اداریہ

نئے معاہدے خوش آئند ہیں

گوکہ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کولاتعداد مسائل کاسامنا ہے اور ان میں سب سے بڑامسئلہ معاشی عدم استحکام کاہے لیکن اتحادی حکومت کو اس کا احساس بھی ہے اور وہ حالات بہتر کرنے کے لیے پوری طرح کوشاں بھی ہے۔روس کے ساتھ تیل کا کامیاب معاہدہ اور اب آذربائیجان کے ساتھ اشتراک عمل بڑھانے پر اتفاق ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ وطن عزیز کے معاشی مسائل جلد حل ہوں اور عوام کوسکون نصیب ہو۔ باکو میں وزیراعظم میاں شہبازشریف سے ملاقات کے دوران آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ پاکستان کے توانائی کے بحران کے خاتمہ کیلئے روس کے بعد آذربائیجان سے بھی آئندہ ماہ سے رعایتی ایل این جی کارگو پاکستان آنا شروع ہو جائیں گے جس کی آذربائیجان کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف گزشتہ چھ ماہ سے اس ڈیل کیلئے کوششیں کر رہے تھے جو اب کامیاب ہوچکی ہے۔ اتحادی حکومت اپنے اقتدار کے آغاز سے اب تک گزشتہ حکومت کے پیدا کردہ مسائل کے حل اور بیرونی دنیا میں پاکستان کا اعتماد اور تشخص بحال کرنے کی کوششوں میں مگن ہے۔ اتحادی حکومت کا حصہ ہونے کے ناطے پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اسی تناظر میں بیرونی دنیا سے روابط بحال کرنے اور بڑھانے کیلئے مختلف ممالک کی قیادتوں سے ٹیلی فونک رابطوں کے ساتھ ساتھ ان ممالک کے باضابطہ دوروں کا سلسلہ بھی شروع کیا اور اسی طرح وزیراعظم میاں شہبازشریف بھی بیرونی دنیا کے ساتھ روابط مستحکم بنانے کیلئے متحرک ہیں۔ اسی طرح آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بھی بیرونی دنیا میں پاکستان کا تشخص بڑھانے کی کوششوں میں پیش پیش ہیں۔
پاکستان اور آذربائیجان کی قیادتوں کی حالیہ ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین توانائی‘ زراعت‘ ٹرانسپورٹ‘ دفاع‘ سرمایہ کاری اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ آذربائیجان پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بھرپور تعاون کریگا۔ اس سلسلہ میں وہ تیل اور گیس کے شعبے میں پاکستان کی مدد کریگا جبکہ شمسی توانائی کے شعبے میں آذربائیجان پاکستان میں سرمایہ کاری کریگا۔ دوران ملاقات اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ آذر ایئرلائن اسلام آباد اور کراچی کیلئے دو پروازیں چلائے گی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آذربائیجان کی آزادی کے بعد اسے سب سے پہلے تسلیم کرنیوالا پاکستان دوسرا ملک تھا۔ آذر صدر نے میاں شہبازشریف سے ملاقات کے دوران دیرینہ تنازعہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ بھارت کے غیرقانونی زیرتسلط کشمیر کے عوام گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے بھارتی مظالم کا شکار ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے آذربائیجان کے صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کرلی۔ یہ امر واقع ہے کہ گزشتہ حکومت کی ناروا اقتصادی‘ مالی پالیسیوں کے نتیجہ میں پاکستان کو مالی اور توانائی کے بحران کے سنگین مسائل سے دوچار ہونا پڑا جبکہ اس نے اپنے طرز عمل سے دوست ممالک بالخصوص چین اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی خراب کئے جس سے پاکستان کے جاری بحرانوں میں مزید اضافہ ہوا۔ دوسری جانب گزشتہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کی بدولت ہی وطن عزیزکوآئی ایم ایف نے اپنے پنجوں میں جکڑلیا۔ وزیراعظم شہبازشریف کا موجودہ دورہ آذربائیجان بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے اور ملک کی سول حکومتی اور عسکری قیادتوں کے باہم تال میل سے ملک کو سنگین اقتصادی‘ مالی بحرانوں بالخصوص آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کی معطلی کے باعث پیدا ہونیوالے مسائل سے نکالنے کی راہ ہموار ہوتی نظر آرہی ہے۔ایک قومی جریدے نے اس ساری صورتحال پر بہت حوصلہ افزاء تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:”اس وقت پاکستان چین اعتماد کا رشتہ مزید مضبوط ہوا ہے اور انکے اقتصادی راہداری کے مشترکہ منصوبے سی پیک کے آپریشنل ہونے سے ان دونوں ممالک ہی نہیں‘ پورے خطے کے امن و استحکام اور خوشحالی کے راستے کھل رہے ہیں۔ اسی طرح برادر مسلم ممالک سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ قطر‘ اومان کی جانب سے بھی ہمیں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے مل رہے ہیں اور اب روس کے علاوہ دوسری وسطی ایشیائی ریاستوں بشمول آذربائیجان کی جانب سے بھی ہمیں بالخصوص توانائی کے بحران سے عہدہ برا ہونے کیلئے معاونت حاصل ہو رہی ہے۔یہ صورتحال ہماری ارض وطن کے امن‘ ترقی‘ استحکام اور خوشحالی کیلئے یقیناً خوش آئند ہے اور اسی بنیاد پر ہم بیل آئوٹ پیکیج کی بحالی کی خاطر آئی ایم ایف کی مسلسل جاری بلیک میلنگ سے جان چھڑانے کی بھی پوزیشن پر آگئے ہیں“۔
300پاکستانیوں کی المناک موت
غیر قانونی تارکین وطن کی ”جہاز نما کشتی“ یونان کے قریب سمندر میں ایک خوفناک حادثے میں ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 300پاکستانی جاں بحق ہوگئے ہیں۔حادثے میں بچ جانے والے افراد کے مطابق کشتی میں کم و بیش 310افراد سوار تھے اوریہ تعداد گنجائش سے کہیں زیادہ تھی۔ کسی نے بھی لائف جیکٹ نہیں پہنی ہوئی تھی۔ بیشتر افراد کی عمر 20 سال تھی۔ امسال یونان میں کشتی کی تباہی کا یہ سب سے مہلک واقعہ ہے۔ یونانی حکام کے مطابق کشتی میں سوار300تارکین وطن کا تعلق پاکستان سے تھا۔ یونان میں کشتی ڈوبنے کے تازہ حادثے سے پاکستان اور اس جیسے ممالک سے بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی طریقوں سے یورپی ممالک کا رخ کرنے والے تارکین کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ وہ کم ازکم اپنی زندگیوں سے تو نہ کھیلیں۔آج کل ایک بار پھر یورپ غیر قانونی تارکین وطن کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق چندسالوں میں غیر قانونی طور پر یورپی ممالک داخل ہونے کی کوشش میں ایک ہزار سے زیادہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ان میں سے کئی افراد سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے یا پھر سمندر برد ہوگئے۔یونان یورپی یونین میں مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ سے آنے والے تارکین وطن کے لئے اہم راستوں میں سے ایک ہے۔سات آٹھ سال قبل امیر یورپی ریاستوں کی طرف جانے سے پہلے تقریباً 10 لاکھ افراد اس کے جزیروں پر پہنچے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق امسال سات ہزار سے زیادہ مہاجرین اور تارکین وطن یورپ کے فرنٹ لائن ممالک میں پہنچے جن کی اکثریت اٹلی میں پہنچی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس سال بحیرہ روم میں ایک ہزار افراد ہلاک یا لاپتہ ہوچکے ہیں۔گزشتہ ماہ یونانی حکومت کو ایک ویڈیو فوٹیج پر بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں مبینہ طور پر سمندر میں بہہ جانے والے تارکین وطن کو زبردستی بے دخل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔بہر حال تارکین وطن کی کشتی کاتازہ حادثہ نہایت افسوس ناک ہے۔اس میں سب سے بڑی غلطی تو اپنے ممالک سے چوری چھپے فرار ہو کر یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے ان تارکین وطن کی اپنی ہے کہ جو اپنی جان جیسی قیمتی ترین متاع کی بھی پرواہ کیے بغیر بہرصورت یورپ کی ”جنت“میں جانا چاہتے ہیں لیکن دوسری جانب اس میں تارکین وطن کوورغلانے والے ایجنٹوں اورانسانی سمگلروں اور تارکین وطن کی اپنی حکومتوں کا بھی بڑا عمل دخل ہے جن کی ناقص منصوبہ بندی کے سبب یہ لوگ اپنے ملک سے کہیں اور جانکلتے ہیں۔ اس لیے حکومتوں کو بھی مضبوط لائحہ اپنانا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ تارکین وطن کو بھی اپنے اوراپنے خاندان کی خاطر ایسی خطرناک مہم جوئی سے گریز کرنا ہوگا۔پاکستانی حکومت اس سانحہ کی شفاف انکوائری کروائے اورانسانی سمگلروں کو نشانِ عبرت بنائے۔
مہنگائی کاعذاب اورغریب عوام
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ عوام کیلئے ایک کڑی آزمائش ہے۔اب تو مہنگائی نے صرف غریب کو ہی نہیں بلکہ ہرطبقے کو متاثر کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح 0.20 فیصد بڑھ گئی۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جاری ہفتہ وار رپورٹ میں کہا گیا کہ مہنگائی کی مجوعی شرح 34.96 فیصد پہنچ گئی۔ 19 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ‘ 12 اشیائکی قیمتوں میں کمی اور 20 اشیائکی قیمتیں مستحکم رہیں۔ چینی کی فی کلو قیمت میں 5 روپے کا اضافہ ہوا۔ آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 35 روپے‘ مٹن کے گوشت‘ گڑ‘ دال ماش کی فی کلو قیمت میں 5 روپے اضافہ ہوا۔ چاول‘ ٹماٹر‘ آلو بھی مہنگے ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔ دہی کی فی کلو قیمت تین روپے روپے بڑھ گئی۔ پیاز فی کلو 5 روپے کم‘ کیلے فی درجن 11 روپے‘ انڈے فی درجن 13 روپے سستے ہوئے۔ دال مونگ 6 روپے‘ دال چنا 4 روپے اور دال مسور 1 روپے سستی ہوئی۔ ایل پی جی‘ ویجی ٹیبل آئل گھی بھی سستا ہونے والی اشیاء میں شامل ہے۔عالمی سطح پر گرانی، ڈالر کا بے قابو ہونا اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر عملدرآمد کے بعد مہنگائی کسی آسیب کی طرح پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ حکومت کے ساتھ تمام سٹیک ہولڈرز کو بھی چاہئے کہ وہ بڑھتی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کچھ اقدامات کریں اور عوام کو زندہ رہنے کاحق دیں۔اس وقت اتحادی حکومت مختلف ممالک سے معاہدے کررہی ہے جوکہ خوش آئند ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک عام آدمی کوفوری ریلیف دینے کے لیے حکومت اشیائے ضروریہ کی قیمتیں فوری طور پرکم کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex