کالم

نبی پاکؐ کی شانِ عظیم

راناشفیق خان

قاضی محمدسلیمان منصور پوری کے مطابق ؒآنحضرتؐ کی نبوت میں جملہ انبیاء کی شان نظر آتی ہے*۔۔۔ آپؐ حضرت مسیح ؑ کی طرح جھٹلائے گئے اور ستائے گئے، پھر بھی صابر و شاکر ہی پائے گئے۔*۔۔۔ آپؐ نے حضرت یحییٰ ؑ کی طرح بیابانوں اور بستیوں میں خدا کی آواز کو پہنچایا۔*۔۔۔ آپؐ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح خدا کے گھر کی عظمت و حرمت کو ازسرنو زندہ فرمایا۔*۔۔۔ آپؐ نے حضرت ایوب ؑ کی طرح صبر و شکیبائی کے ساتھ گھاٹی میں3 سال تک محصوری کے دن کاٹے، لیکن پھر بھی آپؐ کا دل اللہ کی ثناء گزاری سے لبریز اور زبان ستائش گوئی سے زمزمہ سنج رہی۔*۔۔۔ آپؐ نے حضرت نوح ؑ کی طرح قوم کے برگشتہ بخت لوگوں کو خفیہ اور علانیہ، خلوت اور جلوت میں، میلوں اور جلسوں، گزرگاہوں اور راہوں پر، پہاڑوں اور میدانوں میں اسلام کی تبلیغ فرمائی اور لوگوں کو ان کے افعال بد سے نفرت دلائی۔*۔۔۔ آپؐ نے حضرت ابراہیم ؑ کی طرح نافرمان قوم سے علیحدگی اختیار کی، مادرِ وطن کو چھوڑ کر شجرہ طیبہ اسلام کے لگانے کے لئے پاک زمین کی تلاش میں رہ نورد ہوئے۔*۔۔۔ حضرت یونس ؑ کی طرح (جنہوں نے 3 دن مچھلی کے پیٹ میں رہ کر پھر نینویٰ میں اپنی منادی کو جاری کیا تھا) غارِ ثور کے شکم میں 3 دن رہ کر پھر مدینہ طیبہ میں کلمتہ اللہ کی آواز کو بلند فرمایا۔*۔۔۔ آپؐ نے حضرت موسیٰ ؑ کی طرح (جنہوں نے بنی اسرائیل کو فرعونِ مصر کی غلامی سے آزاد کرایا تھا) شمالی عرب کوشاہ قسطنطنیہ کی بند ملوکیت سے اور شرقی عرب کو کسرائے ایران کے حلقہ غلامی سے اور جنوبی عرب کو شاہِ حبش کے طوقِ بندگی سے نجات دلائی۔*۔۔۔ آپؐ نے حضرت سلیمان ؑ کی طرح مدینہ میں اللہ کے لئے ایک گھر بنایا، جو ہمیشہ کے لئے خدا کی یاد کرنے والوں سے معمور اور ضیاء توحید سے پُرزور رہا ہے، جسے کوئی بخت نصر جیسا ’’سیاہ بخت‘‘ ویران نہ کر سکا۔*۔۔۔آپؐ حضرت یوسف ؑ کی طرح اپنے ایذا رساں و ستم پیشہ برادرانِ مکہ کے لئے نجد سے (بتوسط ثمامہ بن اثال) غلہ بہم پہنچایا اور بالآخر فتح مکہ کے دن(لاتشریب علیکم الیوم) (12 یوسف:92) کا مژدہ سنا کر ’’انتم الطلقاء‘‘ کے فرمودہ سے انہیں پابندِ منت و احسان بنایا۔*۔۔۔ وقت واحد میں آپؐ حضرت موسیٰ ؑ کی طرح صاحبِ حکومت تھے اور حضرت ہارون ؑ کی طرح صاحبِ امامت بھی۔*۔۔۔ ذاتِ مبارکؐ میں حضرت نوح ؑ کی سی گرمی، حضرت ابراہیم ؑ جیسی نرم دلی، حضرت یوسف ؑ کی سی درگر، حضرت داؤد ؑ کی سی فتوحات، حضرت یعقوب ؑ کا سا صبر، حضرت سلیمان ؑ کی سی سطوت، حضرت عیسیٰ ؑ کی سی خاکساری، حضرت یحییٰ ؑ کا سا زہد، حضرت اسماعیل ؑ کی سی سبک روحی کامل ظہور بخش تھی۔اے کہ برتختِ سیادت زازل جا داریآں چہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داریخورشیدِ رسالتؐ میں اگرچہ تمام مقدس رنگ موجود تھے، لیکن ’’رحمتہ اللعالمینی‘‘ کا وہ نور تھا جس نے تمام رنگتوں کو اپنے اندر لے کر دنیا کو ایک برگزیدہ و چیدہ (بیضا و نقیہ) روشنی سے منور کر دیا ہے۔ کسی لکھنے والے، ذرۂ بے مقدار کی کیا تاب کہ خورشید عالم افروزؐ کی جلوہ نمائی میں آئینہ داری کرے، کہے گا تو یہی کہ بعد از خدا بزرگ توئی قصۂ مختصر!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex