کالم

ناہل اور نا اہل میں مماثلت اورمعنویت

غلام شبیر عاصم

ناہل اور نا اہل بظاہر چشمِ زدن میں دونوں الفاظ کو دیکھیں تو شکلی اعتبار سے ان دونوں لفظوں میں بڑی مماثلت نظر آتی ہے،مغالطہ کی زد میں آکر گویا انہیں جڑواں بھائیوں کی طرح کسی ایک کی غلطی اور قصور کی پاداش میں دوسرے کو ہیٹی،پھینٹی،سُبکی اور تضحیک کو جھیلنا پڑ سکتا ہے۔حقیقت میں ان دونوں لفظوں میں معنوی اعتبار سے بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ناہل کے معنی’’پیاسا‘‘ جبکہ نااہل کے معنی ’’کسی صفت اور اہلیت سے خالی ہونے کے ہیں‘‘۔ہمارے ہاں رائج اندازِ سیاست اور طرزِ حکومت کے تناظر میں ہم ان الفاظ ( پیاسوں اور نااہلوں) کے مفہوم کی بنا پر کسی ایک موضوع میں
آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے،یعنی ہمارے ہاں سیاسی نااہلوں میں تشنگی پائی جاتی ہے، جس میں منفیت کی بھرپور آمیزش ہے۔یعنی ہمارے حکمران و سیاست دان”دولت اکٹھی کرنے،اقربا پروری، جارحیت اور استحصال کے ذریعے اپنے مقاصد کو پانے کے لئے ناہل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسی عِلت کے بل پر یہ بندگانِ وطن لفظ ’’نااہل‘‘کو اسکی معنوی قُویٰ عطا کرنے کی سعی میں جُٹے رہتے ہیں۔اپنی ان مذکورہ علتوں کی پاداش میں یہ کسی وقت بھی نااہل ہوسکتے ہیں۔لفظوں کو ان کے معانی و مفاہیم دینا بھی کوئی کارِ عام نہیں ہے۔ہمارے سیاستدان اپنے مفادات کی تشنگی میں ہاتھ پائوں مارتے ہوئے نااہلیت کے نشانِ خاص تک پہنچتے پہنچتے نہ جانے کیسے کیسے قبیح عوامل اور لعن طعن کے تِیر و سناں کا سامنا کرجاتے ہیں۔دنیا بھر کی لغات میں منافقت،بربریت اور بے حِسی جیسی منحوس صفات و معنویت رکھنے والے الفاظ ہمارے ہاں سیاسی معاشرے میں اپنی لفظی اور معنوی حیثیت سے پروان چڑھتے،حیات پاتے اور اپنا قد کاٹھ بناتے ہیں۔سننے،بولنے اور لکھنے پڑھنے ہی سے الفاظ کی زندگی تعبیر کی جاتی ہے۔یہاں سیاسی معاشرت سے جُڑے ہوئے منفیت خیز الفاظ کو حیاتِ جاودانی دینے میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کا بڑا کردار ہے۔ان کے طرزِ سیاست سے پنپنے والی اس معاشرت پر قدغنیں لگانا دراصل راہِ سیاست کے چُور بدن مسافروں کی محنت شاقہ کا مذاق اڑانے والی بات ہے۔مفادات اور آسائشوں کے ناہلوں کو’’نااہل‘‘قرار دینے سے ’’سیاست زدگان‘‘کو کہاں قرار ملے گا۔ان ناہلوں اور نااہلوں کی قید و بند کی صعوبتیں بھی عوام کی سلاخوں سے باہر کی زندگی سے ہزار درجہ بہتر ہوتی ہے۔ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں اس کے نااہلوں اور ناہلوں میں رتی بھر بھی فرق نہیں ہے کہ اس فرق کی کوکھ سے نیک امید کی کوئی کونپل ہی پھوٹ سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d