے بعدہمیں کبھی دہرانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اس کے بر عکس طلباءمیں اب بد لحاظی، لاپرواہی اور نا مناسب رویے عروج پر ہیں۔ کیا بات ،کس کو ،کب کہنی ہے کچھ پتہ نہیں ۔نا یہ پتہ ہے کہ کس جگہ اورکس طرح اٹھنا بیٹھنا ہےاور نا ہی جانتے کہ کہاں کس طرح کا لباس زیبِ تن کرنا ہے۔اور تو اور اگر کسی غیر مناسب حرکت پر سمجھایا جائے یا تنبیہ کی جائےتو بجا ئے شرمندگی کے استاد کو ہی یہ پوچھ کر شرمندہ کر دیا جا تا ہےکہ”اس میں کیا برائی ہے“میرے اندازے کے مطابق آنے والے چند سالوں میں اگر تعلیمی المیوں کی بات کی جا ئےتو اخلاقی گراوٹ سر ِ فہرست ہو گی ۔ جس کا اصل نقصان بعد ازاں معاشرے کو بحیثیت مجموعی اٹھانا پڑتا ہے۔ روز مرہ زندگی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر آپ سڑک پر جا رہے ہیں تو لوگ بیچ راستے میں گاڑیوں کو کھڑا کر کے سودا سلف لیتے ہوئے یا پھر ملنے ملانے والوں سے حال احوال پوچھتے ہوئے پیچھے ساری ٹریفک جام کروا دیتے ہیں ۔اور اگر کوئی باشعور شخص ان کو سمجھانے کی کوشش کرے تو صرف ناراضگی کا اظہار ہی نہیں کرتےبلکہ بعض دفعہ تو بات دست و گریبان تک پہنچ جاتی ہے۔اس طرح ہسپتال ،سکول ،بازار، پارکس اور دیگر جگہوں پربھی آنے جانے کے ضابطے اور آداب ہوتے ہیں جن سے ہمارے طلباء قطعاً واقف نہیں ۔
یورپ میں کنڈر گارٹن ہی سے بچوں کو مختلف جگہوں پر اساتذ ہ کے ساتھ لے جایا جاتا ہےاور ان کو ہر جگہ کے آداب سکھائے جاتے ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں لوگ اس بات کی پرواہ تک نہیں کرتے کہ وہ کس جگہ موجود ہیں ۔اکثر دوران سفر پبلک ٹرانسپورٹ پر سب سے بڑا مسئلہ مسافروں کا ایک دوسرے سے یا پھر موبائل فون پر با آواز بلند بات چیت کرناہے۔قطع نظر اس کے کہ ہمسفران کی بلند آواز اور بات چیت سے کس قدرذہنی کوفت محسوس کر رہا ہے۔ یہ سب باتیں ہو سکتا ہے کہ بہت چھوٹی ہوں مگر یہیں سے انسان کے اخلاقی معیار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر اس قدر اخلاقی پسماندگی کے ذمہ داران کون ہیں اور طلباء کی اخلاقی تربیت کیسے ممکن ہے؟ اخلاقی تربیت کی پہلی ذمہ داری تو والدین کے کندھوں پر آتی ہے۔ بچپن ہی سے تمام بنیادی اخلاقی معاملات میں ان کو والدین کی رہنمائی درکار ہوتی ہے۔لیکن فی زمانہ والدین معاشی ضروریات پوری کرنے کی خاطر اپنا زیادہ وقت گھر سے باہر گزارتے ہیں اس طرح یہ ذمہ داری والدین کے بجائے سکول پر عائد ہوتی ہے جہاں بچے ابتدائی تعلیم کی غرض سے بھیجے جاتے ہیں۔چونکہ ابتدائی سال انسانی رویوں کی نشوونما میں بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ابتدائی تعلیمی سطح پر اخلاقیات کو صرف کتابوں کی حد تک نہیں بلکہ ایک پریکٹیکل مضمون کی حیثیت سے سکھایا جائے۔جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہےجہاں 6 سال تک بچوں کو پریکٹیکل نوعیت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جس میں سب سے زیادہ اہمیت اخلاق و کردار اورتربیت کی ہوتی ہے۔ طلباء اساتذہ کے ساتھ مل کر سکول اور کلاس رومز کی صفائی کرتے ہیں اور مل کر اپنا لنچ تیار کرتے ہیں ۔ سکول کے لان اور پودوں کی نگہداشت بھی اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر کرتے ہیں ۔ اس سے نہ صرف وہ آزادانہ زندگی گزارنے کےلئے بنیادی مہارتیں سیکھتے ہیں بلکہ ان میں محبت، رواداری ، احساس اور رحم دلی کے جذبات پروان چڑھتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بنیادی آداب اور اخلاقیات کا درس بھی ملتا ہے۔ یہی بچے سکول ،کالج اور یونیورسٹی کا سفر طے کرتے ہوئے جب عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو ان تمام احساسات اور اخلاقیات سے مزین ہو کر ایک قابلِ قدرشہری کا کردار ادا کر تے ہیں۔پاکستان کے نصاب سازوں سے میری دلی درخواست ہے کہ خدارا سائنس اور ٹیکنا لوجی کے فروغ کو اخلاقیات پر قربان نہ کریں۔ ایک اچھے معاشرے کو روبوٹس نہیں بلکہ اعلٰی کردار اور اخلاق یافتہ شہری درکار ہوتے ہیں۔کالجز اور یونیورسٹی کی سطح پربھی ایسے مضامین شامل کیے جائیں جن سے اخلاقی تربیت ہو۔تبھی ہمارا معاشرہ انسانوں کا معاشرہ کہلائے گا اور ترقی کے نئے در وا ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex