کالم

میں کروں تو آخر کیا کروں ؟

تحریر: مانور غضنفر

مانا جاتا ہے کے اگر کسی ملک کے بچے سلامت رہیں تو امید زندہ رہتی ہے اور بزرگ سلامت رہیں تو سمجھداری ۔
اسی بات کے بارے میں میں نے سوچا تو بہت تھا مگر آج کل جو حالات پاکستان کے چل رہے ہیں مشکل ہی لگ رہا ہے کسی امید کا اس ملک میں ٹکے رہنا۔ مجھ میں بھی بہت جذبہ تھا پڑھ لکھ کر اپنے ملک میں رہتے ہوئے اسکی خدمت کرنے کا مگر یہ جذبہ کل صبح ختم ہو گیا ۔
اب تو بس ایسے موقع کی تلاش میں ہوں کے ملک چھوڑ دوں اور اپنے گھر والوں کو بھی لے نکلوں۔ مڈل کلاس بندے کے لیے یہاں رہنا ناممکن سا ہوتا جا رہا ہے۔ آج سے 4 ماہ پہلے میرے ابا نے کہا تھا وقت قریب ہے جب ہاتھ میں پیسا تو ہو گا مگر کھانے کو روٹی نہیں ملے گی اور اب ایسا ہی ہو رہا ہے۔
اب تو اسی انتظار میں ہوں اپنی تعلیم مکمل کروں اور یہاں سے ہجرت کر لوں مگر دکھ یہ بھی ہے اس کام کے لیے بھی اچھی خاصی رقم درکار ہے، یہ ہم مڈل کلاس لوگوں کی تکالیف ہیں ۔
جہاں تک مجھے لگتا ہے ہمارے معاشرے کے دو لوگ سکون میں ہوں گے۔ ایک امیر ترین اور ایک غریب ترین جو جھگیوں میں رہتے ہیں جب دل چاہا جہاں چاہا ڈیرہ ڈال لیا ۔
امیروں کے پاس ویسے ہی بہت مال ہوتا ہے انکو پتا ہوتا ہے جب چاہا خرچ کر لیا اور چند پیسے خرچ کرنے سے انکے خزانے میں کون سا فرق آنے والا ہے۔
پستے تو ہم مڈل کلاس لوگ ہیں ، روز اس سوچ فکر کو لے کر سوتے ہیں کے کب کچھ بڑا کر دکھانے کا موقع ملے گا،کب کریر سیٹ ہو گا، امی کو اچھا جوڑا دلوانا ہے، ابا پردیس میں ہے انکو واپس بلانا ہے، بہن کو جوتے پسند آئے ہیں وہ گفٹ دینا ہے بھائی کو اسکے پسند کا کھانا کھلانا ہے۔ کل یونیورسٹی جانا ہے اماں سے رینٹ مانگنا ہے، اپنی شادی کے خرچے میں ابا کا ہاتھ بٹانا ہے وغیرہ ۔
سوچا تو تھا پڑھ لکھ کر ملک کے لیے کام کروں گی مگر اب بس اسی سوچ میں ہوں پڑھ لکھ کر یہاں سے بھاگ نکلوں، اور میں بھی جانتی ہوں آپ سب بھی یہ ہی چاہتے ہیں ہاں چاہت تب پیدا ہو گی اگر آپ بھی میری طرح مڈل کلاس گھر کی امید ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex