کالم

نئے چیف جسٹس کی آمد: اُمید کی ایک کرن

مصطفیٰ کمال پاشا

نئے چیف جسٹس پاکستان، قاضی فائز عیسیٰ نے دو اچھی روایات کے اجراء کے ساتھ اپنے دورِ قضاء کو روشن اور یادگار بنا دیا ہے گزرے کئی مقامات پر چیف سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ قومی نوعیت کے معاملات پر فل کورٹ تشکیل دیں لیکن وہ نہیں مانے بلکہ اپنی پسندوناپسند کے مطابق بینچ تشکیل دے کر معاملات چلاتے رہے اس طرح یہ ایک روایت بن گئی کہ بینچ دیکھ کر قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی تھیں کہ فیصلہ کیا ہوگا۔ ایک خاص سیاسی لیڈریا پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لئے ایک مخصوص بینچ تشکیل دیا جاتا تھا۔ دوسری سیاسی پارٹی کے خلاف فیصلہ دینے کے لئے دوسری طرز کا بینچ تشکیل دیا جاتا رہا۔ بینچ کی تشکیل گویا فیصلے کا ابتدائیہ تصور کیا جانے لگا تھا۔ بڑی اہمیت کے معاملات پر بھی بینچ ہی تشکیل دیئے جاتے رہے اس طرح سابق قاضی القضاء اور ان کی عدالت کے بارے میں متضاد تاثرات ابھرے 2019ء سے اب تک فل کورٹ بینچ تشکیل نہیں دیا گیا۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے حوالے سے بھی معاملات فل بینچ کی تشکیل کے متقاضی تھے لیکن قاضی بندیال نے ویسے ہی کیا جیسے وہ پہلے کرتے رہے تھے۔ قاضی فائز عیسیٰ نے اس معاملے پر فل بینچ تشکیل دے کر عدلیہ کے غیر جانبدار ہونے کا تاثر قائم کیا ہے یا یوں کہیے کہ سابق چیف نے عدلیہ کی تقسیم کا جو تاثر قائم کیا تھا یا ان کے اقدامات کے باعث، عدلیہ کی تقسیم کا جو تاثر ابھرا تھا وہ ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ اپنی اس کاوش میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا لیکن انہوں نے درست سمت میں ایک مناسب اور احسن قدم اٹھا کر اپنے چیف ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا ہے۔
ماضی میں فل بینچ نہ بنانے کے حق میں بھی دلائل ہوں گے ان میں سب سے اہم دلیل یہ ہے کہ فل بینچ کے فیصلے کے خلاف کیونکہ اپیل کا فورم نہیں ہوتا اس لئے اس حق اپیل کو قائم دائم رکھنے کے لئے سابق چیف فل بینچ تشکیل دینے سے گریزاں رہے تھے، یہ بات بادی النظر میں درست بھی لگتی ہے لیکن اس سوچ کے عدلیہ کی کریڈیبلٹی پر جو منفی اثرات مرتب ہوئے اس بارے میں کیا کہیں گے،پھر سابق چیف جس قسم کے بینچ تشکیل دیتے رہے، مخصوص ججوں کو مخصوص کیسز دے کر مخصوص فیصلے لئے جانے کی روش کو کیا کہیں گے؟ حقیقت یہی ہے کہ بندیال صاحب اپنے طرزِ فکر و عمل سے نہ صرف اپنی شخصیت و منصب کے وقار کو نقصان پہنچاتے رہے بلکہ اپنے ادارے کی بے توقیری کا بھی باعث بنے جبکہ قاضی فائز عیسیٰ روز اول سے ہی اس تاثر کی نفی کرنے اور اپنے ادارے کی حرمت اور توقیر کی پاسبانی کے لئے مصروف عمل ہو گئے ہیں۔
دوسرا بڑا فیصلہ، فل بینچ کی کارروائی کو براہ راست نشر کرنا ہے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قوم کو دیکھایا گیا کہ سپریم کورٹ میں بیٹھے جج کس طرح فیصلے کرتے ہیں اس طرح قاضی القضاء نے سپریم کورٹ کے معاملات میں شفافیت کے عنصر کو نمایاں کرنے کی نپی تلی کاوش کی ہے اس کاوش کے اثرات جاننے کے لئے ہمیں کسی محقق یا تاریخ نویس کے فیصلے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا بلکہ عوام نے کھلے دل و دماغ کے ساتھ چیف کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔حلف اٹھانے کے بعد اگلے روز جب بطور چیف جسٹس وہ عدالت پہنچے تو بغیر پروٹوکول اور کسی قسم کے اہتمام کے عام گاڑی میں سوارتھے گارڈ آف آنر بھی نہیں لیا۔ بڑی سادگی سے، لیکن شان کے ساتھ عدالت پہنچے اور اپنے تاریخی دور کا آغاز کیا۔پاکستان اس وقت تاریخی بحران میں مبتلا ہے۔ بحران کثیر الجہتی اور شدید ہے بحران گزر نہیں رہا ہے دن بدن شدید سے شدید تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہماری کئی دہائیوں سے جاری بداعمالیاں اور ان کے اثرات ہمارے سامنے منہ کھولے کھڑے ہیں۔
سیاسی بحران گہرا ہے۔ سیاستدان اپنی کریڈیبلٹی کھو چکے ہیں ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں اپنا اپنا عہد نبھا چکی ہیں کارکردگی اور ناکارکردگی دکھا چکی ہیں۔ ایک بڑی سیاسی جماعت نے سیاسی انتشار کو بڑھاوا دے کر ناقابلِ برداشت حد تک پہنچا دیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب ملک میں سیاسی انتشار بڑھتا تھا، لڑائی مار کٹائی فروغ پاتی تھی تو قوم فوج کو پکارنے لگتی تھی فوج آگے بڑھ کر معاملات کو سنبھالا دیتی تھی وقتی طور پر معاملات ایک حد سے آگے نہیں بڑھ پاتے تھے۔فوج بیچ بچاؤ کرا دیتی تھی لیکن اب تو فوج کو بھی اس حد تک متنازعہ بنا دیا گیا ہے کہ اس کی مداخلت بھی ممکن نظر نہیں آ رہی ہے۔ 10اپریل 2021ء میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے اور سیاسی معاملات مسلسل تخریب کا شکار ہیں۔ سیاست میں گند ڈالنے اور معاملات کو پوائنٹ آف نوریٹرن تک پہنچانے میں ہماری عدلیہ کے فیصلوں کا بھی بڑا دخل ہے۔
دوسری طرف قومی معیشت مکمل طور پر بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہو یا تجارتی خسارہ، ڈالر کی اڑان ہو یا صنعت و حرفت کی سست روی، معاشی معاملات بربادی کا منظر پیش کر رہے ہیں جہاں تک عام آدمی کا تعلق ہے تو اس کی حالت، اس کی تباہی کے بارے میں دو آراء نہیں پائی جاتیں عام آدمی کی معیشت تباہ و برباد ہو چکی ہے۔ ہمیں آسان قرضے ملنے بند ہو چکے ہیں۔ عالمی سیاسی حرکیات میں جوہری تبدیلیوں کے باعث ہمیں امداد ملنا بھی بند ہو چکی ہے۔ ہمیں اپنے وسائل سے اپنے معاملات چلانے میں مشکل ہو رہی ہے ہمیں کیونکہ قرض اور امداد کے بغیر اپنے معاملات چلانے کا تجربہ نہیں ہے اس لئے ہمیں بہت تکلیف ہو رہی ہے۔ دوسری طرف تیل کی عالمی منڈی بھی خاص گرم ہو رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے،چین نے 2019ء میں کووڈ کے باعث اپنے اوپر جو پابندیاں عائدکررکھی تھیں وہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے چین کے انڈسٹریل کمپلیکس کی رفتار بڑھنے سے توانائی کی ضروریات/ طلب میں اضافہ ہو گا اس طرح تیل و گیس کی طلب میں اضافے کے باعث اس کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے جس کے اثرات پاکستان میں دیکھے جا رہے ہیں۔بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے جس کے عوامی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
سیاست و معیشت کے ساتھ ساتھ ہماری معاشرت بھی افتراق و انتشار کا شکار ہے۔ ایک سیاسی لیڈر نے اپنے بیانیے کے ذریعے ایک پوری نسل کو خراب کیا آمادہ پیکار کیا اور وہ پھر 9مئی کو ریاستی نشانات اور مقامات پر چڑھ دوڑی۔ آج ہم بحیثیت مجموعی برے حالات کا شکار ہیں۔ ناامیدی عام ہے ایسے ماحول میں نئے چیف جسٹس کی آمد اور ایسے بولڈ اقدامات، مایوس و ناامید قوم میں امید کی ننھی سی شمع روشن کر سکتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ قوم میں ایسے اقدامات سے ایک بہتر پیغام جائے گا۔ امید کا، مستقبل میں بہتری کی امید کا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *