کالم

ننھے ہاتھوں میں قلم کی بجائے اوزار

(رانا اعجاز حسین)

مکرمی !بچوں سے مشقت خوشحالی و ترقی کے دعویدار معاشرے کے چہرے پر بدنماء داغ ،اور قوم کی اخلاقی اقدار کے زوال کی علامت ہوتی ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 33فیصد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، یہاں ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ بچے چائلڈ لیبر کے طور پر کام کررہے ہیںاور اس تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔ان میں سے تین چوتھائی سخت مشقت والے کام، مثلاً کانوں میں کام، کیمیکلز کے ساتھ کام اور خطرناک مشینری کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔ معصوم پھول جیسے بچے بوٹ پالش کے کام سے لیکر ہوٹلوں،چائے خانوں، ورکشاپوں، مارکیٹوں، چھوٹی فیکٹریوں ، موٹر گاڑیوں ، خشت بھٹوں سمیت بہت سی جگہوں پر مشقت کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہمسائیوں، رشتے داروں یا جاننے والوں میں کوئی بے سہارا بچہ یا خاندان ہے تو اسکی کفالت کرنا صاحب حیثیت لوگوں خصوصاً رشتے داروں اور ہمسائیوں کا فرض ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex